
لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے "مفادات کے ٹکراؤ” (Conflict of Interest) کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کرتے ہوئے قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن سرفراز احمد اور ویمن ٹیم کے مینٹور وہاب ریاض کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں کسی بھی قسم کی ذمہ داری نبھانے سے روک دیا ہے۔
اہم وجوہات اور پس منظر
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ بورڈ کی اس پالیسی کے تحت کیا گیا ہے جس میں پی سی بی کے مستقل ملازمین کو کسی نجی لیگ یا فرنچائز کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
-
ملازمت کی نوعیت: سرفراز احمد اور وہاب ریاض اس وقت پی سی بی کے فل ٹائم ملازمین ہیں۔
-
سابقہ وابستگی: دونوں سابق کرکٹرز پی ایس ایل فرنچائز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی مینجمنٹ کا حصہ رہے ہیں۔
-
بورڈ کا موقف: بورڈ کا ماننا ہے کہ سلیکشن کمیٹی یا اہم عہدوں پر موجود افراد کا کسی فرنچائز سے منسلک ہونا شفافیت پر سوالات اٹھا سکتا ہے۔
مستقبل پر اثرات
کرکٹ حلقوں میں اس فیصلے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پی سی بی کی گورننس میں بہتری آئے گی اور مستقبل میں دیگر عہدیداروں کے لیے بھی یہی معیار مقرر کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد اب سرفراز اور وہاب پی ایس ایل کے آئندہ سیزن میں اپنی فرنچائز کو خدمات فراہم نہیں کر سکیں گے۔


