ایران امریکہ کشیدگی پاکستان ثالث: عاصم منیر کا ٹرمپ کو فون

Donald Trump, Shehbaz Sharif, and Field Marshal Asim Munir: Pakistan
ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان متحرک: فیلڈ مارشل عاصم منیر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان اہم سفارتی رابطوں کی ایک جھلک۔

تحریر: بیورو رپورٹ، UrduDesk.com

اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔ تاہم، اس سنگین صورتحال میں پاکستان ایک "گلوبل پلیئر” کے طور پر ابھرا ہے۔ ایران امریکہ کشیدگی پاکستان ثالث برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز اور امریکی جریدے ایکسیوس کی حالیہ رپورٹس نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا ہے، جن کے مطابق پاکستان اس وقت امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرانے کے لیے ‘مرکزی ثالث’ (Lead Mediator) کا کردار ادا کر رہا ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ڈونلڈ ٹرمپ: ایک اہم رابطہ

اس سفارتی مشن کی سب سے اہم کڑی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والا ٹیلیفونک رابطہ ہے۔ اتوار کے روز ہونے والی اس گفتگو میں علاقائی سلامتی اور ایران کے ساتھ جاری تصادم کو روکنے پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس نے اس کال کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے اور اسے ‘حساس سفارتی معاملہ’ قرار دیا ہے، لیکن ماہرین اسے ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس رابطے کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے ایران کے بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی اپنی دھمکی کو 5 دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ تہران کے ساتھ "مثبت اور نتیجہ خیز” بات چیت ہوئی ہے، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پاکستان کی پسِ پردہ سفارتکاری رنگ لا رہی ہے۔

اسلام آباد میں ممکنہ ‘منی سمٹ’: جے ڈی وینس اور کشنر کی آمد؟

اسرائیلی حکام اور امریکی ذرائع کے مطابق، پاکستان نے اسلام آباد کو مذاکرات کے مقام کے طور پر پیش کیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رواں ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس منعقد کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

  • امریکی وفد: اس اجلاس میں امریکہ کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور سابق صدر کے مشیر جیرڈ کشنر کر سکتے ہیں۔

  • ایرانی وفد: ایران کی جانب سے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور دیگر اعلیٰ حکام کی شرکت متوقع ہے۔

  • علاقائی شراکت دار: ترکیہ اور مصر بھی ان مذاکرات میں سہولت کار کے طور پر شامل ہو سکتے ہیں۔

مودی کے شائننگ انڈیا کا پول کھل گیا: بھارتی معیشت زوال پذیر: یہ بھی پڑھیں

وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر سے گفتگو

فوجی قیادت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سیاسی قیادت بھی مکمل طور پر متحرک ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر طویل گفتگو کی۔ وزیراعظم نے ایرانی عوام کو عید الفطر اور نوروز کی مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ موجودہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایرانی صدر پر زور دیا کہ خطے کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری ہی واحد راستہ ہے۔ ایرانی صدر نے بھی پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان موجود اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان کا کردار اتنا اہم کیوں ہے؟

عالمی تجزیہ کاروں، جن میں صنم وکیل شامل ہیں، کا ماننا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک منفرد پوزیشن میں ہے۔ اس کی چند وجوہات درج ذیل ہیں:

  1. غیر جانبداری: امریکی اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان کی سرزمین پر امریکی فوجی اڈے موجود نہیں، جس کی وجہ سے ایران پاکستان کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔

  2. فوجی تعلقات: پاکستان کی فوجی قیادت کے تہران کے ساتھ مضبوط دفاعی مراسم ہیں اور ساتھ ہی ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بھی ان کے روابط بہترین ہیں۔

  3. ترکیہ اور مصر کا اعتماد: ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی مسلسل پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ رابطے میں ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ خطے کی بڑی طاقتیں پاکستان کے کردار پر بھروسہ کر رہی ہیں۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سعودی عرب کا اعلیٰ ترین قومی اعزاز عطا: یہ بھی پڑھیں

ایران اور امریکہ کا موقف

اگرچہ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے "دوست ممالک” کے ذریعے مذاکرات کے پیغامات ملنے کی تصدیق کی ہے، تاہم ایرانی سرکاری میڈیا تاحال براہِ راست مذاکرات کی تردید کر رہا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب اب بھی عسکری ردِعمل کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے انفراسٹرکچر پر حملہ ہوا تو وہ پورے خطے کی توانائی اور پانی کے منصوبوں کو نشانہ بنائے گا۔ دوسری طرف، امریکی ایلچی جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف پسِ پردہ پاکستانی حکام کے ذریعے ایران تک اپنے پیغامات پہنچا رہے ہیں۔

نتیجہ: کیا جنگ ٹل جائے گی؟

اگرچہ یہ سفارتی کوششیں ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور کسی حتمی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آ رہے، لیکن پاکستان کا اس سطح پر متحرک ہونا ایک بڑی کامیابی ہے۔ ماضی میں عمان اور قطر یہ کردار ادا کرتے رہے ہیں، لیکن اس بار پاکستان نے اپنی تزویراتی (Strategic) اہمیت کو ثابت کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات یہ طے کریں گے کہ آیا مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم ہوگا یا یہ خطہ ایک ایسی بڑی جنگ میں جھونک دیا جائے گا جس سے نکلنا مشکل ہو جائے گا۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ نہ صرف اپنے پڑوسی ملک ایران کو بڑی تباہی سے بچائے بلکہ عالمی سطح پر ایک "امن دوست” ملک کے طور پر اپنا وقار بھی بلند کرے۔

عالمی میڈیا کی رپورٹنگ: یہ بھی پڑھیں


مزید پڑھیں: UrduDesk.com پر تازہ ترین عالمی خبریں اور تجزیے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے