زیادہ نمک کا استعمال دل کی ناکامی کا سبب: نئی تحقیق میں انکشاف

نمک کے زیادہ استعمال اور دل کی بیماریوں کے درمیان تعلق پر مبنی ایک معلوماتی تھمب نیل جس میں انسانی دل اور نمک دانی دکھائی گئی ہے۔
وینڈربلٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق نمک کی زیادتی دل کی ناکامی کا براہِ راست سبب بن سکتی ہے۔

تحریر: ادارہ اردو ڈیسک

دنیا بھر میں ماہرینِ صحت غذا میں زیادہ نمک کا استعمال کرنے والوں کو بلڈ پریشر اور گردوں کی بیماریوں سے خبردار کرتے آئے ہیں، لیکن اب ایک نئی طبی تحقیق نے دل کے حوالے سے انتہائی سنگین خطرات کی نشاندہی کی ہے۔ وینڈربلٹ یونیورسٹی کے محققین کے مطابق، نمک کی زیادتی نہ صرف فشارِ خون بڑھاتی ہے بلکہ یہ براہِ راست دل کی ناکامی (Heart Failure) کا سبب بن رہی ہے۔

تحقیق کے حیرت انگیز نتائج

جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی ایڈوانسز میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 25 ہزار 300 سے زائد افراد کا مطالعہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ روزمرہ زندگی میں زیادہ نمک کا استعمال کرتے ہیں، ان میں دل کی نئی بیماریوں کے پیدا ہونے کا خطرہ 15 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق:

  • شرکاء اوسطاً 4269 ملی گرام نمک استعمال کر رہے تھے، جو کہ تجویز کردہ مقدار (2300 ملی گرام) سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔

  • خوراک میں ہر اضافی 1000 ملی گرام نمک دل کی ناکامی کے خطرے میں 8 فیصد اضافہ کرتا ہے۔

  • یہ خطرہ اس وقت بھی برقرار رہتا ہے جب موٹاپا، کولیسٹرول اور ہائی بلڈ پریشر جیسے دیگر عوامل موجود نہ ہوں۔

کیا نہار منہ نمک ملا پانی پینا محفوظ ہے؟

سوشل میڈیا پر اکثر وائرل ہونے والے ٹوٹکوں میں نہار منہ نمک ملا پانی پینے کے فوائد بتائے جاتے ہیں، لیکن طبی نقطہ نظر سے زیادہ نمک کا استعمال کسی بھی صورت میں ہو، وہ نقصان دہ ہے۔ صبح سویرے نمک کا پانی پینے سے جسم میں سوڈیم کی سطح اچانک بڑھ جاتی ہے جو دل اور گردوں پر غیر ضروری دباؤ ڈالتی ہے۔

صحت مند دل کے لیے ماہرین کے مشورے

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، دل کو صحت مند رکھنے کے لیے روزانہ سوڈیم کی مقدار کو 2300 ملی گرام تک محدود رکھنا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نمک کے استعمال میں معمولی سی کمی بھی دل کی بیماریوں کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے۔

کم آمدنی والے طبقات کے لیے ایک بڑا چیلنج صحت مند خوراک تک رسائی ہے، کیونکہ سستی اور ڈبہ بند غذاؤں میں نمک کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ تازہ سبزیوں، پھلوں اور گھر کے بنے کھانوں کو ترجیح دیں تاکہ زیادہ نمک کا استعمال آپ کی زندگی کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے