پشاور اسکول سانحہ: "21 سال بعد پیدا ہونے والا اکلوتا بیٹا بھی چھین لیا گیا” – ناقص تعمیر نے 34 سے زائد جاں بحق بچوں کے لواحقین کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا

Peshawar school roof collapse site showing debris and grief-stricken parents demanding justice in KP Pakistan.
پشاور سانحہ: دیر کالونی اسکول کی چھت گرنے کے حادثے میں جاں بحق معصوم بچوں کے لواحقین کا اسکول کے باہر احتجاج، ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین سزا کا مطالبہ۔

پشاور (ویب ڈیسک): خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی دیر کالونی میں واقع نجی اسکول کی چھت گرنے کے دلخراش سانحے کے بعد متاثرہ بچوں کے غم سے نڈھال لواحقین نے انصاف کے حصول کے لیے اسکول کے باہر شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین کا شدید الفاظ میں مطالبہ ہے کہ ناقص میٹریل اور مجرمانہ غفلت کے ذمہ داروں کو فوری سخت سے سخت سزا دی جائے۔

آہ و زاری اور دل دہلا دینے والے مناظر

اسکول کے باہر احتجاج کرنے والے والدین اور لواحقین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔

  • 11 سالہ حماد کے چچا محمد وہاب (جو پیشے کے اعتبار سے درزی ہیں) نے روتے ہوئے کہا: "ہمارا بچہ چلا گیا، لیکن اب ہم تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ان تمام معصوم بچوں کے والدین کو انصاف نہیں مل جاتا۔”

  • 10 سالہ عبدالصير کے والد جن کی آنکھوں سے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے، نے بتایا کہ عبدالصير ان کی 21 سالہ منتوں اور مرادوں کے بعد پیدا ہونے والا اکلوتا بیٹا تھا، جسے انہوں نے ناز و نعم سے پالا تھا، لیکن اس حادثے میں وہ اپنے دوست سمیت ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گیا۔

  • ایک اور دلبرداشہ والد اسد اللہ نے انکشاف کیا کہ اس قیامت خیز حادثے میں ان کا بیٹا، بھتیجا اور تین دیگر قریبی رشتہ دار بچے شہید ہو گئے۔

ناقص تعمیر اور مجرمانہ غفلت کا انکشاف

حادثے کے فوراً بعد آغا میر جانی شاہ تھانے میں عمارت کے ٹھیکیدار، مالکان اور شیئر ہولڈرز کے خلاف مقدمہ (FIR) درج کر لیا گیا ہے۔

  • ایف آئی آر کے مطابق: اسکول عمارت کی تعمیر میں انتہائی ناقص اور غیر معیاری میٹریل استعمال کیا گیا تھا۔

  • شکایات کو نظر انداز کیا گیا: بچوں کے والدین اور علاقے کے لوگوں نے اسکول انتظامیہ کو خستہ حال چھتوں اور دیواروں کی بابت پہلے بھی متعدد بار آگاہ کیا تھا، لیکن اسکول مالکان نے ان سنگین شکایات پر کوئی توجہ نہیں دی۔

  • زمین کا پس منظر: یہ اسکول 16 مرلے کے رقبے پر قائم تھا جسے 2024 میں لیز پر حاصل کر کے عمارت تعمیر کی گئی تھی۔

اعلیٰ حکام کے دورے اور انکوائری کا حکم

سانحے کے بعد گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزیر امیر مقام، صوبائی وزراء اور اقوام متحدہ (UN) کے غیر ملکی وفد نے متاثرہ اسکول کا دورہ کیا اور لواحقین سے تعزیت کی۔

  • 15 دن کی مہلت: گورنر کے پی نے واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو 15 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

عوام اور متاثرہ خاندانوں کا حکومت سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ صرف انکوائری کمیٹیوں اور تعزیتی بیان بازی تک محدود نہ رہا جائے بلکہ اسکول مالکان اور ٹھیکیدار کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے