وزن گھٹانے والی ادویات کے مضر اثرات؛ طبی ماہرین کا انتباہ

Illustration depicting weight loss pills, dietary supplements, and health warning icons related to Ozempic side effects.
وزن گھٹانے والی ادویات کے مضر اثرات کے باعث صارفین کا غذائی سپلیمنٹس کی طرف بڑھتا ہوا رجحان اور طبی ماہرین کا انتباہ۔

لاہور/واشنگٹن: وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی جدید ادویات کے صارفین میں غذائی سپلیمنٹس کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے، جس پر طبی ماہرین اور متعلقہ حکام نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکا میں غذائی سپلیمنٹس کی فروخت 2025 میں 74 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، اوزیمپک (Ozempic) اور ویگووی (Wegovy) جیسی مقبول ادویات کے استعمال کے دوران معدے اور آنتوں کے مسائل، شدید تھکن، متلی اور قبض جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مضر اثرات سے نمٹنے اور ریلیف حاصل کرنے کے لیے صارفین دھڑا دھڑ فائبر، پروٹین، کولیجن اور الیکٹرولائٹس جیسے غذائی سپلیمنٹس خرید رہے ہیں۔

دوسری جانب، سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی جانب سے ان مصنوعات کی اندھا دھند تشہیر پر طبی ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عام صارفین کو ان مصنوعات کے حقیقی اجزا، کوالٹی اور ان کے انسانی جسم پر پڑنے والے طویل مدتی اثرات کے بارے میں مکمل معلومات حاصل نہیں ہوتیں، جو صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔

طبی حلقوں نے زور دیا ہے کہ کسی بھی قسم کے سپلیمنٹس کے استعمال سے قبل مستند ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت سے مشاورت لازمی کی جانی چاہیے تاکہ صحت کو لاحق ہونے والے ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے