چہرے کی ایک تصویر سے موت اور کینسر کے خطرے کا اندازہ؟ مصنوعی ذہانت کی حیران کن پیش رفت نے نئے سوالات کھڑے کر دیے

AI face scanning model for cancer risk prediction and biological age analysis
مصنوعی ذہانت کا جدید ماڈل چہرے کے تجزیے سے کینسر کے مریضوں میں جانی خطرے کی پیش گوئی کر رہا ہے۔

اردو ڈیسک | خصوصی رپورٹ

مصنوعی ذہانت (AI) نے طب کی دنیا میں ایک بار پھر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جدید تحقیق میں چہرے کی تصویر سے مریض کی جسمانی حالت، حیاتیاتی عمر اور قلیل مدت میں موت کے خطرے کا اندازہ لگانے کی صلاحیت سامنے آئی ہے۔ بالخصوص کینسر کے مریضوں کے حوالے سے یہ پیش رفت اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کہ اگر ایسے نظام کی افادیت کی مزید تصدیق ہو جائے تو ڈاکٹر مریض کی حالت کے مطابق علاج، نگہداشت اور آئندہ کے طبی فیصلے زیادہ مؤثر انداز میں کر سکتے ہیں۔

تاہم، اس ٹیکنالوجی کے امکانات جتنے حیران کن ہیں، اس کے ساتھ وابستہ اخلاقی اور قانونی سوالات بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ کیا چہرے کی ایک تصویر کسی انسان کی زندگی کے باقی ماندہ عرصے کا قابلِ اعتماد اندازہ دے سکتی ہے؟ کیا ایسی پیش گوئی کی بنیاد پر علاج کے فیصلے کیے جا سکتے ہیں؟ اور اگر یہی ٹیکنالوجی بیمہ کمپنیوں یا آجروں کے ہاتھ لگ جائے تو عام شہریوں کی نجی زندگی اور بنیادی حقوق کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا؟

چہرے کی تصویر سے خطرے کی پیش گوئی کیسے ممکن ہے؟

روایتی طبی معائنے میں مریض کی عمر، بیماری کی نوعیت، خون کے ٹیسٹ، جسمانی کیفیت اور علاج کے ردِعمل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی بعض نئے نظام اس عمل میں ایک اضافی ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔ یہ چہرے کی تصویر میں موجود باریک بصری خصوصیات کا تجزیہ کرکے ایسے نمونوں کی شناخت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو عمر، جسمانی کمزوری یا صحت کے ممکنہ خطرات سے تعلق رکھتے ہوں۔

ان خصوصیات میں جلد کی ساخت، چہرے کے خدوخال اور آنکھوں کے گرد تبدیلیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ بعض اوقات یہ تبدیلیاں عمر بڑھنے، جسمانی کمزوری یا بیماری کے اثرات سے وابستہ ہوتی ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر کسی فرد کی صحت یا متوقع عمر کا قطعی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

یہاں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت چہرے پر نظر آنے والے اشاروں اور طبی نتائج کے درمیان شماریاتی تعلق تلاش کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صرف تصویر دیکھ کر کینسر کی تشخیص کر سکتی ہے یا کسی شخص کی موت کا وقت متعین کر سکتی ہے۔

حیاتیاتی عمر اور اصل عمر میں فرق

انسان کی اصل عمر اس کی تاریخِ پیدائش سے معلوم ہوتی ہے، جبکہ حیاتیاتی عمر سے مراد جسم کی مجموعی کیفیت اور عمر رسیدگی کی وہ سطح ہے جو اس کی جسمانی کارکردگی اور صحت کے مختلف اشاریوں سے ظاہر ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر، ایک ہی عمر کے دو افراد کی جسمانی حالت میں نمایاں فرق ہو سکتا ہے۔ ایک شخص صحت مند اور فعال زندگی گزار رہا ہو، جبکہ دوسرا متعدد بیماریوں یا جسمانی کمزوری کا شکار ہو۔ مصنوعی ذہانت ایسے فرق کو سمجھنے کے لیے چہرے کی تصویر سمیت مختلف معلومات کا تجزیہ کر سکتی ہے۔

تاہم، صرف چہرے کی ظاہری کیفیت حیاتیاتی عمر کا مکمل پیمانہ نہیں۔ روشنی، تصویر کے معیار، جینیاتی خصوصیات، جلد کی رنگت، طرزِ زندگی اور دیگر عوامل بھی نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ایسے ماڈلز کی طبی افادیت جانچنے کے لیے مزید تحقیق اور مختلف آبادیوں میں ان کی کارکردگی کا جائزہ ضروری ہے۔

کینسر کے مریضوں کے لیے یہ ٹیکنالوجی کیوں اہم ہو سکتی ہے؟

کینسر کے مریضوں کی حالت کا درست اندازہ لگانا علاج کے اہم ترین مراحل میں شامل ہے۔ بعض مریض علاج سے بہتر نتائج حاصل کرتے ہیں، جبکہ کچھ کی بیماری تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ ایسے حالات میں ڈاکٹروں کو یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ مریض کو کس نوعیت کا علاج دیا جائے، علاج کے ممکنہ فوائد کیا ہوں گے اور اس کے مضر اثرات کس حد تک برداشت کیے جا سکتے ہیں۔

اگر مصنوعی ذہانت کسی مریض میں قلیل مدت کے دوران سنگین طبی پیچیدگیوں کا زیادہ خطرہ ظاہر کرے تو یہ ڈاکٹر کے لیے مزید معائنے، علاج کے جائزے یا نگہداشت کی منصوبہ بندی کا اشارہ بن سکتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ طبی فوائد میں شامل ہیں:

  • خطرے کی بروقت شناخت: ایسے مریضوں کی نشاندہی میں مدد جنہیں فوری طبی توجہ درکار ہو سکتی ہے۔
  • علاج کے فیصلوں میں معاونت: مریض کی مجموعی حالت اور دیگر طبی معلومات کے ساتھ خطرے کے اندازے کو استعمال کرنا۔
  • سکون بخش نگہداشت: ان مریضوں کے لیے درد میں کمی، علامات پر قابو اور معیارِ زندگی بہتر بنانے کی منصوبہ بندی جنہیں اس کی ضرورت ہو۔
  • طبی وسائل کی بہتر تقسیم: زیادہ خطرے والے مریضوں کی ترجیحات طے کرنے میں اضافی معلومات فراہم کرنا۔

اس کے باوجود، کسی AI ماڈل کے نتیجے کو مریض کے علاج سے متعلق حتمی فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ نہ ہی صرف اس کی پیش گوئی کی بنیاد پر کیموتھراپی، ریڈی ایشن یا کسی دوسرے علاج کو روکنا مناسب ہوگا۔ ایسے فیصلے مریض کی مرضی، طبی شواہد اور ماہر معالج کی رائے کی روشنی میں کیے جانے چاہییں۔

تحقیق کے اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟

اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے سامنے آنے والی بعض رپورٹوں میں تقریباً چار کروڑ چہروں کی تصاویر پر تربیت یافتہ ماڈل اور 3,820 کینسر کے مریضوں پر آزمائش کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان رپورٹ شدہ اعداد و شمار کے مطابق، 122 مریضوں کو انتہائی بلند خطرے والے گروپ میں رکھا گیا، جن میں سے 64 افراد تصویر لینے کے 90 دن کے اندر انتقال کر گئے۔

اگر یہ اعداد و شمار متعلقہ اصل تحقیقی مطالعے سے درست طور پر مطابقت رکھتے ہیں تو یہ نتائج اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ چہرے کی تصویر سے حاصل ہونے والی معلومات بعض مریضوں میں قلیل مدتی خطرے کی شناخت میں مدد دے سکتی ہیں۔

تاہم، ان اعداد و شمار کی درست تشریح کے لیے چند سوالات کے جواب ضروری ہیں: ماڈل نے دوسرے مریضوں کے مقابلے میں کیسی کارکردگی دکھائی؟ کتنے مریضوں میں غلط پیش گوئی ہوئی؟ مریضوں کی بیماری کے مراحل اور دیگر طبی عوامل کیا تھے؟ اور کیا ان نتائج کی آزادانہ تحقیق میں بھی تصدیق ہوئی؟

صرف یہ جان لینا کہ ایک گروپ کے تقریباً 52 فیصد افراد 90 دن کے اندر انتقال کر گئے، ماڈل کی مجموعی درستگی ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ اس کے لیے حساسیت، مخصوصیت، غلط مثبت نتائج، غلط منفی نتائج اور دوسرے طبی پیمانوں کا جائزہ بھی ضروری ہے۔

اہم وضاحت: مذکورہ اعداد و شمار اور FAHR-Face نامی ماڈل سے متعلق دعووں کی اشاعت سے پہلے اصل تحقیقی مقالے اور متعلقہ ادارے کے مستند بیان سے تصدیق ضروری ہے۔ اس رپورٹ میں انہیں حتمی اور آزادانہ طور پر ثابت شدہ طبی حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔

سب سے بڑا سوال: کیا AI کسی انسان کی موت کا وقت بتا سکتی ہے؟

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ کسی مریض کے اگلے تین ماہ کے دوران انتقال کے زیادہ خطرے کی نشاندہی کرنا اور یہ بتانا کہ وہ کب فوت ہوگا، دو مختلف باتیں ہیں۔

طبی پیش گوئی عموماً امکانات اور خطرے کی سطح پر مبنی ہوتی ہے۔ اگر کوئی ماڈل کسی مریض کو بلند خطرے والے گروپ میں شامل کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی موت یقینی ہے۔ اسی طرح کم خطرے کی درجہ بندی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ مریض محفوظ ہے۔

غلط پیش گوئی کے نفسیاتی اثرات سنگین ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی مریض کو یہ بتایا جائے کہ اس کے پاس زندگی کے صرف چند ماہ باقی ہیں تو اس کی ذہنی صحت، خاندانی زندگی اور علاج سے متعلق فیصلے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، خطرے کو کم ظاہر کرنا ضروری علاج میں تاخیر کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

لہٰذا ایسے نتائج مریض تک پہنچانے کے لیے شفافیت، طبی مشاورت اور نفسیاتی معاونت کو اہمیت دینا ضروری ہے۔

بیمہ کمپنیاں، ملازمتیں اور نجی زندگی کو لاحق خطرات

مصنوعی ذہانت کی یہ صلاحیت صرف ہسپتالوں تک محدود نہیں رہ سکتی۔ اگر چہرے کی تصاویر سے صحت کے خطرات کا اندازہ لگانے والے نظام عام ہو گئے تو ان کے غلط استعمال کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

1۔ بیمہ کمپنیوں کی جانب سے امتیازی سلوک

خدشہ ہے کہ بعض بیمہ کمپنیاں مستقبل میں صارفین کی تصاویر یا چہرے کے تجزیے کو پریمیم مقرر کرنے یا بیمہ فراہم کرنے کے فیصلوں میں استعمال کرنے کی کوشش کریں۔ اگر کسی غیر مصدقہ الگورتھم کی بنیاد پر کسی شخص کو زیادہ خطرے والا قرار دے دیا جائے تو اسے مہنگا بیمہ خریدنے یا کوریج حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

2۔ ملازمت کے مواقع پر منفی اثرات

اگر آجر ملازمت کے امیدواروں کی تصاویر سے صحت یا متوقع عمر کے بارے میں اندازے لگانے لگیں تو یہ امتیازی بھرتی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ کسی شخص کی قابلیت اور کارکردگی کا فیصلہ اس کے چہرے کی بنیاد پر کرنا نہ صرف غیر منصفانہ ہوگا بلکہ اس سے روزگار کے مساوی مواقع بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

3۔ ذاتی معلومات کا تحفظ

چہرے کی تصویر شناخت سے متعلق حساس معلومات رکھتی ہے۔ اگر ایسی تصاویر کو کسی شخص کی اجازت کے بغیر جمع کیا جائے، طبی اندازوں کے لیے استعمال کیا جائے یا تیسرے فریق کے ساتھ شیئر کیا جائے تو رازداری کے بنیادی اصول متاثر ہو سکتے ہیں۔

4۔ الگورتھم میں ممکنہ تعصب

اگر کسی AI ماڈل کو محدود آبادی یا مخصوص نسلوں، عمر کے گروپوں اور جلد کی رنگت والے افراد کی تصاویر پر تربیت دی گئی ہو تو اس کی کارکردگی مختلف گروہوں میں یکساں نہیں رہ سکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس کی جانچ متنوع آبادیوں میں کی جائے اور نتائج کی باقاعدہ نگرانی ہو۔

یہ خدشات مستقبل کے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں؛ ان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے کہ تمام بیمہ کمپنیاں یا آجر لازماً ایسی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کریں گے۔

ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے کن اصولوں کی ضرورت ہے؟

ماہرین کے سامنے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ طبی جدت کے فوائد سے استفادہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے چند اقدامات اہم ہیں:

  • مریض کی باخبر رضامندی کے بغیر اس کی تصویر کو غیر متعلقہ مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
  • چہرے کے تجزیے پر مبنی طبی ماڈلز کی آزادانہ اور سائنسی جانچ کی جائے۔
  • مختلف عمر، جنس، جلد کی رنگت اور آبادیوں میں ماڈل کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔
  • مریضوں کی تصاویر اور طبی معلومات کو غیر مجاز رسائی اور تجارتی استحصال سے محفوظ رکھا جائے۔
  • کسی شخص کے علاج، بیمہ یا ملازمت سے متعلق اہم فیصلے صرف غیر مصدقہ AI پیش گوئی کی بنیاد پر نہ کیے جائیں۔
  • غلط پیش گوئی یا امتیازی سلوک کی صورت میں شکایت، نظرثانی اور قانونی چارہ جوئی کا مؤثر نظام موجود ہو۔

ان اقدامات کے بغیر ایسی ٹیکنالوجی طبی معاونت کے بجائے سماجی ناانصافی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

مستقبل: انسانی ڈاکٹر کا متبادل یا معاون؟

مصنوعی ذہانت طب میں نئے امکانات پیدا کر رہی ہے، لیکن ہر نئی صلاحیت کو فوری طور پر قابلِ اعتماد طبی حل سمجھ لینا درست نہیں۔ چہرے کی تصویر سے صحت اور موت کے خطرات کا اندازہ لگانے والے نظام اس وقت تک محدود اور محتاط استعمال کے متقاضی ہیں جب تک ان کی افادیت، درستگی اور مختلف آبادیوں میں کارکردگی کے بارے میں مضبوط شواہد دستیاب نہ ہوں۔

اصل کامیابی یہ نہیں ہوگی کہ کوئی مشین کسی شخص کو بلند خطرے والے گروپ میں شامل کر دے، بلکہ یہ ہوگی کہ اس معلومات سے مریض کو بروقت، بہتر اور زیادہ انسانی طبی نگہداشت فراہم کی جا سکے۔

نتیجہ: چہرے کی ایک تصویر سے بیماری اور موت کے خطرے کا اندازہ لگانے کی کوشش جدید طب کے لیے ایک اہم تحقیقی سمت ہو سکتی ہے، مگر اسے کسی فرد کی تقدیر کا حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس ٹیکنالوجی کی اصل قدر اسی وقت سامنے آئے گی جب سائنسی تصدیق، انسانی ہمدردی، مریض کی رضامندی اور قانونی تحفظ کو اس کے استعمال کی بنیاد بنایا جائے گا۔

اردو ڈیسک — ٹیکنالوجی، صحت اور معاشرے کے اہم موضوعات پر مستند اور متوازن رپورٹنگ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے