انسانی جسم کا درجۂ حرارت زندگی کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جسم کے اندر موجود نظام مسلسل اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ درجۂ حرارت ایک متوازن سطح پر رہے تاکہ تمام اعضاء درست طریقے سے کام کر سکیں۔
نارمل جسمانی درجۂ حرارت
عام طور پر صحت مند انسان کا جسمانی درجۂ حرارت 36.5 سے 37.5 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہوتا ہے۔ ایسے افراد کو ہمودرمی (Homeotherms) کہا جاتا ہے، یعنی وہ جاندار جن کا جسم بیرونی ماحول کے بدلنے کے باوجود اپنا درجۂ حرارت تقریباً ایک جیسا رکھتا ہے۔
جسم کا درجۂ حرارت کیسے قابو میں رہتا ہے؟
دماغ کا ایک حصہ، جسے ہائپو تھیلمس کہا جاتا ہے، جسم کے تھرمو سٹیٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ جب جسم ٹھنڈا ہونے لگتا ہے تو:
-
کپکپی شروع ہو جاتی ہے
-
خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں
-
جسم زیادہ حرارت محفوظ کرنے لگتا ہے
اور جب جسم زیادہ گرم ہو تو:
-
پسینہ آتا ہے
-
خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں
-
اضافی حرارت خارج ہو جاتی ہے
درجۂ حرارت کم ہو جائے تو کیا ہوتا ہے؟
اگر جسم کا درجۂ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہو جائے تو اس کیفیت کو ہائپوتھرمیا کہا جاتا ہے۔ یہ حالت خاص طور پر سرد موسم، برفانی علاقوں یا زیادہ دیر تک ٹھنڈے پانی میں رہنے سے پیدا ہو سکتی ہے۔
ہائپوتھرمیا کی علامات
-
شدید سردی لگنا
-
بولنے میں دقت
-
ذہنی الجھن
-
دل کی دھڑکن سست ہونا
-
بے ہوشی
خطرناک سطحیں
-
32 ڈگری: دماغی صلاحیت متاثر ہونا شروع
-
30 ڈگری: بے ہوشی کا خطرہ
-
28 ڈگری یا کم: دل بند ہونے کا شدید خدشہ
سرد موسم میں احتیاط کیوں ضروری ہے؟
سرد علاقوں میں اسکیئنگ، برفانی سفر یا بارش میں بھیگنے کے دوران جسم تیزی سے حرارت کھو دیتا ہے۔ گیلا لباس، تیز ہوا اور تھکن خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔
ابتدائی طبی امداد (First Aid)
اگر کسی شخص میں ہائپوتھرمیا کی علامات ہوں تو:
-
اسے فوراً گرم جگہ پر منتقل کریں
-
گیلا لباس اتار کر خشک کپڑے پہنائیں
-
کمبل یا جیکٹ سے ڈھانپیں
-
گرم (لیکن بہت گرم نہیں) مشروبات دیں
-
شدید حالت میں فوراً طبی امداد حاصل کریں
⚠️ اہم نوٹ: بے ہوش مریض کو منہ سے کچھ نہ پلائیں۔
طبی علاج
شدید ہائپوتھرمیا میں:
-
جسم کو آہستہ آہستہ گرم کیا جاتا ہے
-
گرم آکسیجن اور گرم سیال (IV fluids) دیے جاتے ہیں
-
دل اور سانس کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے
کیوں جان لیوا ہو سکتا ہے؟
کم درجۂ حرارت پر:
-
دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے
-
خون جمنے لگتا ہے
-
دماغ کو آکسیجن کم ملتی ہے
اسی لیے بروقت علاج نہ ہو تو یہ کیفیت جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
احتیاطی تدابیر
-
سرد موسم میں مناسب گرم لباس پہنیں
-
گیلا ہونے سے بچیں
-
بچوں اور بزرگوں کا خاص خیال رکھیں
-
نشہ آور اشیاء سردی میں خطرہ بڑھا دیتی ہیں
خلاصہ
انسانی جسم کا متوازن درجۂ حرارت زندگی کی بنیاد ہے۔ سردی میں ذرا سی لاپرواہی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے آگاہی، احتیاط اور بروقت طبی مدد بے حد ضروری ہے۔

