اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 10 روپے کے کاغذی نوٹ کو ختم کرکے اس کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اقدام سے قومی خزانے کو طویل المدتی بنیادوں پر 40 سے 50 ارب روپے تک کی ممکنہ بچت ہو سکتی ہے۔
یہ معاملہ گزشتہ ماہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں زیر بحث آیا تھا، جس کے بعد وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ کرنسی مینجمنٹ سے متعلق مکمل رپورٹ تیار کرے اور سفارشات پیش کرے کہ آیا 10 روپے کا نوٹ ختم کیا جانا چاہیے یا نہیں۔
10 روپے کے نوٹ کی کم عمر مسئلہ بن گئی
ذرائع کے مطابق 10 روپے کے کاغذی نوٹ کی اوسط عمر صرف 6 سے 9 ماہ ہے۔ چونکہ یہ نوٹ روزمرہ لین دین میں زیادہ استعمال ہوتا ہے، اس لیے جلد خراب ہو جاتا ہے اور بار بار نئی چھپائی کی ضرورت پیش آتی ہے۔
حکومتی تخمینوں کے مطابق صرف 10 روپے کے نوٹ کی پرنٹنگ، ترسیل اور تبدیلی پر سالانہ 8 سے 10 ارب روپے تک خرچ آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت طویل المدتی حل تلاش کر رہی ہے۔
سکہ زیادہ پائیدار حل؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سکے کی تیاری کی ابتدائی لاگت نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، تاہم اس کی اوسط عمر 20 سے 30 سال تک ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک مرتبہ سکہ متعارف ہونے کے بعد دہائیوں تک دوبارہ تیاری کی ضرورت نہیں پڑتی۔
اس اقدام سے نہ صرف پرنٹنگ اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ کرنسی مینجمنٹ کے انتظامی مسائل بھی کم ہوں گے۔
اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کا کردار
ذرائع کے مطابق کرنسی مینجمنٹ رپورٹ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے قواعد و ضوابط کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔ رپورٹ وفاقی کابینہ کو ارسال کر دی گئی ہے، جہاں اس پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
کیا 10 روپے کا نوٹ فوری بند ہو جائے گا؟
فی الحال 10 روپے کے نوٹ کو فوری طور پر ختم کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی۔ اگر منظوری دی گئی تو ممکن ہے کہ کچھ عرصے تک نوٹ اور سکہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے رہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچانے کے لیے مرحلہ وار تبدیلی متعارف کرائی جا سکتی ہے۔
مختصر خلاصہ
حکومت 10 روپے کے کاغذی نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے، جس سے 40 سے 50 ارب روپے تک کی ممکنہ بچت ہو سکتی ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی۔
