لبنان پر اسرائیلی فوج کے حملوں میں شدت، ریسکیو اہلکار سمیت مزید 31 افراد شہید

بیروت: (ویب ڈیسک، UrduDesk.com)
لبنان پر اسرائیلی فوج کی جارحیت کا سلسلہ تھم نہ سکا، جمعہ کے روز جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر ہونے والے فضائی حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت کم از کم 31 افراد شہید ہو گئے۔ لبنانی حکام کے مطابق 2 مارچ سے جاری کشیدگی میں اب تک 2 ہزار 700 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
حملوں کی تفصیلات اور جانی نقصان
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فضائیہ نے ضلع صور کے علاقے طورا کو نشانہ بنایا جہاں دو بڑے حملوں میں 5 افراد شہید ہوئے۔ جائے وقوعہ پر ملبے تلے دبی ایک بچی کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے، تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایک اور افسوسناک واقعہ حسبیا ضلع میں پیش آیا جہاں اسرائیلی ڈرون نے کفرشوبا اور کفرحمام کو ملانے والی شاہراہ پر ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں سول ڈیفنس کا ایک اہلکار اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے شہید ہو گیا۔
دیگر متاثرہ علاقے
اسرائیلی طیاروں نے بنت جبیل اور نباتیہ اضلاع کے دیہاتوں پر بھی بمباری کی۔
السلطانیہ: یہاں ہونے والے حملے میں 4 افراد جاں بحق ہوئے۔
بنت جبیل و نباتیہ: دیگر فضائی حملوں میں مزید 5 افراد کی شہادت کی تصدیق ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2 مارچ کو اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد سے یہ اب تک کا سب سے خونریز دن قرار دیا جا رہا ہے۔
جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی
واضح رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان 17 اپریل کو ایک عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا، جس کی مدت میں بعد ازاں 17 مئی تک توسیع کی گئی تھی۔ تاہم، اس معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے نتیجے میں شہری آبادی اور امدادی کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار
لبنانی وزارتِ صحت اور متعلقہ حکام کے مطابق:
2 مارچ سے اب تک اموات: 2,700 سے زائد۔
زخمیوں کی تعداد: 8,000 سے زیادہ۔
حالیہ حملوں کے بعد لبنان کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری سے فوری مداخلت اور جنگ بندی کے مکمل نفاذ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
