کنتا وزن کم ہوا؟ مریم نواز کا Xبلنڈر

سوشل میڈیا جہاں عوامی رابطہ کاری کا ایک بہترین ذریعہ ہے، وہی یہ آپ کی سنجیدگی، عجلت پسندی اور ذہنی حاضری کا پول بھی کھول دیتا ہے۔ حال ہی میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ٹوئٹر (X) پر ایک عام صارف کی طنزیہ پوسٹ پر بغیر سوچے سمجھے اور بغیر پورا پڑھے جو ردعمل دیا، اس نے ان کی انتظامی صلاحیتوں اور سنجیدگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
پورا سچ جانے بغیر فیصلہ کرنے کی عادت
ایک صارف نے اپنے بھاری بھرکم کھانوں کی تصاویر کے ساتھ تفریحاً لکھا کہ انہوں نے پرہیز شروع کر دیا ہے اور آخر میں صاف لکھا کہ "اب بس اس جھوٹ بولنے کی عادت پر قابو پانا ہے”۔ مریم نواز نے جلدی بازی میں صرف اوپر کی دو لائنیں پڑھیں اور نیچے لکھی اصل بات اور تصاویر کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھ بیٹھیں، "کتنا وزن کم ہوا؟”
یہ محض ایک سوشل میڈیا کی غلطی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مخصوص مائنڈ سیٹ (Mindset) کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ محترمہ کو چیزوں کی گہرائی میں جانے، حقائق کو پورا پڑھنے اور پسِ منظر کو سمجھنے کی عادت ہی نہیں ہے۔ وہ صرف سطحی چیزیں دیکھ کر، یا یوں کہیے کہ "ہیڈ لائنز” دیکھ کر فوری فیصلے کرنے یا داد سمیٹنے کی عادی ہو چکی ہیں۔

تنقیدی سوالات: فائلیں بھی ایسے ہی دستخط ہوتی ہیں؟
سوشل میڈیا پر اس وقت مریم نواز پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے اور عوام کچھ جائز سوالات اٹھا رہے ہیں:
کیا سرکاری امور بھی اسی عجلت کا شکار ہیں؟ عوام یہ پوچھنے پر مجبور ہیں کہ جو وزیر اعلیٰ چند سطروں پر مشتمل ایک ٹویٹ پورا پڑھنے کا حوصلہ یا وقت نہیں رکھتیں، وہ پنجاب جیسے بڑے صوبے کے اربوں روپے کے منصوبوں، اہم سرکاری دستاویزات اور حساس سمریوں (Summaries) کو کس حد تک پورا پڑھتی ہوں گی؟ کیا وہاں بھی صرف اوپری سرخیاں دیکھ کر فائلیں آگے بڑھا دی جاتی ہیں؟
عوامی مسائل سے سطحی دلچسپی: یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کی موجودگی صرف ایک سستا ‘پبلک ریلیشنز’ (PR) اسٹنٹ ہے، جہاں وہ خود کو عوام کے قریب دکھانے کی کوشش تو کرتی ہیں لیکن ان کے پاس عوام کی بات کو پورا سننے یا سمجھنے کا وقت تک نہیں ہے۔
مشیروں کی فوج ظفر موج کا کیا کام؟ اگر وزیر اعلیٰ خود اتنی مصروف ہیں کہ وہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پورا مواد نہیں پڑھ سکتیں، تو ان کی میڈیا ٹیم اور سوشل میڈیا ہینڈلرز کیا سو رہے ہیں؟ کیا وہ اتنے بھی اہل نہیں کہ وہ اپنی لیڈر کو اتنے بڑے عوامی بلنڈر سے بچا سکیں؟
کسی عام انسان سے ایسی غلطی ہونا مضحکہ خیز ہو سکتا ہے، لیکن ایک ایسے صوبے کے سربراہ سے ایسی چوک ہونا تشویش ناک ہے جس کے فیصلوں پر کروڑوں عوام کی زندگیوں کا دارومدار ہے۔ مریم نواز شریف کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حکومت چلانا اور بیوروکریسی کو سنبھالنا کسی ٹوئٹر ٹرینڈ یا سطحی ٹک ٹاک ویڈیو کی طرح نہیں ہوتا۔ یہاں آدھی ادھوری معلومات پر لیے گئے فیصلے صوبے کو کسی بڑی کھائی میں بھی دھکیل سکتے ہیں۔ انہیں ٹوئٹر پر سستی واہ واہ سمیٹنے کے بجائے اپنی توجہ اور سنجیدگی کو بڑھانے کی سخت ضرورت ہے۔

