سمندر پار پاکستانیوں کا معاشی محاذ پر بڑا کارنامہ: اپریل میں 3.5 ارب ڈالرز وطن روانہ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اپریل کے مہینے میں ترسیلاتِ زر کے اعداد و شمار کی گرافک رپورٹ
اپریل میں سمندر پار پاکستانیوں نے 3.5 ارب ڈالرز وطن بھیج دیے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپریل 2026 کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر (Remittances) کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، سمندر پار پاکستانیوں نے ملکی معیشت کو مضبوط سہارا دیتے ہوئے اپریل میں مجموعی طور پر 3.5 ارب ڈالرز وطن بھیجے ہیں۔

سالانہ بنیادوں پر نمایاں اضافہ

اسٹیٹ بینک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس اپریل کے مقابلے میں رواں سال اسی ماہ کے دوران ترسیلاتِ زر میں 11.4 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم، مارچ 2026 کے مقابلے میں اپریل کے اعداد و شمار میں 7.6 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی ہے، جس کی بڑی وجہ عید کے موقع پر قبل از وقت رقوم کی منتقلی بتائی جا رہی ہے۔

رواں مالی سال کے مجموعی اعداد و شمار

مالی سال 2025-26 کے پہلے 10 ماہ (جولائی تا اپریل) کی مجموعی صورتحال انتہائی حوصلہ افزا رہی ہے۔ اس عرصے میں اب تک مجموعی طور پر 33 ارب 90 کروڑ ڈالرز پاکستان موصول ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ رقم 31 ارب 20 کروڑ ڈالرز تھی۔ یوں رواں مالی سال کے دوران اب تک مجموعی ترسیلات میں 8.5 فیصد سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔

ممالک کے لحاظ سے تفصیلات: سعودی عرب سرفہرست

سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجے گئے ڈالرز کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • سعودی عرب: ہمیشہ کی طرح سب سے زیادہ رقم سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے بھیجی، جو 84 کروڑ 17 لاکھ ڈالرز رہی۔

  • متحدہ عرب امارات: یہاں سے 73 کروڑ 47 لاکھ ڈالرز موصول ہوئے۔

  • برطانیہ: برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے 56 کروڑ 37 لاکھ ڈالرز روانہ کیے۔

  • امریکہ: امریکہ سے موصول ہونے والی رقم 31 کروڑ 76 لاکھ ڈالرز رہی۔

آئی ایم ایف پروگرام سے زائد ترسیلات

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں نے ایک بار پھر اپنی حب الوطنی کا ثبوت دیا ہے۔ اپریل میں آنے والے ڈالرز کی مقدار بین الاقوامی مالیاتی ادارے (IMF) کے پروگرام کے تحت متوقع اہداف سے بھی زائد رہی، جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے اور روپے کی قدر کو سہارا دینے میں انتہائی معاون ثابت ہوگی۔


تجزیہ کاروں کی رائے:

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ترسیلاتِ زر کا یہی تسلسل برقرار رہا تو پاکستان مالی سال کے اختتام تک اپنے طے شدہ اہداف کو آسانی سے حاصل کر لے گا، جس سے ملکی ادائیگیوں کے توازن میں بہتری آئے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے