’کو-کین ڈیلر پنکی گرفتار، عدالت میں اداکاراؤں جیسا پروٹوکول

کوکین ڈیلر پنکی کراچی سٹی کورٹ میں پولیس پروٹوکول کے ساتھ چل رہی ہے
بدنام زمانہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کو بغیر ہتھکڑی کے عدالت لایا گیا، جس پر آئی جی سندھ نے ایکشن لیا

کراچی: پولیس اور حساس اداروں کو چیلنج کرنے والی بدنام زمانہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزمہ کی عدالت میں بغیر ہتھکڑی اور وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ پیشی نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس پر آئی جی سندھ نے سخت ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ پولیس افسران کو معطل کر دیا ہے۔

گرفتاری اور برآمدگی کی تفصیلات

سول حساس ادارے نے کوکین سپلائی کے نیٹ ورک کی سربراہ انمول عرف پنکی کو گرفتار کر کے گارڈن پولیس کے حوالے کیا۔ ملزمہ شہر بھر میں کوکین اور دیگر مہلک نشہ فراہم کرنے والے ایک منظم گروہ کو آپریٹ کر رہی تھی۔ دورانِ تلاشی ملزمہ کے قبضے سے درج ذیل اشیاء برآمد ہوئیں:

  • کوکین: 1540 گرام تیار شدہ کوکین، جس کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جاتی ہے۔

  • خام مال: 6970 گرام دیگر کیمیکلز اور نشہ آور اشیاء۔

  • اسلحہ: ایک عدد 9 ایم ایم پستول بمعہ 10 گولیاں۔

  • دیگر سامان: موبائل فون، نقدی، بلینک چیکس اور نشہ پیک کرنے والی مخصوص ڈبیاں جن پر "Queen Madam Pinky Don” کے لیبل لگے ہوئے تھے۔

عدالت میں ’کیٹ واک‘ اور پروٹوکول

ملزمہ کو سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا تو منظر دیدنی تھا۔ خطرناک جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود:

  • ملزمہ کو بغیر ہتھکڑی پیش کیا گیا۔

  • وہ سن گلاسز اور ماسک لگائے، ہاتھ میں پانی کی بوتل پکڑے اس طرح چل رہی تھی جیسے کسی فلم کی شوٹنگ یا کیٹ واک کر رہی ہو۔

  • تفتیشی افسر ملزمہ کے آگے راستہ بناتا رہا اور اسے مکمل پروٹوکول فراہم کیا گیا۔

اس غیر معمولی سلوک پر آئی جی سندھ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے تین پولیس افسران (ایس آئی او ظفر اقبال، اے ایس آئی سعید احمد اور حنیف سیال) کو معطل کر کے ان کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

دورانِ تفتیش لرزہ خیز انکشافات

تصویر 1112382248-2.gif میں دی گئی تفصیلات کے مطابق ملزمہ نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ:

  • خریدار: اس کے گاہکوں میں پوش علاقوں کے بنگلوں میں رہنے والے امیر گھرانوں کے لڑکے لڑکیاں، جامعات کے طلبہ اور شوبز سے وابستہ شخصیات شامل ہیں۔

  • برانڈنگ: ملزمہ نے کوکین کا اپنا برانڈ بنا رکھا تھا، جس میں "گولڈ” نامی کوکین 40 ہزار روپے فی گرام تک فروخت کی جاتی تھی۔

  • شناخت چھپانے کے ہتھکنڈے: ملزمہ نے بائیو میٹرک شناخت سے بچنے کے لیے اپنی انگلیاں تیزاب سے جلا دی تھیں تاکہ پولیس ریکارڈ میں نہ آ سکے۔

  • مفرور: ملزمہ 13 سال سے جرائم کی دنیا میں سرگرم تھی اور گرفتاری سے بچنے کے لیے کراچی سے لاہور منتقل ہو گئی تھی۔

آڈیو پیغام: ’’پکڑ سکو تو پکڑ لو‘‘

گرفتاری کے بعد ملزمہ کا ایک مبینہ آڈیو پیغام بھی سامنے آیا ہے جس میں وہ پولیس کو طعنہ دیتے ہوئے کہتی ہے کہ "لائنوں میں بیٹھے رہو اور سوچو کہ پنکی کو کیسے پکڑنا ہے”۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ گرفتار ہو بھی گئی تو اس کا "کاروبار” چلتا رہے گا۔

فی الوقت عدالت نے ملزمہ کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے اور تفتیشی افسر سے آئندہ سماعت پر مقدمے کا چالان طلب کر لیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے