ٹرمپ کا سوشل میڈیا پر ’بنگ بنگ بونگ‘ دھماکہ

واشنگٹن / بیجنگ (نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر محض ایک گھنٹے کے دوران 50 سے زائد پیغامات کی بوچھاڑ کر کے دنیا بھر میں ایک نیا ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔ ان پیغامات میں مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ متنازع تصاویر، سیاسی مخالفین پر رکیک حملے اور غیر روایتی صوتی الفاظ کا استعمال شامل ہے، جس پر مشرق سے مغرب تک انہیں سخت تنقید اور جگ ہنسائی کا سامنا ہے۔
’بنگ، بنگ، بونگ‘ اور جنگی جنون
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹس میں اپنے مخصوص اور متنازع انداز میں ’’بنگ، بنگ، بونگ‘‘ (Bing, Bing, Bong) لکھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ الفاظ وہ اکثر اپنی تقریروں میں کسی عسکری کارروائی یا ہدف کو تیزی سے نشانہ بنانے کے لیے بطور صوتی اثرات (Sound Effects) استعمال کرتے ہیں۔ اس بار انہوں نے یہ الفاظ ایرانی بحری جہازوں اور کشتیوں کو نشانہ بنانے والی AI تصاویر کے ساتھ جوڑے، جس سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کا جارحانہ استعمال
ان پیغامات میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو سیاسی مخالفین کے خلاف تضحیک آمیز مواد تھا۔ صدر ٹرمپ نے ایسی تصاویر شیئر کیں جن میں:
سابق صدور کی تضحیک: باراک اوباما اور موجودہ حریف جو بائیڈن کو ایک گندے جوہڑ (سیوریج) میں نہاتے ہوئے دکھایا گیا اور ساتھ لکھا کہ "ڈیموکریٹس کو گندگی ہی پسند ہے”۔
معاشی برتری کا دعویٰ: ایک تصویر میں امریکی ڈالر پر صدر ٹرمپ کی اپنی تصویر چھپی ہوئی دکھائی گئی، جسے ان کے حامیوں نے پسند کیا مگر ماہرینِ معاشیات نے اسے "نرگسیت” کی انتہا قرار دیا۔
سازشی نظریات: ٹرمپ نے اپنے مخالفین کے خلاف کئی ایسے نظریات گھڑے جن کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں، تاہم ان کی وجہ سے سوشل میڈیا پر بحث و مباحثے کا طوفان برپا ہو گیا۔
دورہٴ چین اور عالمی ردعمل
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پیغامات ان کے دورہٴ چین سے عین قبل سامنے آئے ہیں۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے تبصرہ کیا کہ "ٹرمپ بیجنگ روانگی سے قبل پاگل پن والی باتیں کر کے توجہ بٹورنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
عالمی میڈیا نے اس رویے کو امریکی صدارت کے وقار کے منافی قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ خبروں میں رہنے کے لیے اخلاقی اور سفارتی حدود پار کر رہے ہیں، جبکہ ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ ان کا اپنا انداز ہے اور وہ اسی طرح اپنے دشمنوں کو خوفزدہ رکھتے ہیں۔
عوامی رائے: ’فن یا بڑھاپا؟‘
سوشل میڈیا پر عوام دو دھڑوں میں منقسم نظر آتی ہے:
پہلا گروہ: سمجھتا ہے کہ ٹرمپ کو میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کا "فن” آتا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ کس طرح عالمی بیانیے کو کنٹرول کرنا ہے۔
دوسرا گروہ: ان کے اس رویے کو ان کی عمر کا تقاضا اور "غیر سنجیدگی” قرار دے رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
فی الحال وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان پیغامات پر کوئی باقاعدہ وضاحت سامنے نہیں آئی، لیکن ٹرمپ کی اس ’ڈیجیٹل یلغار‘ نے عالمی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے۔
