1990ء تک پاکستان کی معاشی ترقی انڈیا اور بنگلہ دیش سے کہیں زیادہ تھی: ڈاکٹر عشرت حسین

Dr Ishrat Hussain former Governor State Bank of Pakistan talking about economic growth
سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین کا معاشی ترقی اور بیوروکریسی کے رویوں پر اہم بیان۔

لاہور (ویب ڈیسک): اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر اور نامور ماہرِ معاشیات ڈاکٹر عشرت حسین نے پاکستان کی ماضی کی معاشی ترقی اور بیوروکریسی کے موجودہ رویوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ماضی اور حال کا ایک چشم کشا موازنہ پیش کیا ہے۔

ایک حالیہ بیان میں سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین کا کہنا تھا کہ قیامِ پاکستان کے وقت ملک کے پاس بنیادی دفتری سامان تک موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا، "پاکستان بننے کے بعد ہمارے پاس نوٹس لینے کے لیے سیاہی اور دوات بھی نہیں تھی، لیکن اس کے باوجود ہم نے دن رات محنت کی اور 1990ء تک پاکستان کی معاشی ترقی (Growth Rate) 6 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔”

ڈاکٹر عشرت حسین نے خطے کے دیگر ممالک کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ جس دور میں پاکستان 6 فیصد کی رفتار سے ترقی کر رہا تھا، اس وقت بھارت کی معاشی ترقی کی رفتار 3 فیصد اور بنگلہ دیش کی محض 1 فیصد تھی۔ اس وقت دنیا بھر سے لوگ یہ دیکھنے آتے تھے کہ پاکستان اتنی تیزی سے کیسے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔

بیوروکریسی کے بدلتے رویوں پر تشویش

ماضی کے سرکاری افسران کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہوں نے موجودہ طرزِ عمل پر سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے بیوروکریٹس خلوصِ نیت کے ساتھ پاکستان کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے کام کرتے تھے، جس کی بدولت ملک آگے بڑھ رہا تھا۔

ڈاکٹر عشرت حسین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج بیوروکریسی کی ترجیحات یکسر بدل چکی ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا:

"آج کے بیوروکریٹس پاکستان کے لیے کام نہیں کرتے، بلکہ وہ اپنے اپنے پلاٹس، پرمٹس اور تنخواہوں کے لیے کام کرتے ہیں۔”

ماہرینِ معاشیات اور تجزیہ کاروں کے مطابق ڈاکٹر عشرت حسین کا یہ بیان ملکی نظام میں اصلاحات لانے اور بیوروکریسی کو دوبارہ عوامی خدمت اور ملکی ترقی کے ٹریک پر لانے کے لیے ایک اہم یاددہانی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے