"صحتِ عامہ کے انقلابی پیکیج” مہنگائی میں مزید اضافہ تاکہ عوام بیماریوں اور کاہلی سے بچ سکیں

حکومت کی مہنگائی اور عوامی فٹنس پر طنزیہ خبرِ مذاق کا تھمب نیل
آٹا، چینی، پٹرول یہ تمام چیزین انسانی صحت پر منفی اثرات ڈالی ہیں ہیں اس لئے حکومت نے ان کو مہنگا کر دیا ہے تاکہ عوام کم استعمال کریں

لاہور (خصوصی نمائندہ / خبرِ مذاق): حکومتِ وقت نے عوام کو موٹاپے، تن آسانی اور دیگر مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک بار پھر "صحتِ عامہ کے انقلابی پیکیج” کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت کو عوام کی صحت اپنی جیب سے زیادہ عزیز ہے، اس لیے ایسے سخت فیصلے مجبوری میں کرنا پڑتے ہیں۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق، ملک میں بڑھتے ہوئے سگریٹ نوشی کے رجحان کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا تاکہ لوگ پھیپھڑوں کی بیماریوں سے بچ سکیں۔ اب اسی فارمولے کو وسیع پیمانے پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

💡 کاہلی اور تن آسانی کا خاتمہ: بجلی اور پٹرول مہنگا!

حکومتی ترجمان کے مطابق، عوام میں "تن آسانی” (کاہلی) اور آرام پسندی کی عادت تشویشناک حد تک بڑھ چکی تھی، لوگ واک کرنے کے بجائے گاڑیوں اور بائیک کا استعمال کر رہے تھے۔

  • عوام کو پیدل چلنے اور فٹ رہنے کی ترغیب دینے کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں "حکمتِ عملی” کے تحت اضافہ کیا گیا ہے۔

  • اسی طرح، لوگ گرمیوں میں اے سی اور پنکھوں کے سامنے بیٹھ کر سست ہو جاتے تھے، لہذا انہیں کثرتِ پسینہ کے ذریعے جسم کے زہریلے مادے خارج کرنے (Detoxification) کا موقع دینے کے لیے بجلی کے ٹیرف میں بھی انقلابی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اب عوام بجلی کا بل دیکھ کر ہی پسینہ پسینہ ہو جاتے ہیں، جس سے جم (Gym) جانے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

🍔 موٹاپے اور شوگر کے خلاف جہاد: اشیاءِ خوردونوش آسمان پر!

ملک میں بڑھتے ہوئے موٹاپے اور شوگر کے مرض پر قابو پانے کے لیے حکومت نے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آٹا، چینی، دالیں اور دیگر اشیاءِ خوردونوش اتنی مہنگی کر دی ہیں کہ غریب تو دور، مڈل کلاس بھی "فاسٹنگ” (روزہ رکھنے اور ڈائیٹنگ) کی بہترین عادت اپنا چکی ہے۔

وزارتِ صحت کا اہم پیغام: "جب عوام کچھ خرید ہی نہیں پائیں گے، تو کھائیں گے کیا؟ اور جب کھائیں گے نہیں، تو موٹاپا اور کولیسٹرول خود بخود ختم ہو جائے گا۔ یہ ہے نیا اور سمارٹ پاکستان!”

🏃‍♂️ عوام کا ردِعمل:

اس عوامی پیکیج پر شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے انہیں واقعی "متحرک” کر دیا ہے۔ اب وہ دن رات صرف اس فکر میں دوڑتے بھاگتے نظر آتے ہیں کہ بجلی کا بل اور بچوں کی فیسیں کیسے پوری کرنی ہیں۔ حکومت کے اس اقدام سے عوام کی ‘بیماریوں’ سے جان چھوٹے نہ چھوٹے، لیکن مہنگائی کے جھٹکوں سے ‘جان’ چھوٹنے کے امکانات سو فیصد روشن ہو چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے