لاہور: کاہنہ ٹیوشن سنٹر حادثے میں بچ جانے والی خاتون ٹیچرعمیلہ کا ہسپتال سے اہم بیان جاری

لاہور (ویب ڈیسک)
لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک سانحے میں زخمی ہونے والی خاتونٹیچرعمیلہ نے ہسپتال سے اپنا پہلا ویڈیو بیان جاری کر دیا ہے، جس میں انہوں نے واقعے کی تفصیلات اور اپنے گھر کے ابتر مالی حالات کا ذکر کیا ہے۔
‘یہ سب اللہ کی طرف سے ہوا ہے، اندازہ نہیں تھا کہ چھت گر جائے گی’
لاہور جنرل ہسپتال میں زیر علاج خاتون ٹیچر عمیلہ نے اپنے ویڈیو بیان میں جذباتی انداز میں کہا کہ "یہ سب اللہ کی طرف سے ہوا ہے”۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے بارشوں کے باعث ان کے مکان کی چھت ٹپک رہی تھی۔ اسی وجہ سے انہوں نے چھت کی مرمت کا کام شروع کروایا تھا، لیکن انہیں ہرگز یہ اندازہ یا گمان نہیں تھا کہ یہ اقدام اتنے بڑے حادثے کا سبب بن جائے گا اور چھت اچانک گر جائے گی۔
غریب گھرانے کی کفالت: ‘شوہر ریڑھی لگاتے ہیں’
خاتون ٹیچر نے اپنے معاشی حالات کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے مالی حالات بالکل اچھے نہیں ہیں۔ گھر کا نظام چلانے اور دال روٹی کے لیے وہ گزشتہ دو سالوں سے اپنے ہی گھر میں چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہی تھیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے شوہر گھر کے قریب ہی ایک ریڑھی پر پھل فروخت کرتے ہیں اور وہ دونوں مل کر بمشکل زندگی کی گاڑی کھینچ رہے ہیں۔
واقعے کے روز کتنے بچے موجود تھے؟
ٹیچر عمیلہ کے مطابق:
ان کی اکیڈمی/ٹیوشن میں مجموعی طور پر 30 سے 35 بچے زیر تعلیم ہیں۔
تاہم، حادثے والے روز ٹیوشن سنٹر میں 20 سے 22 بچے موجود تھے جو چھت گرنے کی زد میں آئے۔
بیٹی کی صحت سے متعلق اپ ڈیٹ
خاتون ٹیچر نے بتایا کہ اس حادثے میں ان کی بیٹی بھی زخمی ہوئی تھی، تاہم اب اس کی حالت خطرے سے باہر اور بہتر ہے، جس کے بعد اسے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ ٹیچر عمیلہ نے نم دیدہ آنکھوں سے کہا کہ وہ خود ہسپتال میں زیر علاج ہونے کی وجہ سے ابھی تک اپنی بیٹی سے ملاقات نہیں کر سکی ہیں۔
واضح رہے کہ کاہنہ میں پیش آنے والے اس دردناک واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کی تھی، اور زخمیوں کو لاہور جنرل ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
