آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کل سے شروع، 9 جولائی کو مشہد میں تدفین

تہران / اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایران کے سابق سپریم کمانڈر اور رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور آخری رسومات کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ یہ رسومات ایران اور عراق کے 5 بڑے شہروں میں ادا کی جائیں گی جبکہ تدفین 9 جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد میں کی جائے گی۔
پاکستانی قیادت کی شرکت
وزیر اعظم شہباز شریف نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے آج ایران روانہ ہو رہے ہیں۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی گزشتہ روز (جمعرات کو) ایران روانہ ہو چکے ہیں۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف آج سے 5 جولائی تک ایران اور ترکیہ کا سرکاری دورہ بھی کریں گے۔
رسومات اور جنازے کا شیڈول
ایرانی حکام کے مطابق چھ روزہ آخری رسومات کا سلسلہ ہفتے کے روز سے شروع ہوگا اور اسے درج ذیل شیڈول کے مطابق ادا کیا جائے گا:
ہفتہ: تہران کے بڑے مصلیٰ کمپلیکس میں جسدِ خاکی عوام کے آخری دیدار کے لیے رکھا جائے گا۔
پیر: تہران کی سڑکوں پر جنازے کا مرکزی جلوس نکالا جائے گا۔
دیگر شہروں میں منتقلی: تہران کے بعد میت کو قم، اور پھر عراق کے شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا۔
تدفین: 9 جولائی کو جسدِ خاکی کو ان کے آبائی شہر مشہد لایا جائے گا جہاں ان کی تدفین ہوگی۔
سیکیورٹی ہائی الرٹ اور عالمی رہنماؤں کی آمد
تعزیتی تقریبات اور جنازے میں 1 کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا کے مطابق غیر ملکی شخصیات کی آمد کے پیشِ نظر ایرانی فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، سرحدوں پر گشت بڑھا دیا گیا ہے اور فضائی دفاعی نظام مسلسل فضائی حدود کی نگرانی کر رہا ہے۔
روس، چین اور پاکستان سمیت 30 سے زائد ممالک کے اعلیٰ حکام اور 90 ممالک کے مذہبی رہنما جنازے میں شرکت کریں گے۔
کوریج کے لیے 900 غیر ملکی صحافیوں سمیت 14,000 صحافیوں اور فوٹوگرافرز نے رجسٹریشن کرائی ہے۔
زائرین اور مہمانوں کی سہولت کے لیے 3 سے 6 جولائی تک تہران کے تمام ہوٹلوں کے کرایوں میں 50 فیصد ڈسکاؤنٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم شرکت کے حوالے سے اطلاعات
بھارتی ٹی وی چینل ‘انڈیا ٹوڈے’ سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر کے بھارت میں نمائندے آیت اللہ حکیم الہی نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی خدشات اور اسرائیل کی جانب سے ملنے والی مسلسل دھمکیوں کے باعث آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے، مجتبیٰ خامنہ ای کا عوامی سطح پر آنا مناسب نہیں سمجھا جا رہا اور وہ شاید نمازِ جنازہ میں شرکت نہیں کر پائیں گے۔
رپورٹس کے مطابق جس حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے، اسی حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای بھی زخمی ہوئے تھے اور تاحال منظرِ عام پر نہیں آئے۔ تاہم، ایرانی حکومت یا سپریم لیڈر کے ترجمان کی جانب سے اس دعوے کی تاحال کوئی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
