کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2025: پاکستان 136ویں نمبر پر، اسکور 28، عالمی اوسط سے کم
UrduDesk.com
اسلام آباد: Transparency International کی جانب سے جاری کردہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2025 میں پاکستان نے 100 میں سے 28 پوائنٹس حاصل کیے ہیں اور 182 ممالک میں 136ویں نمبر پر رہا ہے۔ عالمی اوسط اسکور 42 ہے جو پاکستان کے اسکور سے نمایاں طور پر زیادہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کو بدعنوانی کے تاثر کے حوالے سے اب بھی بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کا اسکور 2024 کے مقابلے میں ایک پوائنٹ بہتر ہوا ہے، کیونکہ گزشتہ برس یہ 27 تھا۔ تاہم عالمی درجہ بندی میں ملک ایک درجے نیچے چلا گیا ہے۔ 2024 میں پاکستان 135ویں نمبر پر تھا جبکہ 2025 میں 136ویں نمبر پر آ گیا۔ ماہرین کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس سال جائزہ لینے والے ممالک کی تعداد 180 سے بڑھ کر 182 ہو گئی ہے۔
پاکستان کی کارکردگی کا تاریخی جائزہ لیا جائے تو 2018 وہ سال تھا جب ملک نے 33 پوائنٹس کے ساتھ اپنی بہترین پوزیشن حاصل کی۔ اس کے بعد اسکور میں مسلسل کمی اور اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ 2019 میں اسکور 32، 2020 میں 31، 2021 میں 28، 2022 میں 27، 2023 میں 29، 2024 میں دوبارہ 27 اور 2025 میں 28 رہا۔ اس طرح پاکستان اب بھی اپنے بہترین اسکور سے پانچ پوائنٹس پیچھے ہے۔
جنوبی ایشیا کے تناظر میں دیکھا جائے تو بھارت نے 39 پوائنٹس کے ساتھ 91ویں نمبر پر جگہ بنائی ہے اور خطے میں نسبتاً بہتر پوزیشن حاصل کی ہے، جبکہ بنگلہ دیش 24 پوائنٹس کے ساتھ 150ویں نمبر پر موجود ہے۔ تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کا اسکور بھی عالمی اوسط 42 سے کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پورا خطہ بدعنوانی کے تاثر کے مسئلے سے دوچار ہے۔
عالمی سطح پر رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دو تہائی سے زائد ممالک کا اسکور 50 سے کم ہے۔ عالمی اوسط اسکور 42 کی کم ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بدعنوانی کے باعث صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور موسمیاتی تحفظ جیسے اہم شعبے متاثر ہوتے ہیں۔ کمزور احتسابی نظام اور ادارہ جاتی مسائل معاشی ترقی کو بھی متاثر کرتے ہیں اور سرمایہ کاری کے ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2012 سے اب تک دنیا بھر میں 829 صحافی قتل کیے جا چکے ہیں اور ان میں سے اکثریت ایسے ممالک میں قتل ہوئی جہاں کرپشن انڈیکس اسکور 50 سے کم تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بدعنوانی اور شفافیت کی کمی جمہوری نظام اور آزادی اظہار کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی عالمی درجہ بندی بہتر بنانے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات، احتسابی نظام کی مضبوطی، شفاف پالیسی سازی اور عدالتی عمل میں تیزی جیسے اقدامات کی ضرورت ہے۔ پائیدار ترقی اور بین الاقوامی اعتماد کے لیے بدعنوانی کے تاثر میں کمی بنیادی شرط سمجھی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ بعض ابتدائی رپورٹس میں پاکستان کا اسکور غلطی سے 27 شائع ہوا تھا، تاہم بعد ازاں تصحیح کرتے ہوئے درست اسکور 28 بتایا گیا۔

