نورجہاں سے مارگوٹ روبی تک ایک لازوال ہار کا سفر
برصغیر کی تاریخ میں محبت اور اقتدار کی داستانیں کم نہیں، مگر ایک ہار کی کہانی ایسی ہے جو چار صدیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ یہ صرف زیور نہیں بلکہ جذبات، سازشوں، سلطنتوں کے عروج و زوال اور عالمی شہرت یافتہ شخصیات کے گرد گھومتی ہوئی ایک حیران کن داستان ہے۔ یہی ہار بعد میں تاج محل ڈائمنڈ کے نام سے مشہور ہوا۔
نورجہاں: مہرالنساء سے سلطنت کی ملکہ تک
نورجہاں کا اصل نام مہرالنساء تھا۔ وہ ایرانی النسل تھیں، قندہار میں پیدا ہوئیں اور بعدازاں اپنے خاندان کے ساتھ ہندوستان آئیں۔ ان کی پہلی شادی علی قلی استجلو (شیرافگن) سے ہوئی، مگر قسمت نے انہیں مغل شہنشاہ کے محل تک پہنچا دیا۔
جب جہانگیر نے اقتدار سنبھالا تو نورجہاں ان کی بیسویں بیگم بنیں، مگر ذہانت اور اثرورسوخ کے اعتبار سے وہ سب سے نمایاں تھیں۔ ان کے نام کا سکہ جاری ہوا، دربار میں ان کا اثر نمایاں رہا اور کئی ثقافتی روایات انہی سے منسوب کی جاتی ہیں:
-
پان کی مقبولیت
-
خواتین کے لباس میں شمیز
-
چکن کڑھائی
-
سلیم شاہی جوتا
-
خوشبوؤں کا رواج
نورجہاں محض حسن کا استعارہ نہیں بلکہ سیاسی بصیرت اور ثقافتی جدت کی علامت تھیں۔
محبت کی نشانی: نادر ہار کی آمد
کہا جاتا ہے کہ جہانگیر اپنی محبوب ملکہ کے لیے ایک ایسا تحفہ چاہتے تھے جو ہمیشہ کے لیے محبت کی علامت بن جائے۔ اسی دوران اصفہان کا ایک جوہری دربار میں ایک نادر ہار لے آیا:
-
درمیان میں سرخ رنگ کا دل نما ہیرہ
-
اردگرد یاقوت جڑے ہوئے
-
سونے کی زنجیر
-
فارسی عبارت: محبت تاابد
جہانگیر نے وہ ہار اپنے ہاتھوں سے نورجہاں کے گلے میں پہنایا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک زیور تاریخ کا حصہ بن گیا۔
ممتاز محل کی خواہش اور تاج محل سے تعلق
ممتاز محل نے بھی اس ہار کو پسند کیا، مگر نورجہاں نے اسے دینے سے انکار کر دیا۔ ممتاز محل کی وفات 1631ء میں ہو گئی، لیکن ان کے شوہر شاہجہان کو وعدہ یاد رہا۔
1645ء میں نورجہاں کے انتقال کے بعد ہار شاہجہان کے پاس پہنچا اور انہوں نے اسے تاج محل میں ممتاز محل کی قبر کے سرہانے رکھ دیا۔ اسی نسبت سے اسے “تاج محل ڈائمنڈ” کہا جانے لگا۔
تاج محل میں یہ ہار 1666ء تک موجود رہا۔
جہاں آراء بیگم اور مغلیہ زوال
جہاں آراء بیگم کو یہ ہار ورثے میں ملا۔ وہ اپنے والد شاہجہان کی سب سے بااثر بیٹی تھیں اور سلطنت کے معاملات میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔
مگر مغلیہ سلطنت کے زوال کے ساتھ یہ ہار بھی گم نامی میں چلا گیا۔
یورپ کا سفر اور الزبتھ ٹیلر
1972ء میں یہ ہار اچانک منظر عام پر آیا جب مشہور فرانسیسی جیولری ہاؤس Cartier کے ذریعے اسے پیش کیا گیا۔
ہالی ووڈ کی لیجنڈ اداکارہ Elizabeth Taylor کے شوہر Richard Burton نے یہ ہار خرید کر انہیں تحفے میں دیا۔ الزبتھ ٹیلر نے اپنی اہم تقریبات میں اسے پہنا اور یہ عالمی شہرت اختیار کر گیا۔
2011ء میں الزبتھ ٹیلر کی وفات کے بعد یہ ہار تقریباً 8.8 ملین ڈالر میں نیلام ہوا۔
جدید دور: مارگوٹ روبی کے گلے میں
یکم فروری 2026ء کو لاس اینجلس میں فلم Wuthering Heights کے پریمیئر پر ہالی ووڈ اداکارہ Margot Robbie نے یہ تاریخی ہار پہن کر سب کو حیران کر دیا۔ کیمروں نے جب اسے فوکس کیا تو اس کے مرکز میں فارسی عبارت نمایاں تھی۔
صدیوں بعد بھی یہ ہار محبت اور تاریخ کی علامت بن کر زندہ ہے۔
کیا یہ مکمل تاریخی حقیقت ہے؟
تاریخی حوالوں کے مطابق تاج محل ڈائمنڈ واقعی مغل دور کا جواہر ہے، مگر اس کے گرد موجود تمام رومانوی تفصیلات مکمل طور پر مستند تاریخی ریکارڈ میں موجود نہیں۔ کچھ عناصر داستانوی رنگ رکھتے ہیں، لیکن اس کے باوجود:
-
یہ ہار مغل تاریخ سے جڑا ہوا ہے
-
نورجہاں کے اثرورسوخ کی مثال ہے
-
تاج محل سے نسبت رکھتا ہے
-
اور عالمی ثقافت کا حصہ بن چکا ہے
محبت تاابد؟
یہ ہار مختلف گلے بدلتا رہا:
-
نورجہاں
-
ممتاز محل (قبر پر)
-
جہاں آراء
-
یورپی شاہی خاندان
-
الزبتھ ٹیلر
-
مارگوٹ روبی
مگر اس کے ساتھ جڑی محبت، حسرت اور اقتدار کی کہانی ہمیشہ قائم رہی۔
نتیجہ
تاج محل ڈائمنڈ صرف ایک قیمتی پتھر نہیں بلکہ چار صدیوں پر پھیلی ہوئی انسانی جذبات کی داستان ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ:
اقتدار ختم ہو جاتا ہے
سلطنتیں بکھر جاتی ہیں
مگر محبت کی کہانیاں زندہ رہتی ہیں




