کیا شوگر واقعی ریورس ہو سکتی ہے؟

معروف صحافی جاوید چوہدری نے اپنے مشہور کالم زیرو پوائنٹ میں شوگر (ذیابیطس) کے حوالے سے ایک چونکا دینے والا تجربہ بیان کیا ہے، جس نے ہزاروں قارئین کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔
کہانی کیا ہے؟
کالم میں وہ ایک ایسے شخص کا ذکر کرتے ہیں جو دعویٰ کر رہا تھا:
“میں نے اپنی شوگر ایک سال میں ریورس کر لی، اور اب دو سال سے نہ انسولین لے رہا ہوں نہ کوئی دوا۔”
ابتدا میں جاوید چوہدری نے بھی اس دعوے کو سنجیدہ نہیں لیا۔
کیونکہ وہ خود 1994 سے شوگر کے مریض تھے اور برسوں میں بے شمار جھوٹے دعوے سن چکے تھے۔
لیکن جب انہوں نے تحقیق کی تو معاملہ مختلف نکلا۔
زاہد عرفان کون ہیں؟
کالم کے مطابق ویڈیو میں بات کرنے والے زاہد عرفان نامی شخص تھے، جو پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں مگر شوگر اور لائف اسٹائل پر گہرا مطالعہ رکھتے ہیں۔
جاوید چوہدری نے ان سے رابطہ کیا، گفتگو کی، اور ان کے علم سے متاثر ہو کر انہیں “گرو زاہد” کہنا شروع کر دیا۔
https://urdudesk.com/blog/2026/02/11/fiber-effects-on-stomach/
تحقیق کن ماہرین کی بنیاد پر تھی؟
اس عمل کے دوران دو عالمی ماہرین کا مطالعہ کیا گیا:
-
Dr. Eric Berg
-
Dr. Jason Fung
ان کے نظریات کے مطابق:
ٹائپ ٹو ذیابیطس زیادہ تر لائف اسٹائل کی خرابیوں کا نتیجہ ہے، اور درست خوراک، ورزش اور ڈسپلن سے اسے کنٹرول — بلکہ بعض کیسز میں ریورس — کیا جا سکتا ہے۔
تبدیلی کیسے آئی؟
کالم کے مطابق درج ذیل تبدیلیاں کی گئیں:
-
کاربوہائیڈریٹس میں کمی
-
شوگر اور پراسیسڈ فوڈ سے پرہیز
-
باقاعدہ واک اور ورزش
-
ذہنی دباؤ میں کمی
-
نیند اور روٹین کی بہتری
نتیجہ:
-
انسولین کی مقدار میں نمایاں کمی
-
توانائی میں اضافہ
-
شوگر لیول کا استحکام
جاوید چوہدری کے مطابق ان کی انسولین کی ضرورت تقریباً 10 فیصد رہ گئی، جبکہ زاہد عرفان مکمل طور پر دوا سے آزاد ہو گئے۔
https://urdudesk.com/blog/2025/12/22/vitamin-d-deficiency-bone-pain-fatigue/
کیا شوگر واقعی بیماری نہیں؟
کالم میں یہ نقطہ اٹھایا گیا کہ:
شوگر بذاتِ خود بیماری نہیں بلکہ لائف اسٹائل کا نتیجہ ہے۔
تاہم یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے:
-
ٹائپ 1 شوگر مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکتی
-
ٹائپ 2 شوگر بعض مریضوں میں “Remission” میں جا سکتی ہے
-
ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا بند کرنا خطرناک ہو سکتا ہے
اہم پیغام
جاوید چوہدری کا پیغام سادہ ہے:
اگر انسان اپنی خوراک، عادات اور ذہنی دباؤ پر قابو پا لے تو شوگر کو بڑی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
یہ کوئی جادو نہیں —
یہ ڈسپلن، علم اور مستقل مزاجی کا نتیجہ ہے۔
