موسمیاتی تبدیلیوں نے کسانوں کو جکڑ لیا، فصلوں کی پیداوار میں 30 فیصد تک کمی کا خدشہ

لاہور: پاکستان کی ‘فوڈ باسکٹ’ کہلانے والا صوبہ پنجاب اس وقت بدترین موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بارشوں کے بے ترتیب نظام اور درجہ حرارت میں اضافے نے گندم، کپاس اور چاول جیسی اہم فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے نہ صرف کسان معاشی بدحالی کا شکار ہیں بلکہ ملک کے غذائی تحفظ کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
زرعی ماہرین اور محکمہ موسمیات کی رپورٹس کے مطابق، سن 2000 کے بعد پنجاب میں اوسط درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کی تحقیق بتاتی ہے کہ اگر درجہ حرارت میں 1 سے 4 ڈگری سینٹی گریڈ مزید اضافہ ہوا تو گندم کی پیداوار میں 9 سے 30 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ مارچ اور اپریل میں اچانک ہیٹ ویو یا غیر متوقع بارشیں گندم کی کٹائی کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔
پنجاب ایگریکلچر ریسرچ بورڈ کے ڈاکٹر انجم علی کے مطابق، مون سون کے روایتی دورانیے میں تبدیلی (Climate Shift) کے باعث اب بارشیں کم وقت میں زیادہ شدت کے ساتھ ہوتی ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے وسطی پنجاب میں کپاس کی کاشت کم ہو رہی ہے اور کسانوں کا رجحان زیادہ پانی والی فصلوں جیسے گنا اور مکئی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ علاوہ ازیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت فصلوں پر کیڑوں کے حملوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے صورتحال کو "بربادی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے مقامی کسانوں کو ریلیف نہ دیا اور جدید ٹیکنالوجی فراہم نہ کی تو اگلے سال گندم کی بوائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ درآمدات پر ڈالر خرچ کرنے کے بجائے مقامی زراعت اور ریسرچ پر سرمایہ کاری کی جائے۔
ڈیجیٹل ایگریکلچر: کسانوں کو موبائل ایپس کے ذریعے موسم کی بروقت معلومات فراہم کی جائیں۔
جدید بیج: کم وقت میں تیار ہونے والی (Short Duration) اور سخت موسم کا مقابلہ کرنے والی اقسام متعارف کروائی جائیں۔
پانی کا ذخیرہ: ڈرپ اریگیشن اور جدید واٹر اسٹوریج انفراسٹرکچر پر کام کیا جائے۔
