شیخ رشید احمد کا 50 سال بعد دوبارہ وکالت کے میدان میں آنے کا فیصلہ، تاحیات بار ممبرشپ مل گئی

"مرنے کے بعد میری قبر کے کتبے پر بھی ایڈووکیٹ لکھا جائے گا”، سابق وزیر داخلہ کا جذباتی اظہار
راولپنڈی (بیورو رپورٹ) سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے 50 سال کے طویل عرصے بعد دوبارہ وکالت کا رخ کر لیا ہے۔ انہوں نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں اپنی ممبرشپ کی بحالی کے لیے درخواست دائر کی، جس کے بعد تمام بقایاجات، ادھوری فیسیں اور جرمانہ ادا کر دیا گیا۔ ڈسٹرکٹ بار کے صدر ساجد اعوان اور ایگزیکٹو باڈی نے ان کی ممبرشپ بحال کرتے ہوئے انہیں تاحیات (لائف ٹائم) بار ممبرشپ سے نواز دیا۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا:
"میں آج بے حد خوش ہوں۔ زندگی کے آخری حصے میں ہوں، اب وقت کاٹنا مشکل ہو رہا تھا اس لیے وکالت دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ میری خواہش ہے کہ جب میں اس دنیا سے رخصت ہوں تو میری قبر کے کتبے پر بھی ‘ایڈووکیٹ’ لکھا ہو۔ اب میں غریبوں کی قانونی مدد کروں گا اور ملک و آئین کی بہتری کے لیے کام کروں گا۔”
عمرہ ادائیگی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
دوسری جانب، انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت (ATC) میں شیخ رشید احمد کی جانب سے عمرہ ادائیگی کے لیے حجازِ مقدس جانے کی درخواست پر سماعت مکمل ہو گئی ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو 16 جون کو سنایا جائے گا۔
سماعت کے دوران سرکاری پراسیکیوٹر نے شدید مخالفت کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ اگر ایک ملزم کو باہر جانے کی اجازت دی گئی تو دیکھا دیکھی ہر دوسرا ملزم عمرہ پر جانے کی اجازت مانگے گا، جس سے آدھے سے زیادہ ملزمان کے غائب ہونے کا خدشہ ہے۔
