ملک میں گدھوں، گھوڑوں اور مویشیوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ، قومی اقتصادی سروے 26-2025

A vibrant illustration showing Pakistan's livestock growth with a donkey, horse, mule, cows, and goats standing in a lush green pasture with an upward-trending economic growth bar chart, representing the economic survey report.
قومی اقتصادی سروے 26-2025: ملک میں لائیو اسٹاک اور باربرداری کے جانوروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ رواں مالی سال قومی اقتصادی سروے 26-2025 (Pakistan Economic Survey) میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں اور خچروں سمیت دیگر مال مویشیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال کے دوران لائیو اسٹاک (لائوسٹاک) کے شعبے کی مجموعی شرح نمو 3.8 فیصد رہی، جو دیہی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔

اقتصادی سروے کی تفصیلات کے مطابق، ملک کی ग्रामीण (دیہی) معیشت میں ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے باربرداری کے جانوروں، خصوصاً گدھوں کی پیداوار میں مستقل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

گدھوں، گھوڑوں اور خچروں کی تازہ ترین تعداد

سروے رپورٹ کے مطابق:

  • گدھے: ملک میں گدھوں کی مجموعی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ گذشتہ سال کے مقابلے میں گدھوں کی تعداد میں 1.9 فیصد کا سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

  • خچر: خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد 2 لاکھ 21 ہزار ہو گئی ہے۔

  • گھوڑے: گھوڑوں کی افزائشِ نسل میں 0.8 فیصد کا معمولی اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد ان کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

گائے، بھینسوں اور بکریوں کی تعداد میں بھی اضافہ

ملک میں دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھانے والے بڑے اور چھوٹے جانوروں کی تعداد میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے:

  • گائے: ملک میں گائے کی تعداد 3.8 فیصد کے ریکارڈ اضافے کے ساتھ 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار ہو گئی ہے۔

  • بکریاں: ملک بھر میں بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جس میں سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

  • بھینسیں: ڈیری سیکٹر کی جان سمجھتی جانے والی بھینسوں کی تعداد 3 فیصد سالانہ اضافے کے بعد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

  • بھیڑیں اور اونٹ: بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد، جبکہ اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے ان کی مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہو گئی ہے۔

ماہی گیری (Fisheries) کے شعبے کی کارکردگی

اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا ہے کہ لائیو اسٹاک کے ساتھ ساتھ ماہی گیری کے شعبے میں بھی مثبت رجحان رہا اور رواں مالی سال کے دوران اس شعبے نے 1.7 فیصد کی شرح نمو (Growth Rate) حاصل کی ہے۔

معاشی ماہرین کی رائے: ماہرین کا کہنا ہے کہ زراعت اور لائیو اسٹاک پاکستان کے جی ڈی پی (GDP) کا ایک بڑا حصہ ہیں اور لاکھوں دیہی خاندانوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔ جانوروں کی تعداد میں یہ اضافہ نہ صرف دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ملک میں لائیو اسٹاک کی برآمدات (Exports) بڑھانے کی صلاحیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے