مصنوعی ذہانت (AI) اور شعبہ صحت: کیا مستقبل میں ڈاکٹروں کی چھٹی ہو جائے گی؟

تحریر: ادارہ اردو ڈیسک
اکیسویں صدی ٹیکنالوجی کے انقلاب کی صدی ہے، اور اس انقلاب کا سب سے بڑا کھلاڑی ‘مصنوعی ذہانت’ یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ہے۔ چند سال پہلے تک یہ تصور کرنا بھی مشکل تھا کہ ایک مشین انسان کی طرح سوچنے، سمجھنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھے گی، لیکن آج یہ حقیقت بن چکی ہے۔ زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح صحت اور طب کا میدان بھی اس ٹیکنالوجی سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں آپ کی کلائی پر بندھی گھڑی آپ کے ڈاکٹر سے زیادہ آپ کی صحت کے بارے میں جانتی ہے۔
شعبہ صحت میں AI سے مراد ایسے کمپیوٹر پروگرامز اور الگورتھم ہیں جو طبی ڈیٹا (جیسے مریضوں کی ہسٹری، لیب رپورٹس، اور ایکس رے) کا تجزیہ کر کے نتائج اخذ کرتے ہیں۔ یہ مشینیں لاکھوں مریضوں کا ڈیٹا سیکنڈوں میں پرکھ سکتی ہیں، جو ایک انسانی ڈاکٹر کے لیے پوری زندگی میں بھی ممکن نہیں ہوتا۔
طبی دنیا میں سب سے مشکل مرحلہ بیماری کی درست اور بروقت تشخیص ہے۔ کینسر، امراضِ قلب اور دماغی پیچیدگیوں میں اگر تشخیص میں تھوڑی سی بھی دیر ہو جائے تو مریض کی جان جا سکتی ہے۔
ریڈیولوجی اور امیجنگ: مصنوعی ذہانت اب ایکسرے، سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی اسکینز کو انسانی آنکھ سے کہیں زیادہ بہتر طریقے سے پڑھ رہی ہے۔ حال ہی میں گوگل اور دیگر کمپنیوں کے تیار کردہ AI ماڈلز نے چھاتی کے کینسر (Breast Cancer) کی تشخیص میں انسانی ریڈیولوجسٹس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
بیماری کی پیش گوئی: AI اب یہ بتانے کے قابل ہے کہ کسی مریض کو آنے والے پانچ سالوں میں دل کا دورہ پڑنے یا فالج ہونے کے کتنے فیصد امکانات ہیں۔ یہ "پریوینٹیو میڈیسن” (بیماری سے پہلے بچاؤ) کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔
سرجری یا آپریشن کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک سرجن کا تصور آتا ہے جس کے ہاتھ میں چھری (Scalpel) ہوتی ہے۔ لیکن اب اس کی جگہ روبوٹس لے رہے ہیں۔ روبوٹک سرجری میں سرجن ایک کمپیوٹر کنسول پر بیٹھ کر روبوٹک بازوؤں کو کنٹرول کرتا ہے۔ AI ان بازوؤں کی حرکت کو اتنا ہموار بنا دیتا ہے کہ انسانی ہاتھ کی معمولی سی لرزش بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپریشن کے دوران کٹ بہت چھوٹا لگتا ہے، خون کم بہتا ہے اور مریض بہت جلد صحتیاب ہو کر گھر چلا جاتا ہے۔
عام طور پر ایک نئی دوا کو لیبارٹری سے میڈیکل اسٹور تک پہنچنے میں 10 سے 15 سال کا عرصہ اور اربوں ڈالر لگتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنسدانوں کو ہزاروں کیمیکلز کا ٹیسٹ کرنا پڑتا ہے۔ مصنوعی ذہانت اس عمل کو مہینوں میں بدل رہی ہے۔ AI ماڈلز کمپیوٹر پر ہی یہ حساب لگا لیتے ہیں کہ کون سا کیمیکل کس وائرس یا بیکٹیریا کے خلاف مؤثر ہوگا۔ کورونا وائرس کی ویکسین کی ریکارڈ مدت میں تیاری اس ٹیکنالوجی کی مرہونِ منت ہے۔
اب تک طبی دنیا میں "ون سائز فٹس آل” کا اصول چل رہا تھا، یعنی ایک ہی بیماری کے تمام مریضوں کو ایک جیسی دوا دی جاتی تھی۔ لیکن ہر انسان کا ڈی این اے (DNA) مختلف ہوتا ہے۔ AI اب "پرسنلائزڈ میڈیسن” کو ممکن بنا رہا ہے، جہاں مریض کے جینیاتی ڈھانچے کو دیکھ کر خاص اس کے لیے دوا تجویز کی جائے گی جس کے سائیڈ ایفیکٹس نہ ہونے کے برابر ہوں گے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں ڈاکٹروں کی کمی ہے، وہاں AI ہیلتھ ایپس ایک نعمت ثابت ہو سکتی ہیں۔
چیٹ بوٹس: بہت سے لوگ معمولی علامات کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانے سے کتراتے ہیں۔ AI چیٹ بوٹس مریض سے سوالات پوچھ کر اسے ابتدائی طبی امداد یا صحیح مشورہ دے سکتے ہیں۔
پہننے والی ٹیکنالوجی (Wearables): ایپل واچ یا دیگر فٹنس بینڈز اب صرف قدم نہیں گنتے، بلکہ یہ آپ کے دل کی دھڑکن (ECG)، خون میں آکسیجن کی مقدار اور سونے کے انداز پر نظر رکھتے ہیں۔ کسی بھی خرابی کی صورت میں یہ فوراً الرٹ جاری کرتے ہیں۔
جہاں اس ٹیکنالوجی کے بے شمار فوائد ہیں، وہیں کچھ خدشات بھی سر اٹھا رہے ہیں:
ڈیٹا کی حفاظت: مریضوں کا طبی ڈیٹا انتہائی حساس ہوتا ہے۔ کیا کمپنیاں اس ڈیٹا کو محفوظ رکھیں گی؟
انسانی ہمدردی کا فقدان: ایک مشین آپ کا علاج تو کر سکتی ہے، لیکن وہ ایک ڈاکٹر کی طرح آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو تسلی نہیں دے سکتی۔ طب کا شعبہ جذبات اور ہمدردی سے جڑا ہوا ہے۔
غلطی کی ذمہ داری: اگر کوئی AI سسٹم غلط تشخیص کرے اور مریض کو نقصان پہنچے، تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی یا ہسپتال؟
یہ ایک عام مغالطہ ہے کہ مصنوعی ذہانت ڈاکٹروں کی جگہ لے لے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ AI ڈاکٹروں کو ختم نہیں کرے گا، بلکہ ان ڈاکٹروں کی جگہ وہ ڈاکٹر لے لیں گے جو AI کا استعمال جانتے ہوں گے۔ مستقبل میں ڈاکٹر کا کام صرف مریض کا معائنہ کرنا نہیں ہوگا، بلکہ AI کے فراہم کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر بہترین فیصلہ کرنا ہوگا۔ یہ ٹیکنالوجی ڈاکٹروں کو ان کے دفتری کاموں (پیپر ورک) سے آزاد کر دے گی تاکہ وہ مریض کو زیادہ وقت دے سکیں۔
مصنوعی ذہانت شعبہ صحت کے لیے ایک جادوئی چھڑی ثابت ہو رہی ہے۔ اگر ہم اس ٹیکنالوجی کو درست طریقے سے اپنائیں تو غریب ملکوں میں بھی بہترین علاج کی سہولیات پہنچائی جا سکتی ہیں۔ UrduDesk.com کے قارئین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی سے ڈرنے کی بجائے اسے سیکھنا اور اپنانا ہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مستقبل کا ہسپتال آپ کے ہاتھ میں موجود موبائل فون اور مصنوعی ذہانت کے باہمی اشتراک سے بنے گا۔
