انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ: وزن کم کرنے کا سائنسی طریقہ اور ناشتے کا صحیح وقت

تحریر: ادارہ اردو ڈیسک
وزن کم کرنا ہمیشہ سے ایک مشکل مرحلہ رہا ہے، لیکن جدید سائنس نے اب ایک ایسا طریقہ متعارف کروایا ہے جس میں آپ کو پسندیدہ کھانا چھوڑنے کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف "کھانے کے اوقات” تبدیل کرنے ہوتے ہیں۔ اسے ‘انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ’ (Intermittent Fasting) کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر کے فٹنس ماہرین اور ڈاکٹرز اب اسے وزن کم کرنے اور شوگر لیول متوازن رکھنے کا بہترین طریقہ قرار دے رہے ہیں۔
یہ کوئی روایتی ڈائٹ پلان نہیں ہے، بلکہ کھانے کا ایک ایسا نظام ہے جس میں آپ دن کے مخصوص گھنٹوں میں کھاتے ہیں اور باقی وقت ‘روزے’ کی حالت میں رہتے ہیں۔ اس کا سب سے مشہور طریقہ 16:8 ہے، یعنی آپ 16 گھنٹے کچھ نہیں کھاتے (صرف پانی، بغیر چینی کی چائے یا قہوہ پی سکتے ہیں) اور باقی 8 گھنٹوں میں اپنی ضرورت کے مطابق کھانا کھاتے ہیں۔
جب ہم کھانا کھاتے ہیں، تو ہمارا جسم انسولین پیدا کرتا ہے تاکہ کھانے سے ملنے والی توانائی کو استعمال کر سکے۔ اگر ہم بار بار کھاتے رہیں، تو انسولین کی سطح بلند رہتی ہے اور جسم چربی (Fat) جلانے کے بجائے اسے اسٹور کرنا شروع کر دیتا ہے۔ انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ کے دوران، جب ہم کئی گھنٹے کچھ نہیں کھاتے، تو انسولین کی سطح گر جاتی ہے۔ ایسی صورت میں جسم کو توانائی کے لیے متبادل ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے، اور وہ جسم میں پہلے سے موجود "زائد چربی” کو جلانا شروع کر دیتا ہے۔ اسے سائنسی زبان میں ‘میٹابولک سوئچ’ کہا جاتا ہے۔
انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ میں سب سے اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ ناشتہ کب کیا جائے؟ روایتی طور پر کہا جاتا ہے کہ صبح اٹھتے ہی ناشتہ کرنا چاہیے، لیکن فاسٹنگ کے دوران آپ کو اپنا پہلا کھانا (ناشتہ) کچھ دیر سے کرنا ہوتا ہے۔
ناشتے کا بہترین وقت: اگر آپ نے رات کا کھانا 8 بجے کھایا ہے، تو اگلے دن کا پہلا کھانا (ناشتہ) دوپہر 12 بجے کریں۔ اس طرح آپ کے 16 گھنٹے مکمل ہو جائیں گے۔
ناشتے میں کیا کھائیں؟: فاسٹنگ کے بعد پہلا کھانا ہمیشہ پروٹین اور صحت بخش چکنائی (Fats) پر مشتمل ہونا چاہیے۔ انڈے، دہی، خشک میوہ جات یا زیتون کا تیل بہترین انتخاب ہیں۔ فوری طور پر زیادہ چینی یا کاربوہائیڈریٹ والا کھانا کھانے سے گریز کریں، ورنہ شوگر لیول اچانک بڑھ سکتا ہے۔
وزن کم کرنے کے علاوہ اس کے کئی حیرت انگیز فوائد ہیں:
دماغی تیزی: فاسٹنگ کے دوران دماغ میں ایسے ہارمونز پیدا ہوتے ہیں جو توجہ اور یادداشت کو بہتر بناتے ہیں۔
خلیات کی مرمت (Autophagy): جب ہم روزہ رکھتے ہیں، تو جسم کے اندر ایسے عمل شروع ہوتے ہیں جو خراب خلیات کو نکال باہر کرتے ہیں اور نئے خلیات بناتے ہیں۔
دل کی صحت: یہ بلڈ پریشر اور برے کولیسٹرول کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ ایک محفوظ طریقہ ہے، لیکن حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں اور وہ لوگ جن کا وزن پہلے ہی بہت کم ہے، انہیں یہ طریقہ نہیں اپنانا چاہیے۔ شوگر کے مریض اپنے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر فاسٹنگ شروع نہ کریں۔
انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ بھوکا رہنے کا نام نہیں بلکہ سلیقے سے کھانے کا نام ہے۔ اگر آپ اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں، تو نہ صرف آپ کا وزن کم ہوگا بلکہ آپ خود کو پہلے سے زیادہ چاق و چوبند محسوس کریں
