تعلیم

اسکول کی پہلی صبح: بچوں کا خوف کیسے ختم کریں؟ والدین اور اساتذہ کے لیے رہنما اصول

A mother smiling and hugging her young child in front of a school building, representing a positive start to school.
بچوں کا اسکول سے خوف ختم کرنے کے آزمودہ طریقے

تحریر: ادارہ اردو ڈیسک

بچے کے لیے گھر کی محفوظ چہار دیواری سے نکل کر اسکول کی اجنبی دنیا میں قدم رکھنا ایک بہت بڑا مرحلہ ہوتا ہے۔ پلے گروپ یا نرسری میں داخلہ لینے والے ننھے بچوں کے لیے اسکول کی پہلی صبح جوش و خروش سے زیادہ خوف اور گھبراہٹ کا باعث ہو سکتی ہے۔ روتے ہوئے بچے اور پریشان والدین، یہ وہ منظر ہے جو اکثر اسکولوں کے باہر نظر آتا ہے۔ لیکن اگر تھوڑی سی نفسیاتی حکمتِ عملی اپنائی جائے، تو اس ڈر کو خوشی میں بدلا جا سکتا ہے۔

The AIMS School جیسے جدید تعلیمی اداروں کا مقصد بھی یہی ہے کہ بچوں کو ایسا ماحول دیا جائے جہاں وہ خود کو اجنبی نہ سمجھیں۔ درج ذیل وہ 5 آسان طریقے ہیں جن کی مدد سے بچوں کا اسکول سے خوف ختم کیا جا سکتا ہے:

1.

بچے کو اچانک اسکول چھوڑ کر آنا اسے صدمہ پہنچا سکتا ہے۔ اسکول شروع ہونے سے چند دن پہلے بچے کو اسکول کی عمارت، وہاں موجود جھولوں اور اس کی کلاس روم کی سیر کروائیں۔ جب بچہ پہلے سے اس جگہ کو دیکھ لے گا، تو پہلی صبح اسے سب کچھ اجنبی نہیں لگے گا۔

2.

والدین اکثر بچے کو روتا دیکھ کر خود بھی جذباتی ہو جاتے ہیں اور بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتے یا دیر تک کھڑے رہتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق، الوداع مختصر اور پُراثر ہونا چاہیے۔ بچے کو پیار کریں، اسے یقین دلائیں کہ آپ اسے لینے آئیں گے، اور مسکراتے ہوئے رخصت ہوں۔ آپ کی مسکراہٹ بچے کو پیغام دیتی ہے کہ یہ جگہ محفوظ ہے۔

3.

گھر میں اسکول کا ذکر ایک ڈراؤنی جگہ کے طور پر کبھی نہ کریں (مثلاً: "پڑھو ورنہ اسکول بھیج دوں گی”)۔ اس کے بجائے اسے وہاں ملنے والے نئے دوستوں، رنگ برنگے کھلونوں اور دلچسپ کہانیوں کے بارے میں بتائیں۔ اسے احساس دلائیں کہ اسکول جانا "بڑے بچوں” کا اعزاز ہے۔

4.

اسکول کی پہلی صبح اساتذہ کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔ ایک مسکراتا ہوا چہرہ اور شفقت سے بھرا ہاتھ بچے کے آدھے خوف کو ختم کر دیتا ہے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچے سے اس کے پسندیدہ کھلونے یا کارٹون کے بارے میں بات کریں تاکہ اس کی توجہ گھر سے ہٹ کر اسکول کی سرگرمیوں پر مرکوز ہو جائے۔

5.

پہلے چند دنوں میں بچے کو اس کا پسندیدہ کھلونا یا رومال ساتھ لانے کی اجازت دیں (اگر اسکول پالیسی اجازت دے)۔ اپنی کسی جانی پہچانی چیز کا پاس ہونا بچے کو نفسیاتی طور پر تحفظ کا احساس دلاتا ہے اور وہ خود کو تنہا محسوس نہیں کرتا۔

تعلیم صرف کتابوں کا نام نہیں بلکہ ایک خوشگوار تجربے کا نام ہے۔ The AIMS School میں ہمارا مقصد بچوں کی اسی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ایک ایسا گھر جیسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں وہ ڈر کر نہیں بلکہ ہنس کر سیکھیں۔ والدین اور اساتذہ کا باہمی تعاون ہی بچے کے تعلیمی سفر کی بنیاد کو مضبوط بنا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے