ٹرمپ کا مشن بیجنگ: ایران جنگ، تائیوان اور عالمی معیشت پر صدر شی جن پنگ سے فیصلہ کن مذاکرات رواں ہفتے ہوں گے
بیجنگ/واشنگٹن (اردو ڈیسک رپورٹ):
ٹرمپ کا مشن بیجنگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے بدھ کی شام چین کے تین روزہ تاریخی دورے پر بیجنگ پہنچیں گے، جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔ نو سال میں کسی بھی امریکی صدر کا یہ پہلا دورہ چین ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران جنگ اور ایشیا میں تائیوان کے معاملے پر عالمی تناؤ عروج پر ہے۔
ملاقات کا شیڈول اور ایجنڈا
وائٹ ہاؤس اور چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق، صدر ٹرمپ 13 مئی سے 15 مئی تک چین میں قیام کریں گے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان باضابطہ مذاکرات جمعرات (14 مئی) کو ہوں گے، جس میں عالمی سیکیورٹی، ایران تنازع، تائیوان کی صورتحال اور تجارتی پابندیوں جیسے حساس معاملات زیرِ بحث آئیں گے۔ امریکا نے چینی صدر کو رواں سال کے آخر میں واشنگٹن کے جوابی دورے کی دعوت بھی دے رکھی ہے۔
ایران جنگ اور تیل کی ترسیل کا بحران
مذاکرات کا سب سے اہم نکتہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ جنگ ہے۔ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ چین ایران سے 90 فیصد تیل خرید کر تہران کی معیشت کو سہارا دے رہا ہے۔ امریکی حکام کا موقف ہے کہ صدر ٹرمپ بیجنگ پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ ایران سے تیل کی خریداری بند کرے تاکہ تہران پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے۔
واضح رہے کہ جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش نے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے ایشیائی معیشتوں بالخصوص چین کے لیے بھی چیلنجز پیدا ہوئے ہیں۔
بیجنگ کا سفارتی کردار
چین نے اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے یک طرفہ امریکی پابندیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ہی ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ کا دورہ کیا تھا، جہاں چین نے ایران کی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کیا، تاہم بیجنگ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور فوری جنگ بندی کے حق میں ہے۔ ماہرین کے مطابق، چین اس بحران میں ایک بڑے ثالث کے طور پر سامنے آنا چاہتا ہے۔
تائیوان اور تجارتی تعلقات
ایران کے علاوہ، تائیوان کا معاملہ بھی میز پر ہو گا۔ حالیہ دنوں میں امریکا کی جانب سے تائیوان کو 14 ارب ڈالر کے جدید ترین اسلحے کی فروخت پر چین نے شدید احتجاج کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ تائیوان پالیسی میں کسی تبدیلی کا ارادہ نہیں رکھتے، تاہم وہ روس کے لیے چین کی مبینہ حمایت اور نایاب معدنیات (Rare Earth Minerals) کی سپلائی پر بھی بات کریں گے۔
توقعات اور نتائج
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس دورے کو ایک "بڑے سودے” (Grand Bargain) کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اگر دونوں ممالک ایران جنگ کے خاتمے اور تجارتی نظم و ضبط پر کسی مفاہمت پر پہنچ جاتے ہیں، تو یہ عالمی معیشت اور خطے کے استحکام کے لیے ایک بڑی کامیابی ہو گی۔
اردو ڈیسک نیوز سروس
