وفاقی بجٹ 27-2026: کل حجم 18,771 ارب روپے مقرر، تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ، بڑے تنخواہ داروں اور فائلرز کو پراپرٹی ٹیکس میں زبردست ریلیف

Green budget book with Urdu text Wafaqi Budget 2026-27 on a desk with Pakistani currency and calculator
وفاقی بجٹ 27-2026: تنخواہوں میں اضافہ اور ٹیکس ریلیف کی تفصیلات

اسلام آباد (ویب ڈیسک، اردو ڈیسک) حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے کے مجموعی حجم کا حامل وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔ وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی جانب سے پیش کیے گئے اس بجٹ میں معاشی ترقی، ٹیکس ریلیف، مہنگائی پر قابو پانے، اور کم آمدنی والے طبقات سمیت زراعت، آئی ٹی اور صنعت جیسے کلیدی شعبوں کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔

بجٹ کی تفصیلی دستاویزات کے مطابق اہم ترین نکات اور وفاقی فیصلے درج ذیل ہیں:

تنخواہوں، پنشن اور اجرت میں اضافہ

وزیر خزانہ نے اعتراف کیا کہ مہنگائی کی وجہ سے تنخواہ دار طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان مشکلات کے ازالے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں:

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔

  • کم سے کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے۔

  • بڑے تنخواہ دار طبقے پر عائد 9 فیصد سرچارج مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ انکم ٹیکس کے چار بڑے سلیبز میں ٹیکس کی شرح کم کر کے ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔

انکم ٹیکس کے نئے سلیبز (سالانہ آمدن پر ریلیف)

  • 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے: انکم ٹیکس 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کر دیا گیا۔

  • 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے: ٹیکس 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کر دیا گیا۔

  • 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے: ٹیکس 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کر دیا گیا۔

  • 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے: ٹیکس 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کر دیا گیا۔ (واضح رہے کہ 22 لاکھ روپے سے کم سالانہ آمدن والے سلیب میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی)

جائیداد (پراپرٹی) کی خرید و فروخت پر ٹیکسز میں کمی

فائلرز کو ریلیف دینے اور ریل اسٹیٹ سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح نمایاں حد تک کم کی گئی ہے:

  • فائلرز کے لیے خرید و فروخت: 5 کروڑ روپے تک کی پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد (کچھ مقامات پر 1.25 فیصد کی تجویز) اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.5 فیصد یا 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔

  • نان فائلرز کے لیے: نان فائلرز کے لیے بھی مختلف سلیبز کے تحت شرح کو متوازن رکھنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ مارکیٹ میں سرمایہ کاری متاثر نہ ہو۔

آئی ٹی، ڈیجیٹل پیمنٹس اور دیگر اہم شعبوں کے لیے خوشخبریاں

  • آئی ٹی اور فری لانسنگ: آئی ٹی سیکٹر کی ترقی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے موجودہ 0.25 فیصد رعایتی ٹیکس کی شرح کو برقرار رکھا گیا ہے۔

  • ڈیجیٹل ادائگیاں: کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے بیرون ملک کی جانے والی عالمی ٹرانزیکشنز پر عائد 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کو انتہائی کم کر کے صرف 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔

  • خواتین کی صحت اور ادویات: خواتین کے استعمال کے سینٹری پیڈز، متعلقہ اشیاء اور مانع حمل مصنوعات پر سے تمام ٹیکسز مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ کینسر کی ادویات اور زرعی مشینری کے خام مال کو بھی کسٹمز ڈیوٹی سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔

  • بین الاقوامی سفر: بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کے لیے بزنس کلاس پر عائد ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے۔

چھوٹے دکانداروں کے لیے "فکسڈ ٹیکس سسٹم”

بجٹ میں چھوٹے دکانداروں کو سہولت دینے کے لیے ایک آسان فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرائی گئی ہے:

  • یہ اسکیم ان دکانداروں کے لیے ہے جن کی سالانہ فروخت 1 کروڑ روپے یا اس سے کم ہے۔

  • اس کے تحت سالانہ کم از کم 25 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس جمع کرانا ہوگا۔

  • اس اسکیم میں شامل دکانداروں کا کوئی آڈٹ نہیں ہوگا اور فارم انتہائی سادہ (صرف ایک صفحے کا) علاقائی زبانوں میں دستیاب ہوگا۔

گاڑیوں پر ٹیکس اور آٹو پالیسی

  • تمام درآمدی گاڑیوں اور 2 ہزار سے 3 ہزار سی سی تک کی ایس یو ویز (SUVs) پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) عائد کر دی گئی ہے۔ 3 ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر اس ڈیوٹی میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔

  • 2 کروڑ روپے سے مہنگی امپورٹڈ الیکٹرک گاڑیوں پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ہوگی، تاہم عام امپورٹڈ الیکٹرک گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی میں 10 فیصد کمی کی تجویز ہے۔

  • الیکٹرک موٹر سائیکل، رکشوں اور بسوں پر موجودہ رعایتی نظام برقرار رہے گا۔

بجٹ کے بڑے اعداد و شمار اور فنڈز کی تقسیم

  • ایف بی آر (FBR) ٹیکس ہدف: 15,264 ارب روپے۔

  • نان ٹیکس ریونیو: 5,336 ارب روپے۔

  • قرضوں پر سود کی ادائیگی: 8,054 ارب روپے (جو کل بجٹ کا 42.9 فیصد ہے)۔

  • ملکی دفاع کا بجٹ: 3,000 ارب روپے۔

  • وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP): 1,000 ارب روپے۔

  • بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP): 838 ارب روپے (گزشتہ سال سے 17 فیصد زیادہ

  • صوبائی اور علاقائی فنڈز: آزاد جموں و کشمیر کے لیے 146 ارب، گلگت بلتستان کے لیے 88 ارب اور خیبر پختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع (فاٹا) کے لیے 95 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے