آج کا کالم! بلیو پاسپورٹ کی توہین اور سیاسی پناہ کا داغ

پاکستان اس وقت عالمی سطح پر بے شمار چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ معاشی مشکلات، سفارتی دباؤ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کے امیج کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ایسے حساس حالات میں اگر کسی بااثر سیاسی شخصیت کے خاندان سے تعلق رکھنے والا فرد قومی پاسپورٹ اور سرکاری حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے بیرونِ ملک جا کر سیاسی پناہ کی درخواست دے دے تو یہ محض ایک ذاتی اقدام نہیں رہتا بلکہ پورے ملک کی ساکھ پر حملہ بن جاتا ہے۔
حال ہی میں یہ خبر سامنے آئی کہ اقبال آفریدی کے بیٹے نے بلیو پاسپورٹ پر Italy جا کر سیاسی پناہ کی درخواست دے دی۔ اس واقعے نے نہ صرف پاکستانی عوام کو شرمندہ کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے وقار کو شدید نقصان پہنچایا۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسے لوگ ملک اور قوم کی نمائندگی کے اہل کیسے بن جاتے ہیں جو خود اپنے ملک پر اعتماد کرنے کے بجائے بیرونِ ملک جا کر سیاسی پناہ مانگنے کو ترجیح دیتے ہیں؟
سیاسی پناہ کی درخواست عام طور پر وہ لوگ دیتے ہیں جو اپنے ملک میں جان، آزادی یا بنیادی حقوق کے شدید خطرات سے دوچار ہوں۔ دنیا بھر میں جنگ زدہ علاقوں، آمریتوں یا نسلی و مذہبی ظلم کا شکار افراد سیاسی پناہ لیتے ہیں۔ لیکن جب ایک حکمران طبقے یا طاقتور سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والا شخص سرکاری حیثیت اور سفارتی سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیرونِ ملک جا کر اپنے ہی ملک کے خلاف پناہ کی درخواست دے تو یہ عمل انتہائی شرمناک اور قابلِ مذمت بن جاتا ہے۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان میں عام آدمی کو ویزا لینے کے لیے کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک متوسط طبقے کا نوجوان بینک اسٹیٹمنٹ، جائیداد کے کاغذات، ملازمت کے ثبوت اور بے شمار دستاویزات جمع کروانے کے باوجود کئی بار ویزا سے محروم رہتا ہے۔ دوسری طرف سیاسی اشرافیہ کے خاندانوں کو سرکاری پاسپورٹ، پروٹوکول اور خصوصی سہولتیں حاصل ہوتی ہیں۔ اگر یہی لوگ ان سہولتوں کا غلط استعمال کریں تو یہ صرف قانون شکنی نہیں بلکہ قومی اعتماد سے غداری کے مترادف ہے۔
اقبال آفریدی کے بیٹے کا یہ اقدام کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر پاکستان واقعی اتنا ہی غیر محفوظ اور ناقابلِ اعتماد ملک ہے تو پھر یہی سیاستدان عوام سے ووٹ کیوں مانگتے ہیں؟ اسمبلیوں میں بیٹھ کر مراعات کیوں لیتے ہیں؟ سرکاری گاڑیاں، پروٹوکول، تنخواہیں اور طاقت کیوں استعمال کرتے ہیں؟ اگر ان کے اپنے خاندان کو پاکستان پر یقین نہیں تو پھر عوام سے حب الوطنی کے دعوے کیوں کیے جاتے ہیں؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاست کو خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ اقتدار میں رہتے ہوئے یہی لوگ قومی وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہیں، بیرونِ ملک جائیدادیں بناتے ہیں، اپنے بچوں کو غیر ملکی شہریت دلواتے ہیں اور جب وقت آئے تو پاکستان کو ہی دنیا کے سامنے بدنام کر دیتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایک عام شہری کرے تو اس کے خلاف فوری کارروائی ہوتی ہے، لیکن طاقتور خاندانوں کے لیے قانون اکثر خاموش دکھائی دیتا ہے۔
اس واقعے نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کی مشکلات میں بھی اضافہ کیا ہے۔ پہلے ہی پاکستانی پاسپورٹ دنیا کے کمزور پاسپورٹس میں شمار ہوتا ہے۔ ہر ایسے واقعے کے بعد یورپی ممالک اور دیگر ریاستیں پاکستانی شہریوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ ویزا قوانین مزید سخت ہوتے ہیں اور حقیقی طالب علم، مزدور اور کاروباری افراد مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یعنی ایک بااثر خاندان کی حرکت کا خمیازہ کروڑوں محبِ وطن پاکستانیوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
یہ بھی قابلِ غور بات ہے کہ سیاسی پناہ کی درخواست صرف ایک قانونی معاملہ نہیں بلکہ سفارتی مسئلہ بھی بن سکتی ہے۔ جب کسی ملک کا شہری سیاسی پناہ لیتا ہے تو دنیا بھر میں یہ تاثر جاتا ہے کہ اس ملک میں انسانی حقوق یا سیاسی آزادیوں کا فقدان ہے۔ اگر ایک رکنِ قومی اسمبلی کا بیٹا ایسا کرے تو بین الاقوامی میڈیا اس خبر کو اور زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ یوں پاکستان کے دشمن عناصر کو بھی ملک کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔
اقبال آفریدی اور ان کے بیٹے کو یہ سمجھنا چاہیے کہ سیاست صرف مراعات لینے کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔ اگر آپ قومی اسمبلی کے رکن ہیں تو آپ کا خاندان بھی قومی وقار سے جڑا ہوتا ہے۔ ایسے میں بیرونِ ملک جا کر اپنے ہی ملک کے خلاف سیاسی پناہ کی درخواست دینا انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور قابلِ نفرت عمل ہے۔ یہ اقدام نہ صرف سیاسی اخلاقیات کی دھجیاں اڑاتا ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی دیتا ہے کہ ہمارے بعض سیاستدانوں کی ترجیحات صرف ذاتی مفادات تک محدود ہیں۔
ریاستی اداروں کو بھی اس معاملے کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔ بلیو پاسپورٹ یا سرکاری سفری دستاویزات کسی ذاتی کاروبار یا فرار کے لیے استعمال نہیں ہونے چاہئیں۔ اگر کوئی شخص سرکاری حیثیت یا سیاسی تعلقات کی بنیاد پر بیرونِ ملک جا کر ملک کی بدنامی کا باعث بنتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ ایسے افراد کے سفارتی یا خصوصی پاسپورٹس منسوخ کیے جائیں اور ان سے جواب طلبی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی دوسرا شخص ایسی حرکت کرنے کی جرات نہ کرے۔
یہ واقعہ ہمارے سیاسی نظام کی ایک تلخ حقیقت بھی بے نقاب کرتا ہے۔ عوام کے سامنے حب الوطنی کے دعوے کیے جاتے ہیں مگر عملی طور پر طاقتور طبقہ اپنے مستقبل کو بیرونِ ملک محفوظ بنانے میں مصروف رہتا ہے۔ ان کے بچے غیر ملکی تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں، ان کی سرمایہ کاری بیرونِ ملک ہوتی ہے اور مشکل وقت میں وہ پاکستان کے بجائے مغربی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ دوسری طرف عام پاکستانی اپنے ملک میں رہ کر ہر مشکل برداشت کرتا ہے، ٹیکس دیتا ہے، بجلی اور مہنگائی کا بوجھ اٹھاتا ہے اور پھر بھی پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتا ہے۔
قوم کو اب ایسے دوغلے معیار کو پہچاننا ہوگا۔ عوام کو یہ سوال کرنا چاہیے کہ جو لوگ اپنے بچوں کا مستقبل پاکستان میں محفوظ نہیں سمجھتے، وہ ملک کی قیادت کے حق دار کیسے ہو سکتے ہیں؟ اگر سیاسی اشرافیہ خود پاکستان پر اعتماد نہیں کرتی تو پھر عام آدمی سے حب الوطنی اور قربانی کی توقع کیوں رکھی جاتی ہے؟
یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں بلکہ اصولی مؤقف اختیار کرنے کا ہے۔ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ہر پاکستانی کو ایسے اقدامات کی مذمت کرنی چاہیے جو ملک کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچائیں۔ پاکستان لاکھ مشکلات کے باوجود ہمارا وطن ہے، اور وطن کی عزت ہر سیاسی مفاد سے بالاتر ہونی چاہیے۔
اقبال آفریدی کے بیٹے کا سیاسی پناہ کی درخواست دینا محض ایک فرد کا ذاتی فیصلہ نہیں بلکہ قومی وقار پر ایک بدنما داغ ہے۔ اس عمل نے دنیا بھر میں پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچایا اور یہ ثابت کیا کہ بعض سیاسی خاندان اقتدار کو صرف ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم ایسے رویوں کو مسترد کرے اور ریاست بھی سخت قانونی اقدامات کرے تاکہ مستقبل میں کوئی شخص پاکستان کی عزت کو اس طرح مجروح نہ کر سکے۔
