ایران امریکہ کشیدگی: چین کا پاکستان سے ثالثی تیز کرنے کا مطالبہ

پاکستان، چین اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے سفارتی مذاکرات
چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا پاکستان سے ایران امریکہ ثالثی تیز کرنے کا مطالبہ

تہران/بیجنگ/اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پیدا ہونے والے عالمی معاشی بحران کے حل کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں کو مزید موثر بنائے، جبکہ ایران نے امریکہ کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

چین اور پاکستان کا سفارتی رابطہ

چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے پاکستانی نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔ چینی خبر رساں ادارے ‘شینہوا’ کے مطابق وانگ یی نے پاکستان کی جانب سے حالیہ جنگ بندی میں ادا کیے گئے تعمیری کردار کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ پاکستان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے اور خطے میں پائیدار امن کی بحالی کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا۔ اسحاق ڈار نے چین کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری پسِ پردہ مذاکرات پر بریفنگ دی اور چین کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔

ایران کا قانونی اور عسکری موقف

تہران نے امریکہ کے خلاف جارحیت اور پابندیوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی ثالثی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ امریکہ کے دھمکی آمیز بیانات امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

  • عسکری وارننگ: ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ "ہم کسی صورت امریکی ہتھیاروں کو آبنائے ہرمز سے گزر کر خطے میں موجود فوجی اڈوں تک نہیں پہنچنے دیں گے۔”

  • ہرمز کا انتظام: ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک انتظام کا منصوبہ مکمل کر لیا گیا ہے، جس کا مقصد ایران کی معاشی اور عسکری قوت میں اضافہ کرنا ہے۔

عالمی طاقتوں کی نقل و حرکت

خلیجی خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر دیگر ممالک نے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں:

  • اٹلی: اطالوی وزیرِ دفاع گائیڈو کروسیٹو نے اعلان کیا ہے کہ دو بحری جہاز (مائن سویپرز) کو احتیاطاً بحیرہ روم اور بحیرہ احمر کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ خلیجی خطے کے قریب موجود رہیں۔

  • جنوبی کوریا: جنوبی کوریا کے وزیرِ دفاع نے واضح کیا ہے کہ وہ بحری راستوں کی سلامتی کے لیے کردار ادا کرنے پر غور کر رہے ہیں، لیکن وہ کسی بھی قسم کی براہِ راست عسکری کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔

پسِ منظر اور چیلنجز

واضح رہے کہ پاکستان نے اپریل 2026 میں ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کروانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم، امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم جیسے ناقدین کی جانب سے پاکستان کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیجنگ آمد سے قبل چین اور پاکستان کی یہ کوششیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں تاکہ مشرقِ وسطیٰ کی اس جنگ کو ایک پائیدار معاہدے کے ذریعے ختم کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے