اسلام آباد: ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا دورۂ پاکستان، امریکہ ایران ثالثی پر قیادت کا شکریہ ادا کریں گے

Iran and Pakistan flags waving side by side under a blue sky, representing diplomatic relations.
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دورۂ پاکستان کے موقع پر دونوں ممالک کے جھنڈے سرِ بلند۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان آج ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ پاکستان کے ایک روزہ سرکاری دورے پر پہنچ رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع اور دفترِ خارجہ کے مطابق، اس اہم ترین دورے کا بنیادی مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کو کم کرنے اور کامیاب ثالثی کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کا اعتراف کرنا اور اس پر پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کرنا ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی کے مطابق، ایرانی صدر کا یہ دورہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی دعوت پر ہو رہا ہے۔ وفد میں ایران کے متعدد وزراء اور اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں۔

دورے کا ایجنڈا اور اہم ملاقاتیں

ذرائع کے مطابق اسلام آباد پہنچنے پر ایرانی صدر کا پُرتپاک استقبال کیا جائے گا، جس کے بعد وہ انتہائی مصروف دن گزاریں گے۔ دورے کے دوران درج ذیل اہم ملاقاتیں متوقع ہیں:

  • وزیراعظم شہباز شریف سے تفصیلی ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات۔

  • صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے الوداعی و خیر سگالی ملاقات۔

  • سول اور فوجی قیادت بشمول فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات، جس میں علاقائی سلامتی اور دفاعی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

امریکہ ایران ثالثی اور ‘اسلام آباد معاہدہ’

ایرانی حکام اور تہران کے صدارتی دفتر کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز حبیب اللہ عباسی نے تصدیق کی ہے کہ صدر مسعود پزشکیان اس دورے میں خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف کے ثالثی کردار کو سراہیں گے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں انتہائی اہم اور کامیاب مذاکرات ہوئے ہیں، جس کے بعد "اسلام آباد یادداشتِ تفاهم” (Islamabad MoU) پر دستخط کیے گئے۔ اس تاریخی پیش رفت اور خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس پر ایرانی صدر ذاتی طور پر پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔

دوطرفہ تعلقات اور تجارتی امور پر گفتگو

دفترِ خارجہ کے مطابق، شکریہ کے پیغام کے ساتھ ساتھ یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے مابین تاریخی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا بہترین موقع ہے۔ تجارتی روابط، توانائی کے شعبے میں تعاون، سرحدی سیکیورٹی کی صورتحال (بارڈر مینجمنٹ) اور گوادر و چابہار بندرگاہوں کے ذریعے علاقائی روابط کو فروغ دینے جیسے اہم موضوعات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔

سفارتی ماہرین اس دورے کو خطے کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال، مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے قیام اور پاک-ایران سٹریٹجک تعلقات کے نئے دور کے آغاز کے لیے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے