لاہور: کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے بڑا سانحہ، 14 معصوم بچے جاں بحق، ٹیچر سمیت متعدد زخمی

لاہور (ویب ڈیسک، 30 جون 2026): صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک گھر میں قائم عارضی ٹیوشن سینٹر کی چھت اچانک گرنے سے 14 معصوم بچے جاں بحق جبکہ ٹیچر سمیت متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد پورے علاقے میں کہرام مچ گیا اور فضا سوگوار ہو گئی۔
واقعے کی تفصیلات
پولیس اور ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ واقعہ تھانہ کاہنہ کی حدود میں واقع بستی عید گاہ، آہلو والی گلی میں پیش آیا۔ مقامی رہائشی ریحان ولد صدیق کے 6 مرلہ مکان میں ان کی اہلیہ، 28 سالہ ٹیچر عمیلہ (انیلا) محلے کے معصوم بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہی تھیں۔ واقعہ کے وقت کمرے میں 8 سے 12 سال کی عمر کے تقریباً 18 سے 20 بچے موجود تھے۔
بتایا گیا ہے کہ مکان کی چھت ٹی آر گارڈر اور ٹائلوں سے بنی ہوئی تھی، اور حادثے کے وقت چھت کے اوپر مزید ٹائلیں لگانے کا کام جاری تھا کہ لوڈ برداشت نہ کرنے کی وجہ سے پوری چھت اچانک دھماکے سے نیچے آ گری، جس کے نتیجے میں وہاں موجود تمام افراد ملبے تلے دب گئے۔
ریسکیو آپریشن اور حکام کی آمد
حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی افراد، ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ ملبہ ہٹا کر بچوں اور زخمی ٹیچر کو نکالا گیا۔ زخمیوں کو فوری طور پر جنرل ہسپتال اور انڈس ہسپتال کاہنہ نو منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹرز ان کی جانیں بچانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔
واقعے کی حساسیت کے پیش نظر بوقت شام 6:14 بجے ڈی سی لاہور اور کمشنر لاہور موقع پر پہنچے، جبکہ ایس پی ماڈل ٹاؤن بھی امدادی کاموں کی نگرانی کے لیے وہاں موجود رہے۔ بعد ازاں شام 6:45 بجے سی سی پی او لاہور نے بھی کاہنہ ہسپتال کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کا نوٹس اور گرفتاریاں
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کمشنر اور سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے حادثے کے ذمہ داروں کا تعین کرنے اور غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے کچھ متعلقہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے بچوں کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا کی ہے۔
پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن (پی ایس اے کاہنہ) کا اعلان
پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن (پی ایس اے کاہنہ) نے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری ہمدردیاں زخمی اور جان بحق ہونے والے بچوں کے والدین کے ساتھ ہیں
جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی تفصیلات
جاں بحق ہونے والے معصوم بچے (انڈس ہسپتال منتقل شدہ):
تسبیح دختر شہزاد (عمر 10 سال) – موقع پر جاں بحق
عبداللہ ولد اصغر (عمر 5 سال) – موقع پر جاں بحق
ماہ نور دختر فاروق احمد (عمر 6/7 سال)
عبداللہ ولد مصطفی (عمر 8 سال)
عروج دختر مصطفی (عمر 9 سال)
سلیمان ولد وسیم (عمر 8 سال)
فواد ولد عابد (عمر 8 سال)
ایمان فاطمہ دختر مصطفیٰ (عمر 11 سال)
خدیجہ دختر وسیم (عمر 12 سال)
ارحم ولد حسن دین (عمر 6 سال)
ارتضیٰ ولد عاطف (عمر 4 سال)
ریمشا دختر عاطف (عمر 6 سال)
علی ولد فرمان (عمر 6 سال)
دعا دختر گلفام (عمر 7 سال)
زخمی ہونے والے (انڈس ہسپتال اور جنرل ہسپتال میں زیر علاج):
عمیلہ (انیلا) زوجہ ریحان (عمر 28 سال – ٹیچر، شدید زخمی، جنرل ہسپتال لاہور)
عائزہ دختر ریحان (ٹیچر کی بیٹی)
شروز ولد اصغر
ایان شہزاد ولد شہزاد
الماس ولد محمد عرفان (عمر 11 سال)
رابعہ زوجہ غلام مصطفیٰ
فریح ولد غلام علی
ابیحا ولد غلام علی
مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور تمام زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ دلی دعا ہے کہ اللہ پاک جاں بحق ہونے والے بچوں کے والدین کو اس ناقابلِ تلافی نقصان پر صبرِ جمیل عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے۔ امین۔
