پاکستان کا ٹاپ 10 بھوک کے شکار ممالک میں شامل ہونا حکومتی ناکامی کا ثبوت ہے، شیخ وقاص اکرم

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن): پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما شیخ وقاص اکرم نے پاکستان میں بڑھتے ہوئے غذائی بحران اور عالمی سطح پر ملک کی گرتی ہوئی درجہ بندی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اپنے ایک حالیہ بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہونا جو بھوک کے شدید ترین بحران سے گزر رہے ہیں، موجودہ حکومت کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں تقریباً 11 ملین افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جو کہ کسی بھی ایٹمی طاقت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
بحران کی وجوہات: قدرتی آفت نہیں، انسانی بدانتظامی ہے
شیخ وقاص اکرم نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ یہ بحران محض موسمیاتی تبدیلی یا کسی قدرتی آفت کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ:
وسائل کی موجودگی: پاکستان کے پاس انڈس بیسن جیسا عظیم الشان زرخیز نظام اور وسیع زرعی زمینیں موجود ہیں۔
ترسیلات زر: ملک میں اربوں ڈالر کی ترسیلات زر آنے کے باوجود عوام کا دو وقت کی روٹی کو ترسنا حکومتی پالیسیوں کی ناکامی ہے۔
اشرافیہ کا قبضہ: وسائل پر مخصوص اشرافیہ کا قبضہ اور پانی کی غیر منصفانہ تقسیم نے زراعت کو تباہ کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بدانتظامی، پالیسیوں میں عدم تسلسل اور بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل سے چشم پوشی اس سنگین صورتحال کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال محض اتفاق نہیں بلکہ خالصتاً گورننس کی ناکامی ہے جس کا خمیازہ غریب عوام بھگت رہے ہیں۔
