ملک بھر میں ایل پی جی کی سرکاری قیمتوں میں بڑی کمی،ایران سے درآمدات بڑھنے پر قیمت 210 روپے تک آنے کا امکان

لاہور، کراچی (ویب ڈیسک): آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی سرکاری قیمت میں 68 روپے فی کلو گرام کی نمایاں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، تاہم اس بڑی کمی کے باوجود عوام کو ریلیف منتقل نہیں ہو سکا اور ملک بھر میں سستی گیس کی دستیابی خواب بن کر رہ گئی ہے۔
اوگرا کے نئے نوٹیفکیشن کے تحت ایل پی جی کی نئی سرکاری قیمت 241 روپے 43 پیسے فی کلو گرام مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل یہ قیمت 309 روپے 43 پیسے پر برقرار تھی۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ لاہور سمیت ملک کے کسی بھی حصے میں مارکیٹ کے اندر اس سرکاری نرخ پر گیس دستیاب نہیں ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور گیس کی قیمتوں پر اثرات
پاکستان ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین محمد علی حیدر نے ایک خصوصی گفتگو کے دوران متبادل اور مثبت امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال میں بہتری آتی ہے اور ایران پر عائد ممکنہ عالمی پابندیاں ختم ہوتی ہیں، تو پاکستان کے لیے ایک بڑی پیشرفت ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان سازگار حالات کی صورت میں ایران سے ایل پی جی کی درآمدات 12 لاکھ 50 ہزار ٹن سے بڑھ کر 20 لاکھ ٹن تک پہنچ سکتی ہیں، جس کے براہِ راست نتیجے میں ملک کے اندر ایل پی جی کی فی کلو قیمت مزید کم ہو کر 210 روپے کی سطح پر آنے کی قوی امید ہے۔
پاکستان میں ایل پی جی کی درآمد کا ڈھانچہ
وائس چیئرمین نے ملکی سطح پر گیس کی سپلائی کا ڈیٹا شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ:
پاکستان میں سالانہ مجموعی طور پر 14 لاکھ ٹن ایل پی جی درآمد کی جاتی ہے۔
اس کل درآمد کا صرف 2 لاکھ 50 ہزار ٹن سمندری راستے سے پاکستان پہنچتا ہے۔
باقی ماندہ 12 لاکھ 50 ہزار ٹن گیس ایران سے ملحقہ تین اہم زمینی راستوں یعنی تفتان، گوادر اور مند کے ذریعے ملک میں لائی جاتی ہے۔
اس وقت روزانہ کی بنیاد پر 390 سے 460 ایل پی جی باؤزرز ان سرحدی راستوں سے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔
عالمی مارکیٹ کے رجحانات اور جولائی میں مزید ریلیف کی توقع
محمد علی حیدر نے عالمی منڈی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے ایک اور خوشخبری دی کہ بین الاقوامی سطح پر ایل پی جی کے مرکبات کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ بیوٹین کی فی ٹن قیمت کم ہو کر 600 ڈالر اور پروپین کی قیمت 500 ڈالر فی ٹن کی سطح پر آ چکی ہے۔
عالمی مارکیٹ کے اسی رجحان کے باعث آنے والے مہینے (جولائی) میں سعودی آرامکو کنٹریکٹ پرائس بھی 796 ڈالر سے گھٹ کر 592 ڈالر فی ٹن پر آنے کا امکان ہے۔ اگر یہ عالمی کمی برقرار رہتی ہے تو مقامی مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمتوں میں مزید 65 سے 70 روپے فی کلو تک کی بڑی کمی واقع ہو سکتی ہے، جو مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے ایک بڑی راحت ثابت ہو گی۔
