سانحہ کاہنہ کے بعد پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ، ٹیوشن سینٹرز کو قانون کے دائرے میں لانے کی تیاری

An image contrasting an old classroom with a modern registered educational setup in Punjab, representing the 1984 ordinance amendment for tuition centers.
پنجاب میں ٹیوشن سینٹرز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے 1984 کے تعلیمی آرڈیننس میں ترامیم کا فیصلہ۔

لاہور (ویب ڈیسک): لاہور کے علاقے کاہنہ میں پیش آنے والے المناک سانحے کے بعد پنجاب حکومت نے نجی ٹیوشن سینٹرز کی رجسٹریشن، نگرانی اور طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اہم قانونی اقدامات کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت نے 41 سال پرانے پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز آرڈیننس 1984 میں ترامیم کر کے ٹیوشن سینٹرز کو باقاعدہ ریگولیٹ کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سانحہ کاہنہ نے صوبے میں نجی ٹیوشن سینٹرز کے حوالے سے موجود قانونی خامیوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ موجودہ قانون میں ٹیوشن سینٹرز کا واضح طور پر ذکر موجود نہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں مراکز کسی مؤثر حکومتی نگرانی، رجسٹریشن یا حفاظتی معیارات کے بغیر کام کر رہے ہیں۔

قانونی خلا کو پُر کرنے کی تیاری

پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ بچوں کی حفاظت اور معیاری تعلیمی ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے قانون میں فوری ترامیم ناگزیر ہو چکی ہیں۔ مجوزہ ترامیم کے تحت تمام نجی ٹیوشن سینٹرز کو قانونی دائرہ کار میں لایا جائے گا تاکہ ان کی باقاعدہ رجسٹریشن، معائنہ اور نگرانی ممکن ہو سکے۔

مجوزہ قانون میں کیا شامل ہوگا؟

حکومتی ذرائع کے مطابق مجوزہ ترامیم میں درج ذیل اہم نکات شامل کیے جا رہے ہیں:

  • پنجاب بھر کے تمام ٹیوشن سینٹرز کے لیے سرکاری رجسٹریشن لازمی قرار دی جائے گی۔
  • رجسٹرڈ ٹیوشن سینٹرز کی وقتاً فوقتاً انسپکشن اور نگرانی کی جائے گی۔
  • عمارت کی مضبوطی، ایمرجنسی اخراج، آگ سے بچاؤ کے انتظامات اور دیگر حفاظتی اقدامات کو لازمی قرار دیا جائے گا۔
  • اساتذہ اور عملے کا ریکارڈ مرتب رکھنے اور ضروری دستاویزات فراہم کرنے کی پابندی ہوگی۔
  • طلبہ کے لیے محفوظ، صحت مند اور معیاری تعلیمی ماحول فراہم کرنا قانونی ذمہ داری ہوگا۔
  • خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے، رجسٹریشن کی منسوخی یا دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے گی۔

سانحہ کاہنہ کے بعد عوامی مطالبات

کاہنہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد والدین، شہریوں، ماہرین تعلیم اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا تھا کہ نجی ٹیوشن سینٹرز کے لیے بھی وہی حفاظتی اصول اور سرکاری نگرانی متعارف کرائی جائے جو دیگر تعلیمی اداروں پر لاگو ہوتی ہے۔ عوامی تشویش کے پیش نظر پنجاب حکومت نے فوری قانون سازی کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بچوں کی حفاظت اولین ترجیح

حکام کا کہنا ہے کہ نئی قانون سازی کا بنیادی مقصد بچوں کی جان و مال کا تحفظ، محفوظ تعلیمی ماحول کی فراہمی اور غیر رجسٹرڈ یا غیر محفوظ ٹیوشن سینٹرز کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے واضح قوانین اور مؤثر نگرانی ناگزیر ہے۔

جلد کابینہ اور اسمبلی میں پیش کیا جائے گا

ذرائع کے مطابق قانون میں ترامیم کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے، جسے منظوری کے لیے پہلے صوبائی کابینہ اور بعد ازاں پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ منظوری کے بعد نئے قوانین کا اطلاق پورے پنجاب میں کیا جائے گا، جس کے تحت تمام ٹیوشن سینٹرز کو مقررہ مدت کے اندر رجسٹریشن اور حفاظتی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نئی قانون سازی پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو نہ صرف طلبہ کا تحفظ بہتر ہوگا بلکہ نجی ٹیوشن سینٹرز میں تدریسی معیار، انتظامی شفافیت اور جوابدہی کو بھی فروغ ملے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے