سانحۂ کاہنہ: اس المناک واقعے کا ایک پہلو وہ بھی جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے

لاہور (اردو ڈیسک): لاہور کے علاقے کاہنہ میں پیش آنے والا المناک حادثہ، جس میں معصوم بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں، پورے ملک کو سوگوار کر گیا۔ اس سانحے نے والدین، اساتذہ اور معاشرے کے ہر حساس فرد کو گہرے دکھ میں مبتلا کر دیا۔ بلاشبہ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس کے زخم برسوں تک نہیں بھریں گے۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی جا رہی ہے، تاہم ایک ایسا پہلو بھی ہے جسے جذبات سے ہٹ کر انسانیت اور انصاف کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔
مقامی افراد کے مطابق، بچوں کو پڑھانے والی خاتون ایک محنتی، باصلاحیت اور ذمہ دار استاد تھیں۔ محدود وسائل کے باوجود انہوں نے اپنے گھر میں بچوں کو تعلیم دینا شروع کی تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے والدین کم خرچ میں اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دلا سکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے پاس روزانہ 20 سے 30 بچے زیرِ تعلیم تھے، جو ان کی تدریسی صلاحیتوں اور والدین کے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ کسی غیر اخلاقی یا غیر قانونی ذریعے سے روزگار حاصل کرنے کے بجائے عزت اور محنت کی کمائی پر یقین رکھتی تھیں۔ ان کی کوشش تھی کہ بچوں کو بہتر ماحول میں تعلیم دی جائے، اسی لیے انہیں صحن کی گرمی کے بجائے کمرے میں پنکھے کے نیچے بٹھا کر پڑھایا جاتا تھا۔ مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور اچانک پیش آنے والے حادثے نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔
اس سانحے میں معصوم بچوں کی جانوں کا ضیاع ناقابلِ تلافی نقصان ہے، جبکہ ان کے والدین کا غم الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح خود یہ خاتون بھی شدید صدمے سے دوچار ہیں، کیونکہ جن بچوں کو وہ بہتر مستقبل دینے کا خواب دیکھ رہی تھیں، انہی کے ساتھ یہ اندوہناک حادثہ پیش آ گیا۔
تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ حادثے کی ذمہ داری کا تعین جذبات کے بجائے مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات کی روشنی میں کیا جائے۔ اگر سرکاری تحقیقات سے یہ ثابت ہو کہ یہ ایک حادثاتی واقعہ تھا اور اس میں کسی کی مجرمانہ غفلت شامل نہیں تھی، تو معاشرے کو انصاف اور ہمدردی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ دوسری جانب اگر تحقیقات کسی قسم کی غفلت یا قانونی خلاف ورزی کی نشاندہی کریں تو اس کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
یہ سانحہ ہمیں ایک اور اہم سبق بھی دیتا ہے کہ ایسے تمام تعلیمی مراکز، خواہ وہ اسکول ہوں، اکیڈمیاں ہوں یا گھروں میں قائم ٹیوشن سینٹرز، ان کی عمارتوں کی مضبوطی، حفاظتی انتظامات اور قانونی تقاضوں پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو ایسا دردناک صدمہ نہ سہنا پڑے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس سانحے میں جاں بحق ہونے والے تمام بچوں کو اپنی رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کے والدین کو صبرِ جمیل دے، زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے اور اس حادثے سے متاثرہ خاتون سمیت تمام متاثرین کو ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے۔ آمین۔
