ٹرمپ کا ’معاہدہ ابراہیمی‘ اور ایران ڈیل: مشرقِ وسطیٰ میں نیا سفارتی طوفان اور پاکستان و سعودی عرب کا دو ٹوک انکار

لاہور، 26 مئی 2026ء – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز کے ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ کی جیو پولیٹکس ایک ایسے نازک موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں تہران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی اور "ابراہام اکارڈز” (معاہدہ ابراہیمی) کو آپس میں جوڑنے کی امریکی کوششوں نے عالمی سطح پر ایک نیا سفارتی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ ایک طرف قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان منجمد اثاثوں کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے حوالے سے حتمی مذاکرات جاری ہیں، تو دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم دنیا کے اہم ترین رہنماؤں کو براہِ راست ہدف بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران ڈیل کے بدلے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لائیں۔
تاہم، امریکی صدر کی اس جارحانہ سفارت کاری اور دباؤ کو مسلم دنیا کے دو اہم ترین ستونوں—پاکستان اور سعودی عرب—نے یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور مستقل حل کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی بھی مطالبہ قابلِ قبول نہیں ہے۔
ابراہام اکارڈز (معاہدہ ابراہیمی) کیا ہے؟ ایک تاریخی پسِ منظر
اس پورے تنازع کو سمجھنے کے لیے "ابراہام اکارڈز” کے پسِ منظر کو جاننا ضروری ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران، امریکہ نے فلسطین کا دیرینہ تنازع طے کرائے بغیر اسرائیل اور عرب ممالک کے تعلقات کو بحال کرنے کے لیے ایک سخت سفارتی مہم چلائی تھی۔ ان معاہدوں کا اعلان اگست اور ستمبر 2020ء کے درمیانی عرصے میں کیا گیا اور 15 ستمبر 2020ء کو واشنگٹن ڈی سی (وائٹ ہاؤس) میں اس دستاویز پر باقاعدہ دستخط کیے گئے۔
اس دستاویز کو تینوں ابراہیمی مذاہب—اسلام، عیسائیت اور یہودیت—کے علامتی اشتراک کی غرض سے "ابراہام اکارڈز” (میثاقِ ابراہیمی) کا نام دیا گیا۔ اس مہم کا آغاز متحدہ عرب امارات (UAE) اور بحرین سے ہوا تھا، جس کے بعد مراکش اور سوڈان بھی اس کا حصہ بنے۔ بعد ازاں اس دائرے میں قازقستان کو شامل کیا گیا اور اسرائیل نے اس کی توسیع کرتے ہوئے صومالی لینڈ کو بھی شامل کر لیا۔
ٹرمپ کو اپنے پہلے دور میں اس معاہدے کے لیے اپنی بیٹی ایوانکا کے صیہونی شوہر جیرڈ کشنر اور دیگر امریکی عیسائی صیہونیوں کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ اس سے قبل ٹرمپ نے مسلم دنیا کے جذبات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس (یروشلم) منتقل کر کے غیر رسمی طور پر اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا تھا، جس سے فلسطینیوں کے حقوق پر کاری ضرب لگی تھی۔
دوحہ مذاکرات اور ٹرمپ کی نئی ‘ایران ڈیل’
موجودہ صورتحال میں، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی سمیت ایک اعلیٰ سطحی ایرانی وفد قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ چکا ہے، جہاں قطری حکام کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان منجمد مالیاتی اثاثوں کی بحالی اور جنگ بندی پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، اس ممکنہ معاہدے کے تحت تہران کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے اور اس کے بدلے تقریباً 30 دن بعد ایران آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھول دے گا۔ اس سفارتی بریک تھرو کے اشاروں کے ساتھ ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گر کر 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہیں اور اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ پینٹاگون اور امریکی خارجہ امور کے سربراہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ دیگر سخت اقدامات سے پہلے سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا پورا موقع دے رہا ہے۔
تاہم، صدر ٹرمپ نے اس ڈیل پر اپنے مخصوص سخت انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا ہے:
"تہران کے ساتھ معاہدہ یا تو شاندار اور بامعنی ہو گا یا پھر سرے سے کوئی معاہدہ نہیں ہو گا۔ اور دوسری صورت میں ہمیں دوبارہ جنگی محاذ اور لڑائی کی طرف جانا پڑے گا جو پہلے سے کہیں زیادہ بڑی اور سخت ہو گی، اور کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا۔”
ٹرمپ کا مسلم رہنماؤں کو براہِ راست چیلنج
ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے ساتھ اس ممکنہ ڈیل کو ابراہیمی معاہدے کے وسیع تر دائرے سے جوڑ دیا ہے۔ انہوں نے مسلم دنیا کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کی پیچیدہ گتھی سلجھانے کے بعد یہ لازمی ہونا چاہیے کہ تمام مسلم ممالک بیک وقت ابراہیمی معاہدے پر دستخط کریں اور اسرائیل سے تعلقات معمول پر لائیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں براہِ راست درج ذیل اہم ترین رہنماؤں کا نام لے کر دباؤ بڑھایا ہے:
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان
متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان
قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی اور وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن جاسم آل ثانی
پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی
اردن کے شاہ عبداللہ دوم
بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ
ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ اس عمل کا آغاز فوری طور پر سعودی عرب اور قطر کے دستخطوں سے ہونا چاہیے اور باقی ممالک ان کی پیروی کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ ممالک ایسا نہیں کرتے تو یہ ان کی "بدنیتی” ظاہر کرے گا۔ ٹرمپ کے بقول، اگر یہ تمام ممالک اس تاریخی اتحاد کا حصہ بنتے ہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں پچھلے 5 ہزار برسوں میں پہلی بار حقیقی امن، استحکام اور معاشی ترقی آئے گی۔ انہوں نے امریکی سیاست دانوں (ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں) کو "احمق” قرار دیا جو اس ڈیل پر تنقید کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کا اصولی مؤقف: "فلسطینی ریاست کے بغیر کچھ ممکن نہیں”
امریکی صدر کی اس نئی تجویز اور دباؤ پر مسلم دنیا کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں کئی ممالک نے اس حساس معاملے پر تفتش آمیز خاموشی اختیار کر رکھی ہے، وہیں سعودی عرب نے فوری اور دو ٹوک الفاظ میں ٹرمپ کی اس تجویز کو ٹھکرا دیا ہے۔
سعودی ذرائع اور حکام نے واضح کیا ہے کہ ریاض کی فلسطین سے متعلق اصولی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ سعودی عرب کا مؤقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے سفارتی تعلقات کی بحالی یا ابراہیمی معاہدے کا حصہ بننا "مسئلہ فلسطین کے مستقل، جامع اور منصفانہ حل” سے مشروط ہے۔ ریاض کا صاف کہنا ہے کہ جب تک:
غزہ میں جاری جارحیت اور المناک سانحے کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا،
اور 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو،
تب تک اسرائیل کو تسلیم کرنے یا کسی بھی نئے معاہدے پر غور کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
پاکستان کا دو ٹوک اور سخت ردعمل: قائد اعظم کے اصولوں پر پہرہ
پاکستان نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابراہیمی معاہدے کا حصہ بننے کی تجویز کو یکسر اور سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان کے سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا بیان دراصل ایران-امریکہ جنگ بندی کی سفارت کاری کو اپنے سیاسی مقاصد اور ابراہیمی معاہدے کے دائرے کو پھیلانے کے لیے استعمال کرنے کی ایک کوشش ہے۔
پاکستانی سکیورٹی حکام نے واضح کیا کہ:
معاہدہ ابراہیمی اور ایران ڈیل دو بالکل الگ الگ معاملات ہیں۔ ان دونوں امور کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی انہیں مصنوعی طور پر ایک دوسرے سے جوڑا جا سکتا ہے۔
پاکستان پر اس طرح کے کسی بھی مطالبے یا دباؤ کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ پاکستان ایک آزاد خارجہ پالیسی کا حامل ملک ہے اور وہ اپنے فیصلوں میں خود مختار ہے۔
اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ پاکستان بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے طے کردہ ان تاریخی اصولوں پر کاربند ہے، جن کے مطابق جب تک فلسطینیوں کو ان کا جائز حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست نہیں مل جاتی، پاکستان اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
عالمی تجزیہ کاروں کی آراء: کیا یہ امن کی کوشش ہے یا سفارتی سبوتاژ؟
ٹرمپ کی اس نئی سفارتی حکمت عملی پر عالمی میڈیا اور تھنک ٹینکس میں ایک گہمی گہمی شروع ہو گئی ہے اور تجزیہ کار اس کے حق اور مخالفت میں مختلف دلائل دے رہے ہیں:
پہلا نقطہ نظر (سفارتی سبوتاژ): کچھ ماہرینِ خارجہ امور کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کا ابراہیمی معاہدے کو ایران کے ساتھ ممکنہ ڈیل سے مشروط کرنا دراصل ایران ڈیل کو سبوتاژ کرنے کی ایک سوچی سمجھی چال ہے۔ کیونکہ ٹرمپ جانتے ہیں کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ جیسے بڑے مسلم ممالک فلسطین کے معاملے پر اسرائیل کے ساتھ کسی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے، اور یوں ایران ڈیل کی ناکامی کا ملبہ مسلم دنیا پر ڈالا جا سکے گا۔
دوسرا نقطہ نظر (امن کی جانب بڑا قدم): اس کے برعکس، کچھ مغربی تجزیہ کار اسے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن اور بلاک سیاست کے خاتمے کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ایران اور عرب ممالک ایک ہی میز پر آ جائیں تو خطے کا سکیورٹی منظرنامہ ہمیشہ کے لیے بدل سکتا ہے۔
ایران کا اپنا موقف: دوسری طرف ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان منجمد اثاثوں اور ہرمز کے معاملے پر اتفاقِ رائے ضرور ہوا ہے، لیکن کسی فوری یا جادوئی معاہدے کی توقع نہیں کی جانی چاہیے کیونکہ جوہری امور پر فی الحال کوئی بات نہیں ہو رہی۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران کے لیے ہتھیار ڈالنے یا اپنے دفاعی موقف سے پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں، تاہم صدر مسعود پزشکیان نے ملک کے اندر بین الاقوامی انٹرنیٹ کی بحالی کا حکم دے کر نرمی کے اشارے دیے ہیں۔
حاصل کلام اور مستقبل کا منظرنامہ
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابراہیمی معاہدے کو دوبارہ زندہ کرنے اور اس میں پاکستان اور سعودی عرب جیسے بڑے ممالک کو گھسیٹنے کی کوشش نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے تحفظ اور اس کی قبولیت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
تاہم، غزہ کے المناک حالات اور ہزاروں بے گناہ فلسطینیوں کی قربانیوں کے بعد، مسلم دنیا کے عوام میں اسرائیل کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا اپنے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کے اصولوں پر مضبوطی سے ڈٹے رہنا اور سعودی عرب کا آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی شرط پر قائم رہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ کا "ابراہیمی معاہدہ 2.0” مسلم دنیا کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔ تہران اور واشنگٹن کی ڈیل اپنی جگہ قائم رہ سکتی ہے، لیکن اسے بیس بنا کر اسرائیل کو مسلم دنیا سے تسلیم کرانے کا خواب فی الحال شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آتا۔
