مریم نواز صاحبہ! یہ ہو کیا رہا ہے؟

پنجاب میں مریم نواز حکومت کی پرائیویٹ اسکولوں کے خلاف کارروائی اور پیرا فورس کا استعمال۔
پنجاب میں کاہنہ کے واقعے کے بعد نجی تعلیمی اداروں کے خلاف فورسز کا کریک ڈاؤن بند کیا جائے

تحریر: عمران حسنی

جب سے پنجاب میں مریم نواز صاحبہ کی حکومت قائم ہوئی ہے، صوبے کے عوام، خصوصاً نجی تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد نے ان سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِ اعلیٰ ہونے کے ناطے یہ توقع بجا تھی کہ تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں ایسی اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی جو عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کریں گی۔ ابتدا میں کچھ مثبت اقدامات بھی دیکھنے میں آئے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ایسے فیصلے سامنے آنے لگے جنہوں نے خصوصاً نجی تعلیمی شعبے میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔

لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک گھریلو ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کا المناک واقعہ پوری قوم کے لیے باعثِ صدمہ تھا۔ اس حادثے میں متعدد معصوم بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور کئی خاندان ہمیشہ کے لیے غم میں ڈوب گئے۔ اس سانحے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور اگر کسی کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوتی ہے تو اسے قانون کے مطابق سخت سزا ملنی چاہیے۔ ایسے سانحات کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک افسوسناک واقعے کی بنیاد پر پورے نجی تعلیمی شعبے کو مجرم سمجھ لینا انصاف ہے؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس سانحے کے بعد اصلاحات کے نام پر ایسی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں جن کی زد میں وہ چھوٹے نجی اسکول بھی آ گئے ہیں جن کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔

آج مختلف علاقوں میں اسکولوں کی چیکنگ کے نام پر غیر متعلقہ فورسز کے ذریعے چھاپے مارے جا رہے ہیں، تعلیمی ادارے سیل کیے جا رہے ہیں اور اساتذہ و منتظمین کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے جو کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں۔ قانون کی عملداری اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن قانون نافذ کرنے کا طریقہ بھی اتنا ہی مہذب اور منصفانہ ہونا چاہیے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر تعلیمی ادارے کی رجسٹریشن لازمی ہونی چاہیے اور تمام اسکولوں کو حفاظتی اصولوں اور حکومتی قوانین پر عمل کرنا چاہیے۔ لیکن اگر کوئی ادارہ ابھی تک رجسٹرڈ نہیں ہو سکا تو حکومت کی پہلی ذمہ داری اسے سہولت فراہم کرنا ہے، نہ کہ اسے ذلیل و رسوا کرنا۔

پنجاب کے گلی محلوں اور دیہات میں قائم ہزاروں چھوٹے نجی اسکول کوئی بڑی کاروباری کمپنیاں نہیں بلکہ ایسے ادارے ہیں جو انتہائی محدود وسائل میں چند سو روپے فیس لے کر لاکھوں بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ یہی ادارے سرکاری اسکولوں پر پڑنے والا بوجھ بھی کم کر رہے ہیں۔ اگر یہ اسکول بند ہو گئے تو سب سے زیادہ نقصان ان غریب والدین اور ان کے بچوں کو ہوگا جن کے لیے مہنگے کارپوریٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنا ممکن نہیں۔

افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ اس سارے بحران میں نجی اسکولوں کی نمائندہ تنظیمیں بھی کوئی مؤثر کردار ادا کرتی نظر نہیں آ رہیں۔ ایسے وقت میں جب ہزاروں اسکول مالکان خوف اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، انہیں مضبوط قیادت اور مؤثر نمائندگی کی ضرورت ہے۔

وزیرِ اعلیٰ مریم نواز صاحبہ! اگر واقعی آپ پنجاب میں تعلیمی انقلاب لانا چاہتی ہیں تو اس کے لیے خوف نہیں بلکہ اعتماد کی فضا قائم کرنا ہوگی۔

حکومت کو چاہیے کہ نجی اسکولوں کی نمائندہ تنظیموں، ماہرینِ تعلیم اور متعلقہ حکام کو ایک میز پر بٹھا کر قابلِ عمل پالیسی مرتب کرے۔ رجسٹریشن کے عمل کو آسان، شفاف، تیز رفتار اور پہلی مرتبہ مکمل طور پر مفت بنایا جائے تاکہ تمام غیر رجسٹرڈ ادارے بلاخوف قانون کے دائرے میں آ سکیں۔

اسی طرح موجودہ مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیشِ نظر چھوٹے نجی اسکولوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکج کا اعلان بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان اداروں کو بند کرنے کے بجائے مضبوط کیا جائے، کیونکہ یہی ادارے لاکھوں بچوں کے مستقبل کی ضمانت ہیں۔

تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ اس شعبے میں اصلاحات ضرور ہونی چاہئیں، لیکن اصلاحات کا راستہ ڈنڈے، چھاپوں اور تذلیل سے نہیں بلکہ مکالمے، اعتماد اور تعاون سے نکلتا ہے۔

مریم نواز صاحبہ! ابھی بھی وقت ہے کہ آپ ذاتی طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں۔ ایسے اقدامات کو روکا جائے جن سے قانون پر عمل کرنے والے تعلیمی ادارے بھی خوف اور بے یقینی کا شکار ہوں۔ قانون کی حکمرانی ضرور قائم ہونی چاہیے، مگر اس کے ساتھ انصاف، احترام اور دانش بھی نظر آنی چاہیے۔

کیونکہ اگر چھوٹے نجی اسکول کمزور ہوئے تو صرف چند عمارتیں بند نہیں ہوں گی، بلکہ لاکھوں غریب بچوں کے خواب، ہزاروں اساتذہ کا روزگار اور پنجاب کا تعلیمی مستقبل بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے