بھارت ‘جہنم’ ہے: صدر ٹرمپ کے بیان پر نئی دہلی کا شدید احتجاج، اپوزیشن کی مودی پر تنقید

Donald Trump and Indian Flag with Hellhole concept representation for news thumbnail. trump remarks india hellhole
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھارت سے متعلق متنازع بیان اور نئی دہلی کا ردعمل۔

نئی دہلی / واشنگٹن (23 اپریل، 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر بھارت اور چین کو "جہنم” (Hellhole) قرار دینے والے ایک متنازع بیان کی حمایت نے بھارت میں ایک بڑا سفارتی اور سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس بیان کو "نامناسب اور ذائقہ سے عاری” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

خبر کا پس منظر

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر قدامت پسند ریڈیو ہوسٹ مائیکل سیوج کا ایک خط اور ویڈیو شیئر کی۔ اس مواد میں امریکہ میں پیدائشی شہریت (Birthright Citizenship) کے قانون پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ:

"یہاں (امریکہ میں) پیدا ہونے والا بچہ فوری شہری بن جاتا ہے، اور پھر وہ اپنے پورے خاندان کو چین، بھارت یا کرہ ارض کے کسی دوسرے جہنم (Hellhole) سے یہاں لے آتے ہیں۔”

ٹرمپ نے نہ صرف اس پوسٹ کو ری شیئر کیا بلکہ اسے امیگریشن پالیسی پر اپنی قانونی جنگ کے حق میں بطور دلیل استعمال کیا۔

بھارت کا سرکاری ردعمل: "نامناسب اور حقیقت سے دور”

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران اس معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا:

  • "یہ ریمارکس سراسر غیر مصدقہ (Uninformed)، نامناسب اور انتہائی خراب ذائقہ (In Poor Taste) کے حامل ہیں۔”

  • انہوں نے مزید کہا کہ یہ بیان بھارت اور امریکہ کے درمیان باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی قریبی تعلقات کی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتا۔

trump remarks india hellhole

سیاسی پارہ ہائی: اپوزیشن کا مودی سے سوال

بھارت کی اپوزیشن جماعتوں، خاص طور پر کانگریس نے اس معاملے پر وزیراعظم نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا کہ:

"مودی جی کے ‘عزیز دوست’ نے 140 کروڑ بھارتیوں کی توہین کی ہے، لیکن وزیراعظم خاموش کیوں ہیں؟ وہ کس بات سے ڈر رہے ہیں؟”

اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ "نمستے ٹرمپ” جیسے بڑے ایونٹس کروانے کے باوجود اگر امریکی صدر بھارت کے بارے میں ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں، تو یہ بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔

امریکی سفارت خانے کی صفائی (Damage Control)

معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے نئی دہلی میں موجود امریکی سفارت خانے نے فوری طور پر وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ:

  1. صدر ٹرمپ بھارت کو ایک "عظیم ملک” تسلیم کرتے ہیں۔

  2. وزیراعظم مودی صدر ٹرمپ کے بہترین دوست ہیں۔

  3. سفارت خانے کے مطابق صدر کا مقصد بھارت کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ وہ امریکی قوانین پر بحث کر رہے تھے۔

عالمی ردعمل

دلچسپ بات یہ ہے کہ حیدرآباد میں مقیم ایرانی قونصل خانے نے بھی اس بحث میں کودتے ہوئے ٹرمپ کے بیان کو "نسل پرستانہ” قرار دیا اور کہا کہ بھارت اور چین تہذیبوں کا گہوارہ ہیں، جبکہ اصل مسائل وہاں ہیں جہاں جنگی جرائم ہوتے ہیں۔

تجزیہ

ماہرینِ خارجہ امور کا ماننا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ کے ایسے بیانات ان کی داخلی سیاست کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن ایک ایسے وقت میں جب بھارت اور امریکہ کے درمیان بڑے تجارتی معاہدے ہو رہے ہیں، اس طرح کی زبان دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات میں تلخی پیدا کر سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے