سولر پینل قومی گرڈ کے لیے خطرہ بن گئے، نئے تکنیکی اور انتظامی مسائل کا سامنا ہے: اویس لغاری

وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری کی تصویر اور کراس کا نشان لگے سولر پینلز جو قومی گرڈ پر دباؤ کی عکاسی کر رہے ہیں
وزیرِ توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ سولر پینلز کا بے تحاشا اضافہ قومی گرڈ کے لیے تکنیکی مسائل کا سبب بن رہا ہے۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک): وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس لغاری نے کہا ہے کہ ملک میں سولر پینلز کا تیزی سے بڑھتا ہوا رجحان قومی گرڈ کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے سسٹم کو نئے تکنیکی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات اور گرڈ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ سولرائزیشن کی موجودہ لہر نے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (DISCOs) اور قومی گرڈ کے توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

گرڈ کو درپیش تکنیکی اور انتظامی مسائل

وزارتِ توانائی کے ذرائع کے مطابق، سولر سسٹمز اور خصوصاً نیٹ میٹرنگ کے پھیلاؤ سے پیدا ہونے والے بڑے مسائل درج ذیل ہیں:

  1. صارفین کی کمی اور مالیاتی خسارہ: بڑی تعداد میں صنعتی، تجارتی اور امیر گھریلو صارفین کے سولر پر منتقل ہونے سے سرکاری بجلی کی طلب میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس سے بجلی کمپنیوں کے ریونیو کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور گنجائش کی ادائیگیوں (Capacity Charges) کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔

  2. گرڈ کی غیر متوازن فریکوئنسی: دن کے وقت جب دھوپ تیز ہوتی ہے تو لاکھوں سولر پینلز سے پیدا ہونے والی بجلی نیٹ میٹرنگ کے ذریعے گرڈ میں واپس جاتی ہے۔ شام کے وقت سورج غروب ہوتے ہی اچانک گرڈ پر لاکھوں میگاواٹ کا بوجھ واپس آ جاتا ہے، جس سے وولٹیج اور فریکوئنسی کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

  3. غریب صارفین پر بوجھ: وزیرِ توانائی کا کہنا ہے کہ سولر سسٹم لگانے کی سکت صرف صاحبِ ثروت طبقہ رکھتا ہے، جبکہ ان کی وجہ سے ہونے والے نقصانات اور سسٹم کے اخراجات کا بوجھ ان غریب صارفین پر منتقل ہو رہا ہے جو سولر خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

پالیسی میں متوقع تبدیلیاں

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت سولر پینلز خصوصاً نیٹ میٹرنگ کے قواعد و ضوابط پر دوبارہ غور کر رہی ہے۔ مستقبل میں نیٹ میٹرنگ کے تحت گرڈ کو دی جانے والی بجلی کے نرخوں (Buyback Rates) کو کم کرنے یا سولر صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کرنے جیسی تجاویز زیرِ غور ہیں تاکہ قومی گرڈ کو دیوالیہ ہونے سے بچایا جا سکے۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں بجلی کے بھاری بلوں اور مسلسل بڑھتے ہوئے ٹیکسز سے تنگ آ کر شہریوں نے بڑے پیمانے پر سولر پینلز کا رخ کیا ہے، جس کی وجہ سے گزشتہ دو سالوں کے دوران سولر پینلز کی درآمدات میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے