اسلام کا نظامِ انسدادِ گدگری اور ہماری معاشرتی ذمہ داریاں

معاشرتی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ حلال روزی، محنت اور خودداری کے اصولوں پر قائم ہو۔ اسلام نے زندگی گزارنے کے جو بنیادی ضابطے دیے ہیں، ان میں محنت کی عظمت کو سرفہرست رکھا گیا ہے۔ اس کے برعکس، گدگری یا بھیک مانگنے کا رجحان ایک ایسا ناسور ہے جو نہ صرف انفرادی خودداری کو مجروح کرتا ہے بلکہ اجتماعی سطح پر معاشرے کی بنیادوں کو بھی کھوکھلا کر دیتا ہے۔
اسلام میں بغیر کسی حقیقی اور شدید مجبوری کے مانگنا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔ رزقِ حلال کی تلاش کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے اور اپنے ہاتھوں سے محنت کر کے کمانے والے کو اللہ کا دوست قرار دیا گیا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں اس بات کی شدید تردید آئی ہے کہ کوئی شخص بلا ضرورت لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے، کیونکہ اس سے انسان کی عزتِ نفس اور معاشرتی وقار پامال ہوتا ہے۔
اسلامی ریاست کے نظام میں ہمیشہ سے پیشہ ورانہ گدگری کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام نے اس بگاڑ کو روکنے کے لیے عملی اور سخت اقدامات کیے۔ ایسے افراد جو بلا عذر محنت کرنے سے کتراتے اور پیشہ ورانہ طور پر مانگنے کو اپنا معمول بنا لیتے تھے، ان کے خلاف تعزیری کارروائیاں کی گئیں تاکہ معاشرے میں محنت کش طبقے کی حوصلہ افزائی ہو اور پرجیوت کلچر کا خاتمہ کیا جا سکے۔
آج کے دور میں گدگری صرف ایک انفرادی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک منظم مافیا کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ لاکھوں افراد اس دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں، جن میں بڑی تعداد ایسے بچوں اور خواتین کی ہے جو اس غیر قانونی دھندے کا نشانہ بنتے ہیں۔
اس ناسور سے نجات حاصل کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
حکومتی اور قانونی سختی: پیشہ ورانہ گدگری کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے قانون کا مؤثر نفاذ کیا جائے اور اس میں ملوث مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
فلاحی اداروں کا کردار: واقعی ضرورت مند اور مستحق افراد کی کفالت کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری فلاحی نظام کو مضبوط کیا جائے تاکہ کسی کو مجبوری کے تحت بھی مانگنے کی نوبت نہ آئے۔
شعور کی بیداری: معاشرے میں محنت کی عظمت کو اجاگر کیا جائے اور نئی نسل کو عزتِ نفس کے ساتھ جینے کا درس دیا جائے۔
گدگری ایک ایسی لعنت ہے جو معاشرے کی خوبصورتی کو گہنا دیتی ہے۔ بحیثیتِ قوم ہمیں اس کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہمارے معاشرے کا ہر فرد محنت اور حلال روزی کے ذریعے اپنی زندگی پروقار طریقے سے بسر کر سکے۔
