🛑 سرکاری اساتذہ اپنے مستقبل کی فکر کریں: تباہ ہوتے تعلیمی نظام میں آپ کا کل کہاں ہے؟

A locked abandoned government school building with old books scattered on the ground representing the educational crisis
سرکاری تعلیمی اداروں کی زبوں حالی اور اساتذہ کے غیر یقینی مستقبل کی ایک عکاسی۔

انسان چاہے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو، اسے اپنے مستقبل، روزگار اور معاشی تحفظ کی فکر ضرور ہوتی ہے۔ لیکن اس وقت پاکستان کا سب سے اہم اور مقدس شعبہ—یعنی تعلیم—جس نہج پر پہنچ چکا ہے، اس نے اساتذہ برادری کو ایک گہرے اِرتکاز اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

موجودہ حکومت کے آنے کے بعد سے تعلیمی اداروں کی بندش، پالیسیوں میں عدم تسلسل اور نت نئے تجربات نے اس شعبے کو بری طرح مفلوج کر دیا ہے۔ کبھی جائز تو کبھی ناجائز حربوں کا سہارا لے کر اسکولوں کو بند رکھنا یا انہیں غیر یقینی صورتحال سے دوچار کرنا اب ایک معمول بن چکا ہے۔

🔹 پرائیویٹ سیکٹر کا ردعمل: متبادل کی تلاش

اس صورتحال کا ایک رخ یہ ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں کے مالکان اور اساتذہ اب ذہنی طور پر اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں کہ موجودہ حکومتی ترجیحات میں تعلیم کا فروغ شامل نہیں ہے۔ انہیں اندازہ ہو چکا ہے کہ اس شعبے کو نہ تو اب چلنے دیا جا رہا ہے اور نہ ہی آئندہ اس کی کوئی امید ہے۔

چونکہ وہ پرائیویٹ سیکٹر سے وابستہ ہیں، اس لیے ان کی ایک بڑی تعداد نے حالات کے رحم و کرم پر رہنے کے بجائے خود کو دوسرے شعبوں میں ایڈجسٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔ وہ کاروبار، فری لانسنگ یا دیگر متبادل ذرائع روزگار کا انتخاب کر رہے ہیں تاکہ اپنا معاشی وجود برقرار رکھ سکیں۔

🔹 سرکاری اساتذہ کے لیے خطرے کی گھنٹی

لیکن اصل اور سب سے بڑا سوالیہ نشان سرکاری اساتذہ کے مستقبل پر ہے۔ سرکاری اساتذہ کا ایک بڑا طبقہ اس گمان میں بیٹھا ہے کہ ان کی ملازمتیں محفوظ ہیں۔ یاد رکھیے:

  • آپ کے مستقبل کا مکمل دارومدار سرکاری تنخواہ، مراعات اور پنشن پر ہے۔

  • کوئی بھی حکومت ہمیشہ مفت کی روٹیاں یا بغیر پیداواری صلاحیت (Productivity) کے تنخواہیں نہیں دے سکتی۔

  • جب تعلیمی ادارے ہی مستقل بنیادوں پر تباہی کا شکار ہو جائیں گے، اسٹوڈنٹس کا سرکاری اسکولوں پر اعتماد ختم ہو جائے گا، تو ریاست کب تک اس بھاری بجٹ کا بوجھ اٹھائے گی؟

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نام پر اسکولوں کی نجکاری (Privatization) اور ڈاؤن سائزنگ کے جو بادل منڈلا رہے ہیں، وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ اگر ادارے ہی نہ رہے، تو سرکاری اساتذہ کا مستقبل کہاں سے محفوظ ہوگا؟

🔹 اب نہیں تو کب؟ بطورِ قوم حل کی ضرورت

یہ صرف اساتذہ کا ذاتی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک قومی المیہ بھی ہے۔ اگر بطورِ قوم ہم نے تعلیم دشمن پالیسیوں کے خلاف آواز نہ اٹھائی اور اس بحران کا کوئی مستقل، ٹھوس اور سنجیدہ حل نہ نکالا، تو یاد رکھیے:

"تعلیمی اداروں کا زوال کسی بھی قوم کے زوال کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ اگر آج سرکاری اساتذہ نے اپنے حق اور نظام کی بقا کے لیے سنجیدگی سے نہ سوچا، تو ایک انتہائی تاریک مستقبل آپ کا منتظر ہے۔”

وقت آ گیا ہے کہ اساتذہ برادری صرف ‘آج’ کی تنخواہ پر مطمئن ہونے کے بجائے اپنے ‘کل’ کے تحفظ کے لیے بیدار ہو، پالیسی سازوں کو جھنجھوڑے اور اس گرتے ہوئے نظام کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے