علم، حکمت اور اسرارِ الٰہی کا سفر: حضرت موسٰیؑ اور حضرت خضرؑ کا ایمان افروز واقعہ

تحریر: ویب ڈیسک
قرآنِ کریم کا حسنِ بیان ہے کہ یہ اپنے دامن میں ایسے لافانی واقعات سمیٹے ہوئے ہے جو رہتی دنیا تک انسانی عقل کو حیرت کے سمندر میں ڈبو دیتے ہیں اور دلوں کو ایمان و یقین کی روشنی سے منور کرتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک انتہائی منفرد، سسپنس اور حکمت سے بھرپور واقعہ سورت الکہف میں بیان کیا گیا ہے، جو اللہ کے دو برگزیدہ بندوں—حضرت موسٰی علیہ السلام (پیغمبرِ وقت) اور حضرت خضر علیہ السلام (جنہیں اللہ نے علمِ لدّنی یعنی غیب کے اسرار سے نوازا تھا)—کے درمیان ایک تاریخی ملاقات اور سفر پر مبنی ہے۔
یہ واقعہ محض ایک کہانی نہیں، بلکہ انسانی عقل کی حدود، مصلحتِ الٰہی، صبرِ جمیل اور ظاہر و باطن کے فرق کو سمجھنے کا ایک عظیم الشان درس ہے۔
واقعے کا پس منظر: علم کی تلاش کا سفر
صحیح بخاری کی روایت کے مطابق، ایک مرتبہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے سامنے ایک انتہائی فصیح و بلیغ خطبہ دیا۔ خطبے کے بعد ایک شخص نے سوال کیا: "اے موسٰی! کیا زمین پر اس وقت آپ سے بڑھ کر بھی کوئی صاحبِ علم موجود ہے؟”
حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے علمِ نبوت کے پیشِ نظر (بغیر کسی تکبر کے) جواب دیا: "نہیں۔”
اللہ تعالیٰ کو یہ جواب پسند نہ آیا، کیونکہ علم کا اصل منبع اللہ کی ذات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے فرمایا: "اے موسٰی! مجمع البحرین (دو سمندروں کے ملنے کا مقام) پر ہمارا ایک بندہ ہے، جس کے پاس ایسا علم ہے جو ہم نے تمہیں نہیں دیا۔”
حضرت موسٰی علیہ السلام کے اندر علمِ الٰہی کی پیاس تڑپ اٹھی۔ انہوں نے فوراً عرض کیا: "بارِ الٰہی! میں ان سے کیسے ملوں؟” اللہ نے حکم دیا کہ ایک مچھلی ٹوکری میں رکھ کر سفر پر نکل جاؤ، جہاں وہ مچھلی غائب ہو جائے، وہی ہمارے اس بندے کا پتہ ہوگا۔
مجمع البحرین اور مچھلی کا زندہ ہونا
حضرت موسٰی علیہ السلام اپنے وفادار ساتھی اور شاگرد یوشع بن نون کے ساتھ سفر پر روانہ ہو گئے۔ سفر طویل تھا، ایک مقام پر چٹان کے پاس دونوں نے آرام کیا۔ وہاں ایک معجزہ رونما ہوا؛ ٹوکری میں موجود مردہ مچھلی اچانک زندہ ہوئی اور سمندر میں اپنا راستہ بناتی ہوئی نکل گئی۔ یوشع بن نون یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے، لیکن جب دونوں آگے بڑھے تو وہ حضرت موسٰیؑ کو یہ بتانا بھول گئے۔
کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد جب حضرت موسٰیؑ نے تھکن محسوس کی اور کھانا مانگا، تو یوشع بن نون کو یاد آیا اور انہوں نے معذرت کے ساتھ کہا: "جب ہم چٹان کے پاس رکتے تھے، تو مچھلی عجیب طریقے سے سمندر میں چلی گئی تھی، اور شیطان نے مجھے یہ بات آپ کو بتانے سے بھلا دی۔”
حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا: "اسی جگہ کی تو ہمیں تلاش تھی!” چنانچہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات ڈھونڈتے ہوئے واپس اسی چٹان تک پہنچ گئے۔
اسرارِ الٰہی کے امین سے ملاقات اور کڑی شرط
چٹان کے پاس پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ ایک بزرگ چادر اوڑھے تشریف فرما ہیں۔ یہ حضرت خضر علیہ السلام تھے۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے بڑھ کر سلام کیا اور اپنا تعارف کرایا۔
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا: "کیا میں آپ کے ساتھ اس شرط پر رہ سکتا ہوں کہ جو رشد و ہدایت کا علم آپ کو سکھایا گیا ہے، اس میں سے کچھ مجھے بھی سکھائیں؟”
حضرت خضرؑ نے جواب دیا: "آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر سکیں گے۔ اور آپ اس بات پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں جس کا احاطہ آپ کے علم (ظاہری علم) نے نہیں کیا؟”
حضرت موسٰیؑ نے یقین دلایا: "ان شاء اللہ! آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔”
تب حضرت خضر علیہ السلام نے ایک کڑی شرط رکھی: "اگر آپ کو میرے ساتھ چلنا ہے، تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں تب تک کوئی سوال نہیں کریں گے، جب تک میں خود اس کا راز آپ پر ظاہر نہ کر دوں۔” حضرت موسٰیؑ نے یہ شرط قبول کر لی اور یوں ظاہر اور باطن کے علوم کا ایک انوکھا سفر شروع ہوا۔
سفر کے تین عجیب و غریب واقعات
اس سفر کے دوران تین ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی عقلِ انسانی اور شریعت کے ظاہری قوانین کو شدید آزمائش میں ڈال دیا:
۱. کشتی میں شگاف ڈالنا (ظاہری نقصان، باطنی حفاظت)
دونوں ایک کشتی میں سوار ہوئے، کشتی والوں نے حضرت خضرؑ کو پہچان کر بغیر کرائے کے سوار کر لیا۔ لیکن سفر کے دوران حضرت خضرؑ نے کلہاڑی نکال کر کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس میں شگاف ڈال دیا۔ حضرت موسٰیؑ سے رہا نہ گیا، وہ بول اٹھے: "آپ نے کشتی کو توڑ دیا تاکہ اس کے سوار ڈوب جائیں؟ یہ تو آپ نے بڑا خطرناک کام کیا!” حضرت خضرؑ نے دھیرے سے یاد دلایا: "کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے؟” حضرت موسٰیؑ نے معذرت کی کہ وہ بھول گئے تھے۔
۲. معصوم بچے کا قتل (ظاہر میں ظلم، باطن میں رحمت)
کشتی سے اتر کر وہ ایک بستی کی طرف بڑھے۔ وہاں کچھ بچے کھیل رہے تھے۔ حضرت خضرؑ نے ان میں سے ایک خوبصورت بچے کو پکڑا اور اسے قتل کر دیا۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت موسٰیؑ تڑپ اٹھے اور شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا: "آپ نے ایک بے گناہ جان کو بغیر کسی قصاص کے قتل کر دیا؟ یہ تو آپ نے انتہائی ناپسندیدہ اور گناہ کا کام کیا ہے!” حضرت خضرؑ نے دوبارہ وہی جملہ دہرایا: "میں نے آپ سے کہا تھا نا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر سکتے۔” حضرت موسٰیؑ نے شرمندگی کا اظہار کیا اور کہا: "اگر اب میں نے کوئی سوال کیا، تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا۔”
۳. بغیر اجرت کے دیوار کی تعمیر (ظاہر میں بیوقوفی، باطن میں عدل)
وہ ایک اور بستی میں پہنچے جہاں کے لوگ انتہائی بخیل تھے۔ انہوں نے مسافروں کو کھانا کھلانے یا پناہ دینے سے صاف انکار کر دیا۔ اسی بستی میں ایک دیوار گرنے والی تھی۔ حضرت خضرؑ نے کسی اجرت یا کھانے کے بغیر، اپنے ہاتھوں سے اس دیوار کو سیدھا کر کے تعمیر کر دیا۔ حضرت موسٰیؑ نے حیرت سے کہا: "ان بستی والوں نے ہمارے ساتھ اتنا برا سلوک کیا، اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اجرت لے سکتے تھے تاکہ ہمارے کھانے کا بندوبست ہو جاتا۔”
جدائی کا وقت اور رازوں سے پردہ اٹھنا
اب حضرت موسٰی علیہ السلام کی طرف سے تین بار شرط ٹوٹ چکی تھی، چنانچہ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: "ھٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِکَ” (یہ میرے اور تمہارے درمیان جدائی کا وقت ہے)۔ لیکن الگ ہونے سے پہلے حضرت خضرؑ نے ان تینوں واقعات کے پیچھے چھپی حکمتِ الٰہی اور باطنی اسرار سے پردہ اٹھایا:
کشتی کا راز: "وہ کشتی چند غریب مزدوروں کی تھی جو سمندر میں محنت کرتے تھے۔ آگے ایک ظالم بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر اچھی اور سالم کشتی کو زبردستی چھین رہا تھا۔ میں نے کشتی کو عیب دار اس لیے کیا تاکہ وہ بادشاہ کے غصب سے محفوظ رہے اور غریبوں کا روزگار بچ جائے۔”
بچے کا راز: "اس بچے کے والدین مومن اور نیک صالح لوگ تھے۔ یہ بچہ بڑا ہو کر سرکش اور کافر بنتا اور اپنے والدین کو بھی کفر و گمراہی میں مبتلا کر دیتا۔ اللہ نے چاہا کہ اسے اٹھا کر والدین کو اس کے بدلے ایک نیک اور فرمانبردار اولاد عطا فرمائے۔”
دیوار کا راز: "وہ دیوار بستی کے دو یتیم بچوں کی تھی۔ اس کے نیچے ان کا خزانہ دفن تھا اور ان کا باپ ایک نیک انسان تھا۔ اللہ نے چاہا کہ وہ بچے جوان ہوں اور اپنا خزانہ خود نکالیں۔ اگر دیوار گر جاتی تو بخیل بستی والے وہ خزانہ لوٹ لیتے۔ میں نے جو کچھ بھی کیا، اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے کیا۔”
اس تاریخی واقعے سے ملنے والے لافانی اسباق
حضرت موسٰیؑ اور حضرت خضرؑ کا یہ سفر انسانیت کے لیے حکمتوں کا ایک ایسا خزانہ ہے جس کے نکات آج کے دور میں بھی اتنے ہی اہم ہیں:
انسانی عقل کی محدودیت: انسان صرف وہی دیکھتا ہے جو اس کے سامنے (ظاہر) ہوتا ہے، جبکہ اللہ کا نظامِ کائنات باطنی مصلحتوں اور دور رس نتائج پر مبنی ہوتا ہے۔
شر کے پیچھے چھپی خیر: بعض اوقات ہماری زندگی میں ایسے حادثات یا نقصانات ہوتے ہیں جنہیں ہم اپنے لیے برا سمجھتے ہیں (جیسے کشتی کا ٹوٹنا یا کوئی مادی نقصان)، لیکن درحقیقت وہ کسی بڑے نقصان سے بچانے کا الٰہی ذریعہ ہوتے ہیں۔
علم کے لیے تواضع اور صبر: حضرت موسٰی علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر نے علم کی خاطر سفر کی صعوبتیں برداشت کیں اور استاد کے سامنے ادبا شرط تسلیم کی۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ علم حاصل کرنے کے لیے عاجزی اور صبر بنیادی شرط ہیں۔
والدین کی نیکی کا اثر: یتیم بچوں کا خزانہ صرف اس لیے محفوظ رہا کیونکہ ان کا باپ ایک صالح انسان تھا۔ معلوم ہوا کہ والدین کی نیکی ان کی وفات کے بعد بھی اولاد کے لیے حصار بن جاتی ہے۔
حاصلِ کلام
قرآنِ پاک کا یہ فیچر ہمیں سکھاتا ہے کہ جب زندگی میں حالات ہماری سمجھ اور مرضی کے خلاف چل رہے ہوں، تو دل چھوٹا کرنے کے بجائے مصلحتِ الٰہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ کائنات کا اصل نظام وہ نہیں جو ہماری محدود آنکھ دیکھ رہی ہے، بلکہ وہ ہے جسے علام الغیوب کمالِ حکمت کے ساتھ چلا رہا ہے۔
