حکومتی جواز، بلا جواز: سکیورٹی کے بہانے، احتجاج کا حق اور ریاستی ذمہ داری

جمہوری نظام میں حکومت اور اپوزیشن کو ایک ہی گاڑی کے دو پہیے کہا جاتا ہے۔ حکومت کا کام ریاست چلانا، قانون کی بالادستی قائم کرنا اور عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے، جبکہ اپوزیشن کا فرض حکومتی پالیسیوں کی نگرانی، غلطیوں کی نشاندہی اور پرامن احتجاج کے ذریعے عوام کی آواز بننا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں جمہوری اقدار کو پروان چڑھانے کے بجائے احتجاج کو خطرہ اور اپوزیشن کو حریف سمجھنے کا رجحان مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے اکثر یہ مؤقف اپنایا جاتا ہے کہ سکیورٹی کے سنگین خطرات کے پیشِ نظر اپوزیشن کی احتجاجی تحریک کو ملتوی یا محدود کیا جانا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ سکیورٹی فراہم کرنا بنیادی طور پر کس کی ذمہ داری ہے؟ اگر ملک میں امن و امان کے مسائل موجود ہیں، اگر کوئی گروہ فساد پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے، تو اس کا سدباب کرنا کس کا کام ہے؟ یہ ریاست کی رٹ اور سکیورٹی اداروں ہی کی ذمہ داری ہے۔ جب حکومت اپنی اسی بنیادی ذمہ داری سے پہلو تہی کرتے ہوئے احتجاج کو خطرے کا باعث قرار دیتی ہے، تو یہ دراصل اپنی ہی کارکردگی پر سوال اٹھانے کے مترادف ہے۔
ریاست کی بنیادی ذمہ داری: امن و امان کا قیام
کسی بھی مہذب معاشرے میں ریاست کا سب سے پہلا فریضہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ اگر حکومت سکیورٹی خدشات کو جواز بنا کر عوام یا اپوزیشن کو سیاسی حقوق کے استعمال سے روکتی ہے، تو یہ دراصل انتظامی کمزوری کا برملا اعتراف ہے، نہ کہ کوئی معقول پالیسی۔
- امن کا قیام: سکیورٹی کے حالات بہتر بنانا اور ہر شہری کو اس کا حق دینا حکومت کی مستقل ذمہ داری ہے، نہ کہ کسی خاص موقع پر یاد آنے والا فرض۔
- روک تھام کا رویہ: ہر سیاسی سرگرمی کو طاقت یا زور زبردستی سے دبانا مسائل حل نہیں کرتا بلکہ انہیں مزید بڑھاوا دیتا ہے۔
- آئینی حق: آئینِ پاکستان ہر شہری اور سیاسی جماعت کو پرامن احتجاج اور آزادیِ اظہار کا بنیادی حق دیتا ہے، جو کسی بھی انتظامی جواز سے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
خوف کی سیاست اور زمینی حقائق
یہ ایک مستقل وطیرہ بن چکا ہے کہ جب بھی کوئی عوامی تحریک یا احتجاج سر اٹھاتا ہے تو دہشت گردی یا انتشار کا خدشہ ظاہر کر دیا جاتا ہے۔ منطقی طور پر یہ دلیل درحقیقت خود حکومت کے خلاف جاتی ہے: اگر ملکی حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ایک عام جلسہ یا جلوس بھی سنگین سکیورٹی خطرہ بن جاتا ہے، تو یہ سوال بجا طور پر اٹھتا ہے کہ حکومتی رٹ اور کارکردگی کہاں کھڑی ہے۔
یہ انتظامی ناکامی ہے کہ ریاست کے اندر ایسی صورتحال پیدا ہونے دی جائے جو پرامن احتجاج کو بھی داؤ پر لگا دے، اور پھر اسی خوف کو بنیاد بنا کر عوام کے جمہوری حقوق پر قدغن لگا دی جائے۔ بہتر طرزِ عمل یہ ہوتا کہ حکومت ملکی حالات کو اس نہج تک بہتر بناتی کہ کسی کے پاس یہ جواز ہی باقی نہ رہتا کہ وہ سکیورٹی یا امن و امان کا نام لے کر احتجاج کا راستہ روکے۔
بہتر طرزِ حکمرانی کا تقاضا
جمہوریت طاقت کے بل بوتے پر نہیں بلکہ مکالمے اور عوامی رضامندی سے چلتی ہے۔ طاقت کا استعمال مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں مزید الجھا دیتا ہے۔
حکومتوں کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ اپنے فرائضِ منصبی کی ادائیگی میں کوتاہی کا ملبہ اپوزیشن کے احتجاج پر ڈالنے کے بجائے اپنی سکیورٹی خامیوں کو دور کریں۔
اگر حکومت واقعی ملک میں امن اور استحکام چاہتی ہے، تو اسے سختی کا راستہ ترک کر کے سیاسی تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اپوزیشن کو احتجاج سے روکنے کے لیے سکیورٹی کا بہانہ تراشنے کے بجائے ایسے حالات پیدا کیے جانے چاہئیں جن میں عوام کو سڑکوں پر آنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔ اور اگر عوام یا اپوزیشن اپنا آئینی حق استعمال کرنا چاہتی ہے، تو ریاست کا فرض یہ ہے کہ وہ انہیں بھرپور تحفظ فراہم کرے، نہ کہ خوف کے پردے میں ان کی آواز کو دبا دے۔
جمہوریت کی اصل پہچان یہی ہے کہ اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بلکہ نظام کا حصہ سمجھا جائے، اور احتجاج کو کچلنے کے بجائے اس کے تحفظ کو ریاستی ترجیح بنایا جائے۔
