وزیر اعلیٰ بلوچستان: پیپلز پارٹی کے ساتھ یا نئے صوبوں کے بیانیے کے ساتھ؟

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے مؤقف
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی جانب سے نئے صوبوں کی حمایت نے پیپلز پارٹی کے مؤقف اور بلوچستان حکومت کی سیاسی سمت پر نئی بحث چھیڑ دی۔

تحریر: محمد عمران حسنی
ویب ڈیسک — UrduDesk.com

پاکستان کی سیاست میں بعض اوقات ایک جملہ یا ایک سیاسی مؤقف اس سے کہیں زیادہ معنی اختیار کر لیتا ہے جتنا بظاہر اس کا تعلق کسی ایک انتظامی تجویز سے ہوتا ہے۔ آج کل نئے صوبوں کی بحث بھی اسی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ وفاقی سطح پر نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کی بات ہو رہی ہے، پیپلز پارٹی اس بحث پر سخت تحفظات کا اظہار کر رہی ہے، اور ایسے میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا نئے صوبوں کی حمایت میں سامنے آنا کئی سیاسی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے حالیہ دنوں میں مؤقف اختیار کیا کہ پورے بلوچستان کو کوئٹہ سے مؤثر انداز میں چلانا ممکن نہیں اور اگر نئے صوبے بنائے جائیں تو ان کی بنیاد لسانی یا نسلی نہیں بلکہ انتظامی ہونی چاہیے۔

بظاہر یہ ایک انتظامی دلیل ہے۔ لیکن سیاست میں بظاہر انتظامی معاملہ بھی اس وقت سیاسی معنی اختیار کر لیتا ہے جب وہ کسی بڑی جماعت کے مرکزی مؤقف سے مختلف سمت میں کھڑا دکھائی دے۔

یہاں معاملے کا دوسرا پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

پیپلز پارٹی نے حالیہ ہفتوں میں نئے صوبوں کے معاملے پر وفاقی حکومت کے بیانات کی مخالفت کی ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صوبائی خودمختاری، 18ویں ترمیم اور صوبوں کی آئینی حیثیت کو کسی بھی ایسے اقدام سے متاثر نہیں ہونا چاہیے جو سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی طریقہ کار کے بغیر آگے بڑھایا جائے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی کہا ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ پارلیمان میں زیرِ بحث آنا چاہیے۔ یعنی پارٹی کی طرف سے اس وقت جو سیاسی لائن سامنے آ رہی ہے، وہ فوری طور پر نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کے بجائے آئینی اور پارلیمانی طریقہ کار پر زور دیتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کا مؤقف دلچسپ ہو جاتا ہے۔

سرفراز بگٹی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ہیں اور ان کی حکومت میں مسلم لیگ ن بھی اتحادی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ مارچ 2024 میں وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے اور ان کی نامزدگی میں پیپلز پارٹی کی قیادت کا کردار نمایاں تھا۔

لیکن نئے صوبوں کے سوال پر ان کا مؤقف پیپلز پارٹی کے موجودہ سیاسی ردعمل سے مختلف دکھائی دیتا ہے۔

یہاں سے ایک سیاسی سوال پیدا ہوتا ہے:

اگر ایک طرف پیپلز پارٹی نئے صوبوں کے معاملے پر اپنے صوبائی حقوق، 18ویں ترمیم اور موجودہ صوبائی ڈھانچے کے تحفظ کی بات کر رہی ہے، اور دوسری طرف اسی جماعت سے تعلق رکھنے والا بلوچستان کا وزیر اعلیٰ نئے صوبوں کو انتظامی ضرورت قرار دے رہا ہے، تو کیا یہ محض ایک انتظامی رائے ہے یا اس کے پیچھے کوئی وسیع تر سیاسی سوچ بھی موجود ہے؟

اس سوال کا حتمی جواب فی الحال دینا مشکل ہے۔

لیکن یہ تضاد ضرور موجود ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان میں صوبائی سیاست کو سمجھنے کے لیے ایک پرانی بحث ہمیشہ موجود رہی ہے کہ صوبائی حکومتیں کس حد تک آزاد سیاسی فیصلے کرتی ہیں اور کس حد تک طاقت کے بڑے مراکز کے ساتھ ہم آہنگی رکھتی ہیں۔

بلوچستان کے معاملے میں یہ سوال مزید حساس ہو جاتا ہے، کیونکہ صوبہ طویل عرصے سے سکیورٹی، وسائل، وفاقی اختیار اور صوبائی خودمختاری کی بحث کا مرکز رہا ہے۔

لیکن صرف اس بنیاد پر کہ سرفراز بگٹی نے نئے صوبوں کی حمایت کی ہے، یہ نتیجہ نکال دینا کہ انہوں نے لازماً اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ یا ہدایت پر اپنا مؤقف تبدیل کیا، موجودہ شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔

اس کے لیے براہِ راست شواہد درکار ہوں گے۔

البتہ سیاسی طور پر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ان کا مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت کے بعض اہم وزرا بھی نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کی بحث کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی نئے صوبوں اور انتظامی تقسیم کو ناگزیر قرار دینے کی بات کی ہے، جبکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اس بحث کو پہلے ہی نمایاں طور پر آگے بڑھا چکے ہیں۔

یوں بگٹی کا بیان ایک وسیع تر قومی بحث کے اندر کھڑا نظر آتا ہے۔

یہ سوال زیادہ اہم ہے۔

پیپلز پارٹی کی سیاست کا ایک بڑا ستون صوبائی خودمختاری اور خصوصاً 18ویں ترمیم سے جڑا ہوا ہے۔ سندھ میں پارٹی نے نئے صوبے یا صوبے کی تقسیم کی تجاویز کے خلاف سخت ردعمل دیا ہے اور سندھ کی وحدت و صوبائی خودمختاری کو اپنے سیاسی مؤقف کا حصہ بنایا ہے۔

ایسے میں اگر بلوچستان سے پیپلز پارٹی کا وزیر اعلیٰ یہ کہتا ہے کہ بڑے صوبے کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم یا نئے انتظامی یونٹس میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے، تو یہ لازماً پارٹی سے بغاوت نہیں، مگر سیاسی طور پر ایک اہم اختلافِ رائے ضرور ہے۔

اور یہی اختلاف آنے والے دنوں میں پیپلز پارٹی کے لیے ایک مشکل سوال بن سکتا ہے:

کیا پارٹی نئے صوبوں کے معاملے پر پورے ملک کے لیے ایک ہی اصول اپنائے گی، یا ہر صوبے کے سیاسی اور انتظامی حالات کے مطابق مختلف مؤقف رکھے گی؟

یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جبکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے کم آبادی والا صوبہ ہے۔ ایک ہی صوبائی دارالحکومت سے اتنے وسیع جغرافیے کو مؤثر انداز میں چلانے کی مشکل کا مؤقف سرفراز بگٹی نے بھی پیش کیا ہے۔

اس لیے بلوچستان میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث کو صرف سندھ یا پنجاب کی صوبائی تقسیم کے تناظر میں دیکھنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔

اگر انتظامی بنیاد پر نئے یونٹس بنانے کی بحث ہے تو پھر سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ:

  • کیا نئے صوبے واقعی انتظامی کارکردگی بہتر کریں گے؟
  • وسائل کی تقسیم کیسے ہوگی؟
  • این ایف سی ایوارڈ پر کیا اثر پڑے گا؟
  • معدنی وسائل اور قدرتی دولت کی ملکیت اور آمدن کا نظام کیا ہوگا؟
  • نئے صوبوں کے قیام سے صوبائی خودمختاری مضبوط ہوگی یا مرکز کا کردار بڑھے گا؟
  • اور سب سے بڑھ کر، کیا اس پر عوام، صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمان میں حقیقی اتفاقِ رائے موجود ہے؟

یہ سوال صرف سیاسی نعروں سے حل نہیں ہوں گے۔

میرے نزدیک اس وقت سب سے اہم بات یہ نہیں کہ سرفراز بگٹی نے واقعی کسی خاص طاقت کے دباؤ میں آ کر یہ مؤقف اختیار کیا یا نہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے اندر سے ایک ایسی آواز سامنے آئی ہے جو نئے صوبوں کے معاملے پر پارٹی کے موجودہ سیاسی ردعمل سے مختلف سمت دکھا رہی ہے۔

یہ معمولی بات نہیں۔

اگر آنے والے دنوں میں وفاقی حکومت نئے صوبوں کی بحث کو مزید آگے بڑھاتی ہے اور سرفراز بگٹی اسی مؤقف پر قائم رہتے ہیں، تو پھر یہ سوال زیادہ شدت سے اٹھے گا کہ بلوچستان کی حکومت کی سیاسی ترجیحات کہاں کھڑی ہیں؟

کیا وہ پیپلز پارٹی کی مرکزی سیاسی لائن کے ساتھ ہیں؟

یا بلوچستان کے انتظامی مفادات کو بنیاد بنا کر ایک الگ راستہ اختیار کر رہے ہیں؟

اور اگر دونوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہے تو پھر یہ صرف سرفراز بگٹی اور پیپلز پارٹی کا اختلاف نہیں ہوگا، بلکہ یہ پاکستان میں صوبائی سیاست، مرکز و صوبہ تعلقات اور 18ویں ترمیم کے مستقبل پر ایک بڑی بحث کا آغاز بھی بن سکتا ہے۔

فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے اپنا وزن کسی مخصوص طاقت کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔ لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ان کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث ایک بار پھر سیاسی مرکز بن چکی ہے اور پیپلز پارٹی اس بحث پر اپنے تحفظات واضح کر چکی ہے۔

اب اصل امتحان یہ ہوگا کہ یہ اختلاف محض ایک انتظامی رائے تک محدود رہتا ہے یا آنے والے دنوں میں باقاعدہ سیاسی پوزیشن اختیار کرتا ہے۔

کیونکہ پاکستان میں صوبے صرف نقشے پر کھینچی گئی لکیریں نہیں ہونگے۔

ان کے ساتھ اختیار، وسائل، شناخت، نمائندگی اور سیاسی طاقت بھی تقسیم ہونی ہے۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کا نئے صوبوں کے حق میں دیا گیا ایک بیان، بظاہر انتظامی ہونے کے باوجود، اس وقت ایک بڑے سیاسی سوال میں تبدیل ہو چکا ہے:

کیا بلوچستان کا وزیر اعلیٰ پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑا ہے، یا وہ نئے انتظامی پاکستان کے بیانیے کے ساتھ اپنی الگ سیاسی سمت متعین کر رہا ہے؟

اس سوال کا حتمی جواب شاید آنے والے سیاسی فیصلے دیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے