🌐 عالمی ادارے (Frontier Economics)کی پاکستان میں موبائل سروسز پر بھاری ٹیکسز کم کرنے کی سفارش

A busy street in Pakistan showing people using mobile phones representing the digital economy and mobile services.
پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل سروسز کا استعمال معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

عالمی معاشی تحقیقی ادارے فرنٹیئر اکنامکس (Frontier Economics) نے پاکستان میں موبائل سیکٹر پر عائد بھاری ٹیکسوں کو ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے ان میں نمایاں کمی کی سفارش کر دی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں موبائل سروسز پر سب سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ڈیجیٹل معیشت اور موبائل انٹرنیٹ کے پھیلاؤ میں مشکلات کا سامنا ہے۔

عالمی ادارے کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ موبائل سروسز پر عائد مجموعی 37 فیصد سیلز اور ٹرن اوور ٹیکس کو فوری طور پر کم کر کے 17 فیصد کیا جائے۔

📉 ٹیکسوں میں کمی کے لیے اہم سفارشات اور تجاویز

فرنٹیئر اکنامکس نے پاکستان کے پیچیدہ ٹیکس ڈھانچے کو آسان اور معتدل بنانے کے لیے درج ذیل سفارشات پیش کی ہیں:

  • ایڈوانس انکم ٹیکس کا خاتمہ: صارفین سے وصول کیا جانے والا 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس (AIT) مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

  • جنرل سیلز ٹیکس (GST) میں کمی: موبائل سروسز پر عائد 19.5 فیصد جنرل سیلز ٹیکس کو کم کر کے 16 فیصد پر لایا جائے۔

  • ریگلوٹیری ڈیوٹی میں ریلیف: سالانہ 2.5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کو کم کر کے 1 فیصد کیا جائے۔

  • کارپوریٹ اور سپر ٹیکس پر نظرثانی: موبائل کمپنیوں کے منافع پر عائد 29 فیصد کارپوریٹ ٹیکس اور 10 فیصد سپر ٹیکس کو دیگر شعبوں کے برابر لا کر اضافی بوجھ کم کیا جائے۔

  • اضافی چارجز کا خاتمہ: موبائل سروسز، نئے سم کارڈز کی خریداری اور رسائی سے متعلق دیگر اضافی چارجز کو بھی ختم کیا جائے۔

🚀 ٹیکس اصلاحات کے ملکی معیشت اور جی ڈی پی (GDP) پر مثبت اثرات

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹیکسوں میں عارضی کمی سے طویل المدتی بنیادوں پر حکومتی محصولات (Revenue) اور ملکی معیشت کو زبردست فائدہ پہنچے گا:

  1. فی کس جی ڈی پی میں اضافہ: موبائل فون کے استعمال میں صرف 1 فیصد اضافے سے فی کس جی ڈی پی کی شرح نمو میں تقریباً 0.115 فیصد پوائنٹس اضافہ ممکن ہے۔ ان اصلاحات سے پاکستان میں فی کس جی ڈی پی کی شرح نمو 4.2 فیصد سے بڑھ کر 4.5 فیصد تک جا سکتی ہے۔

  2. آپریٹرز کی آمدنی میں اضافہ: مجوزہ ٹیکس اصلاحات کے بعد موبائل آپریٹرز کی آمدن میں تقریباً 6.4 فیصد اضافہ ہوگا، جس سے وہ نیٹ ورک کی بہتری اور نئی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کر سکیں گے۔

  3. ڈیجیٹلائزیشن اور مالی شمولیت: ٹیکسوں کی کمی سے موبائل ڈیٹا کے استعمال اور صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا، جو ملک میں ڈیجیٹلائزیشن، ای کامرس اور مالی شمولیت (Financial Inclusion) کو فروغ دے گا۔

📢 عالمی ادارے کا مؤقف:

فرنٹیئر اکنامکس کا کہنا ہے کہ موبائل سیکٹر پر عائد مخصوص اور بھاری ٹیکسوں کو کم کر کے انہیں دیگر صنعتی شعبوں کے برابر لایا جائے اور ان ٹیکس اصلاحات کو پاکستان کی وسیع تر ڈیجیٹلائزیشن حکمت عملی کا لازمی حصہ بنایا جائے تاکہ ملک پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے