پاکستان میں صحت عامہ کا نیا مشن: ہیپاٹائٹس، ایڈز اور پولیو کے خاتمے کیلئے وزیراعظم کا انقلابی منصوبہ

تحریر: ادارہ اردو ڈیسک (UrduDesk.com)
پاکستان اس وقت صحت کے شعبے میں ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور محدود وسائل کے باوجود، جان لیوا امراض جیسے ہیپاٹائٹس، ایڈز (HIV) اور پولیو کے خلاف جنگ اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ حال ہی میں اسلام آباد میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے ان امراض کے مکمل سدباب کے لیے جس جامع منصوبے کی منظوری دی ہے، وہ پاکستان کی طبی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
وزیراعظم کی ہدایت اور اسکریننگ کی اہمیت
وزیراعظم شہباز شریف نے وزارتِ صحت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے واضح کیا کہ سرکاری اسپتالوں میں آنے والے ہر مریض کی ہیپاٹائٹس اور ایڈز کے لیے اسکریننگ کو یقینی بنایا جائے۔ یہ حکم محض ایک انتظامی کارروائی نہیں ہے بلکہ یہ ایک سائنسی ضرورت ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق، ہیپاٹائٹس اور ایڈز ایسے امراض ہیں جو برسوں تک انسانی جسم میں خاموشی سے پلتے رہتے ہیں اور جب تک علامات ظاہر ہوتی ہیں، تب تک جگر یا مدافعت کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہوتا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے "بروقت تشخیص” پر زور دینا اس بات کی علامت ہے کہ اب حکومت "علاج سے بہتر پرہیز اور تشخیص” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
آٹو ڈس ایبل سرنجز: انفیکشن کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا حل
پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی، سی اور ایڈز کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ سرنج کا دوبارہ استعمال یا غیر معیاری سرنجز ہیں۔ وزیراعظم نے اس حوالے سے سخت ترین ہدایات جاری کی ہیں:
سرنج کا دوبارہ استعمال: ڈریپ (DRAP) کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مارکیٹ اور اسپتالوں میں سرنجز کے دوبارہ استعمال کو ہر قیمت پر روکیں۔
آٹو ڈس ایبل (AD) سرنجز: یہ ایسی سرنجز ہوتی ہیں جو ایک بار استعمال ہونے کے بعد خود بخود لاک ہو جاتی ہیں اور انہیں دوبارہ استعمال کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ ملک بھر میں ان کا نفاذ لاکھوں جانوں کو بچانے کا سبب بنے گا۔
وزیراعظم ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کا نفاذ
وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر "ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام” میں تیزی لانے کا حکم دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت نہ صرف علاج مفت فراہم کیا جائے گا بلکہ دیہی علاقوں تک ادویات اور اسکریننگ کٹس کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان یہ ہم آہنگی صحت کے شعبے میں موجود خلا کو پُر کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
ایڈز (HIV) کے خلاف جنگ: تھراپی سینٹرز میں اضافہ
پاکستان میں ایڈز کے حوالے سے سماجی رکاوٹیں (Social Stigma) ہمیشہ سے ایک چیلنج رہی ہیں۔ حکومت نے اس رکاوٹ کو توڑنے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں:
موجودہ 98 اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی سینٹرز کو ایک سال کے اندر بڑھا کر 164 کیا جا رہا ہے۔
ہوائی اڈوں پر غیر قانونی تارکین وطن کی اسکریننگ کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ بیرون ملک سے آنے والے کیسز کو کنٹرول کیا جا سکے۔
پولیو سے پاک پاکستان: ایک قومی عزم
پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو اب بھی موجود ہے۔ تاہم، حالیہ اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں۔ وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی کہ:
حالیہ مہم میں 98 فیصد کوریج حاصل کی گئی۔
ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ وزیراعظم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جب تک ایک بھی بچہ پولیو کا شکار ہے، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
پاکستان میں ان امراض کی موجودہ صورتحال اور چیلنجز
ایک ہزار الفاظ پر محیط اس تجزیے میں ہمیں ان وجوہات کو بھی دیکھنا ہوگا جن کی وجہ سے پاکستان ان امراض کی لپیٹ میں ہے:
اتائی ڈاکٹر (Quacks): گلی محلوں میں بیٹھے غیر مستند ڈاکٹر غیر معیاری اوزاروں سے امراض پھیلا رہے ہیں۔
خون کی منتقلی (Blood Transfusion): اسکریننگ کے بغیر خون کی منتقلی ہیپاٹائٹس اور ایڈز کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہے۔
آگہی کی کمی: عوام اب بھی اسکریننگ کروانے کو عیب سمجھتے ہیں۔
وزیراعظم کا ویژن: "ایک جان کا تحفظ ہر چیز پر مقدم”
اجلاس کے دوران وزیراعظم کے یہ الفاظ کہ "ہم ہر حد، ہر رکاوٹ اور ہر قربانی کے لیے تیار ہیں” ظاہر کرتے ہیں کہ اب صحت کا بجٹ اور پالیسیاں صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہیں گی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی اجلاس میں موجودگی اس بات کی ضمانت ہے کہ ان طبی منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی جائے گی۔
عوامی ذمہ داری: ہم کیا کر سکتے ہیں؟
حکومتی اقدامات اسی وقت کامیاب ہوتے ہیں جب عوام تعاون کریں۔ شہریوں کو چاہیے کہ:
ہمیشہ نئی اور سیل بند سرنج کا مطالبہ کریں۔
نائی کی دکان پر حجامت کے لیے نیا بلیڈ استعمال کروائیں۔
حکومتی اسکریننگ کیمپوں سے فائدہ اٹھائیں۔
مستقبل کا لائحہ عمل
آنے والے مہینوں میں وزارتِ صحت کی کارکردگی کا امتحان ہوگا۔ 164 تھراپی سینٹرز کا قیام اور آٹو ڈس ایبل سرنجز کی ملک گیر سپلائی ایک بڑا لاجسٹک چیلنج ہے۔ تاہم، وزیراعظم کی ذاتی دلچسپی اور مانیٹرنگ سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ پاکستان جلد ہی ان موذی امراض سے نجات حاصل کر لے گا۔
خلاصہ: وزیراعظم شہباز شریف کا یہ اقدام پاکستان کو ایک صحت مند مستقبل دینے کی جانب پہلا قدم ہے۔ ہیپاٹائٹس، ایڈز اور پولیو کا خاتمہ صرف ایک طبی ضرورت نہیں بلکہ یہ ہماری آنے والی نسلوں کی بقا کا مسئلہ ہے۔ حکومت، طبی ماہرین اور عوام کا اتحاد ہی اس خواب کو حقیقت بنا سکتا ہے۔
مزید خبروں اور تجزیوں کے لیے دیکھتے رہیے: UrduDesk.com
