وال اسٹریٹ جرنل کا انکشاف: متحدہ عرب امارات کے ایران پر خفیہ حملے، خطے میں نئی جنگ کا خطرہ

واشنگٹن / دبئی (نیوز ڈیسک) امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل” نے اپنی ایک تہلکہ خیز رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (UAE) نے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری حالیہ کشیدگی کے دوران خفیہ طور پر ایران کے اندر فوجی کارروائیاں کیں۔ ان حملوں کا مقصد ایران کے اہم توانائی کے ڈھانچے کو مفلوج کرنا تھا۔
لاوان جزیرے پر حملہ اور ریفائنری کی بندش
رپورٹ کے مطابق یو اے ای نے خلیج فارس میں واقع ایران کے اسٹریٹجک لاوان جزیرے (Lavan Island) پر موجود ایک بڑی آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اپریل 2026 کے آغاز میں اس وقت کیا گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پانچ ہفتوں کی فضائی مہم کے بعد جنگ بندی کے اعلان کی تیاری کر رہے تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں ریفائنری میں شدید آگ لگ گئی اور اسے عارضی طور پر کام روکنا پڑا۔
امریکی سرپرستی اور خاموش حمایت
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے متحدہ عرب امارات کی اس براہِ راست شمولیت کا خفیہ طور پر خیر مقدم کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب دیگر خلیجی ممالک جنگ میں براہِ راست حصہ لینے سے ہچکچا رہے تھے، یو اے ای نے جارحانہ حکمتِ عملی اپنائی۔ تاہم، امریکی حکومت نے اب تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔
ایران کا جوابی وار: یو اے ای پر 2800 حملے
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران نے ان خفیہ حملوں کا سراغ لگاتے ہی یو اے ای اور کویت پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی برسات کر دی۔ ذرائع کے مطابق:
ایران نے سب سے زیادہ حملے یو اے ای پر کیے جن کی تعداد 2800 سے زائد بتائی گئی ہے۔
یہ حملے اسرائیل پر کیے گئے حملوں کی شدت سے بھی زیادہ تھے۔
جوابی کارروائی میں یو اے ای کے کئی توانائی مراکز اور سہولیات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے دفاع کے لیے اسرائیل نے اپنا آئرن ڈوم (Iron Dome) سسٹم اور عملہ بھی یو اے ای روانہ کیا۔
معاشی بحران اور سکیورٹی پالیسی میں تبدیلی
ان حملوں نے متحدہ عرب امارات کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق:
کئی بڑے اداروں میں بڑے پیمانے پر ملازمین کی برطرفیاں اور جبری رخصتیاں دیکھی گئی ہیں۔
ملک کی سکیورٹی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کرتے ہوئے اب ایران کو ایک "علاقائی خطرہ” قرار دے کر دفاعی کے بجائے جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کی جا رہی ہے۔
یو اے ای کا مؤقف
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ "یو اے ای کو اپنی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے۔”
یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششیں دم توڑ رہی ہیں اور صدر ٹرمپ نے حالیہ ایرانی تجاویز کو "ناقابلِ قبول” قرار دے دیا ہے، جس سے خطے میں ایک بڑے ٹکراؤ کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔
