وزیرِ اعظم کے حلقے میں عوام کے ساتھ ‘گھناؤنا مذاق’: کچا شہزادہ روڈ کو کشادہ کیے بغیر تعمیر کرنے کی تیاری، عوامی دہائی

Kacha Shahzada Road 60 feet wide road shrinked to 20 feet due to encroachments
کچا شہزادہ روڈ: 60 فٹ کا روڈ 20 فٹ رہ گیا، تجاوزات کے خاتمے کے بغیر تعمیر پر عوامی احتجاج

لاہور (رپورٹ: اردو ڈیسک) وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف کے حلقہ انتخاب کا اہم ترین علاقہ کاہنہ نو، جو جنوبی لاہور کے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، ان دنوں ترقیاتی کاموں کا محور بنا ہوا ہے۔ جہاں ایک طرف ریکارڈ ترقیاتی کاموں پر عوام حکومت کی معترف ہے، وہیں "کچا شہزادہ روڈ” کی تعمیر کے حوالے سے ایک سنگین عوامی مطالبہ سامنے آیا ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ روڈ کو تجاوزات ختم کیے بغیر اور کشادہ کیے بغیر تعمیر کرنا عوامی مفاد کے خلاف اور سرکاری خزانے کے ضیاع کے مترادف ہوگا۔

ترقیاتی کام اور عوامی شکایات کاہنہ نو میں صوبائی حکومت کی جانب سے تیزی سے ترقیاتی کام جاری ہیں۔ وفاقی وزیر رانا مبشر اقبال اور ایم پی اے چوہدری نواز لدھڑ ان منصوبوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اگرچہ مجموعی طور پر کام کی رفتار بہتر ہے، تاہم بعض مقامات پر کرپشن اور ناقص مٹیریل کے استعمال کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں، جن پر قابو پانا شفافیت کے لیے ناگزیر ہے۔

کچا شہزادہ روڈ: اصل مسئلہ کیا ہے؟ حکومت نے ریلو والی مسجد فیروز پور روڈ سے شہزادے والا پل تک کچا شہزادہ روڈ کی تعمیر کا اعلان کیا ہے اور اس پر کام کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ لیکن سب سے بڑا مسئلہ اس روڈ کی موجودہ چوڑائی ہے۔

  • علاقے کے بزرگوں کے مطابق یہ روڈ ماضی میں 50 سے 60 فٹ چوڑا تھا، جو اب تجاوزات کے باعث سکڑ کر محض 20 سے 25 فٹ رہ گیا ہے۔
  • تجاوزات کا عالم یہ ہے کہ پوری سڑک پر ایک ترتیب نہیں ہے؛ کہیں سے سڑک کھلی ہے تو کہیں گھروں اور دکانوں کے دروازے سڑک کے بیچوں بیچ آ چکے ہیں۔

عوام کا پرزور مطالبہ کاہنہ کے عوام نے وزیرِ اعظم شہباز شریف، وزیرِ اعلیٰ مریم نواز، رانا مبشر اقبال اور نواز لدھڑ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس روڈ کو اسی حالت میں تعمیر نہ کیا جائے۔

عوام کا موقف ہے کہ:

  1. ٹریفک کا دباؤ: آبادی میں اضافے کی وجہ سے یہاں سارا دن ٹریفک جام رہتی ہے۔ اگر سڑک کشادہ نہ کی گئی تو نئی سڑک بننے کے باوجود ٹریفک کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
  2. تجاوزات کا خاتمہ: جب پورے پنجاب میں تجاوزات کے خلاف مہم جاری ہے، تو وزیرِ اعظم کے اپنے حلقے میں اس اہم روڈ کو تجاوزات کے سائے میں کیوں تعمیر کیا جا رہا ہے؟
  3. سرکاری خزانے کا تحفظ: بغیر منصوبہ بندی اور کشادگی کے سڑک بنانا محض پیسے کا ضیاع ہے، کیونکہ چند ماہ بعد ہی یہ سڑک دوبارہ ٹریفک کے مسائل کی وجہ سے ناکارہ ثابت ہوگی۔

حکمرانوں سے اپیل اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ ہم ترقیاتی کاموں پر حکومت کے شکر گزار ہیں، لیکن کچا شہزادہ روڈ کی تعمیر سے پہلے اس کی حد بندی کی جائے اور اسے اس کی اصل چوڑائی پر بحال کیا جائے۔ اگر اسے موجودہ "ٹیڑھی میڑھی” حالت میں ہی پکا کر دیا گیا تو یہ عوام کے ساتھ ایک گھناؤنا مذاق ہوگا۔

حکامِ بالا سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اس عوامی مطالبے پر فوری توجہ دیں گے تاکہ یہ ترقیاتی منصوبہ کاہنہ کی عوام کے لیے حقیقی ریلیف ثابت ہو سکے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے