پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کا بڑھتا ہوا بحران: ایک خاموش قاتل کی دستک

پاکستان اس وقت صحت کے ایک ایسے سنگین بحران سے گزر رہا ہے جس کی بازگشت ہسپتالوں کے وارڈز سے لے کر عالمی اداروں کی رپورٹوں تک سنائی دے رہی ہے۔ ہیپاٹائٹس سی، جسے طبی ماہرین "خاموش قاتل” (Silent Killer) کہتے ہیں، پاکستان میں ایک وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ دنیا بھر میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان اب دوسرے نمبر پر آچکا ہے، جو کہ ملک کے مستقبل اور نظامِ صحت کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
ہیپاٹائٹس سی کیا ہے؟
ہیپاٹائٹس سی ایک وائرل انفیکشن ہے جو براہِ راست انسانی جگر پر حملہ آور ہوتا ہے۔ یہ ‘ہیپاٹائٹس سی وائرس’ (HCV) کی وجہ سے ہوتا ہے، جو جگر میں سوزش پیدا کرتا ہے اور طویل عرصے تک علاج نہ ہونے کی صورت میں جگر کے سکڑنے (Cirrhosis) یا جگر کے کینسر کا باعث بنتا ہے۔ اس بیماری کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ برسوں تک جسم کے اندر بغیر کسی واضح علامت کے موجود رہ سکتی ہے، اور جب اس کا پتہ چلتا ہے، تب تک جگر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔
پاکستان میں تشویشناک اعداد و شمار
عالمی ادارہ صحت (WHO) کی رپورٹوں کے مطابق، پاکستان میں لگ بھگ ایک کروڑ سے زائد افراد اس موذی مرض کا شکار ہیں۔ یہ تعداد ملک کی کل آبادی کا ایک بڑا حصہ بنتی ہے۔ ہر سال ہزاروں افراد اس بیماری کی پیچیدگیوں کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے کچھ اضلاع میں اس کی شرح باقی ملک کے مقابلے میں کہیں زیادہ دیکھی گئی ہے، جہاں دیہی علاقوں میں آگاہی کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے۔
وائرس کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات
پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے اتنی تیزی سے پھیلنے کی وجوہات سماجی، معاشی اور طبی نظام کی کمزوریوں میں پنہاں ہیں:
1. غیر محفوظ طبی طریقے
پاکستان میں عطائی ڈاکٹروں (Quacks) کا جال پھیلا ہوا ہے جو اکثر ایک ہی سرنج کو متعدد مریضوں پر استعمال کرتے ہیں۔ سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں بھی جہاں طبی آلات کو جراثیم سے پاک کرنے (Sterilization) کا انتظام ناقص ہوتا ہے، وہاں یہ وائرس ایک مریض سے دوسرے تک منتقل ہو جاتا ہے۔
2. حجام کی دکانیں اور بیوٹی پارلرز
گلی محلوں میں موجود حجام کی دکانوں پر ایک ہی استرے یا بلیڈ کا بار بار استعمال ہیپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ اسی طرح بیوٹی پارلرز میں ناک کان چھدوانے یا دیگر بیوٹی ٹریٹمنٹس کے لیے غیر محفوظ سوئیوں کا استعمال بھی خطرے کا باعث بنتا ہے۔
3. خون کی غیر محفوظ منتقلی
اگرچہ بڑے شہروں میں خون کی سکریننگ کا نظام بہتر ہوا ہے، لیکن اب بھی بہت سے علاقوں میں خون کی منتقلی سے پہلے اس کی مکمل جانچ نہیں کی جاتی۔ آلودہ خون کی ایک بوتل کسی بھی صحت مند انسان کو عمر بھر کے لیے اس بیماری میں مبتلا کر سکتی ہے۔
4. منشیات کا استعمال
نشہ کرنے والے افراد جب ایک ہی سرنج کو گروہ کی صورت میں استعمال کرتے ہیں، تو وائرس کی منتقلی کے امکانات سو فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔
جگر کی تباہی کا سفر: مراحل اور علامات
ہیپاٹائٹس سی کا وائرس جسم میں داخل ہونے کے بعد دو مراحل سے گزرتا ہے:
ایکیوٹ (Acute) مرحلہ: یہ انفیکشن کے ابتدائی 6 ماہ کا عرصہ ہوتا ہے۔ اکثر لوگوں میں اس دوران کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی، یا پھر معمولی بخار اور تھکن محسوس ہوتی ہے۔
کرونک (Chronic) مرحلہ: اگر جسم کا مدافعتی نظام خود سے وائرس کو ختم نہ کر سکے (جو کہ 80 فیصد کیسز میں ہوتا ہے)، تو یہ دائمی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ مرحلہ 10 سے 20 سال تک محیط ہو سکتا ہے، جس کے آخر میں جگر مکمل طور پر ناکارہ ہو جاتا ہے۔
عام علامات: مسلسل تھکاوٹ، جوڑوں کا درد، جلد اور آنکھوں کا پیلا ہونا (یرقان)، پیٹ میں پانی بھر جانا، اور خون کی الٹیاں آنا اس کی آخری مراحل کی علامات ہیں۔
تشخیص کی اہمیت اور جدید علاج
ماضی میں ہیپاٹائٹس سی کا علاج بہت مہنگا اور تکلیف دہ تھا، جس میں انجکشن (Interferon) لگائے جاتے تھے جن کے مضر اثرات بہت زیادہ تھے۔ لیکن خوش قسمتی سے اب جدید میڈیکل سائنس نے اس کا حل ڈھونڈ لیا ہے۔
اب "براہِ راست اثر کرنے والی ادویات” (DAAs) دستیاب ہیں، جو کہ گولیوں کی صورت میں ہوتی ہیں۔ ان ادویات کے ذریعے 3 سے 6 ماہ کے کورس کے بعد 95 فیصد سے زائد مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں حکومت اور مختلف فلاحی ادارے ان ادویات کو کم قیمت یا مفت فراہم کر رہے ہیں۔ تاہم، مسئلہ صرف علاج کا نہیں بلکہ تشخیص کا ہے؛ جب تک مریض ٹیسٹ نہیں کروائے گا، اسے اپنی بیماری کا پتہ نہیں چلے گا۔
حکومت اور معاشرے کی ذمہ داری
ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے حکومت پاکستان نے "وزیرِ اعظم ہیپاٹائٹس ایلیمینیشن پروگرام” شروع کیا ہے، جس کا مقصد 2030 تک ملک سے اس بیماری کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔ لیکن یہ ہدف تب ہی حاصل ہو سکتا ہے جب:
عطائی ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
عوامی سطح پر آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ لوگ ہر سال اپنا سکریننگ ٹیسٹ کروائیں۔
ہسپتالوں میں ویسٹ مینجمنٹ اور آلات کی صفائی کے عالمی معیار اپنائے جائیں۔
انفرادی سطح پر احتیاطی تدابیر
ہم سب کو اپنی زندگیوں میں چند تبدیلیاں لا کر خود کو محفوظ رکھنا ہوگا:
ہمیشہ نئی اور ڈسپوزایبل سرنج کا استعمال یقینی بنائیں۔
حجام سے شیو بنواتے وقت نیا بلیڈ استعمال کرنے پر اصرار کریں۔
دانتوں کے علاج یا سرجری کے لیے صرف مستند ڈاکٹرز اور ہسپتالوں کا رخ کریں۔
خون کی منتقلی صرف رجسٹرڈ بلڈ بینکوں سے کریں جہاں سکریننگ کی سہولت موجود ہو۔
خلاصہ
پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کا پھیلاؤ محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی المیہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ بیماری غریب خاندانوں کو معاشی طور پر تباہ کر دیتی ہے کیونکہ جگر کی پیوند کاری (Liver Transplant) کا خرچہ لاکھوں روپے میں ہے جو کہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ ہمیں "احتیاط علاج سے بہتر ہے” کے مقولے پر عمل کرتے ہوئے اس خاموش قاتل کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔
صرف بروقت تشخیص، درست علاج اور حفاظتی تدابیر کے ذریعے ہی ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند پاکستان دے سکتے ہیں۔
